Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1768 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.6K Views

کیا اللہ تعالی کے ہنسنے یا مسکرانے کا قرآن کریم یا حدیث سے کوئی ثبوت ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا اللہ تعالی کے ہنسنے یا مسکرانے کا قرآن کریم یا حدیث سے کوئی ثبوت ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا اللہ تعالی کے ہنسنے یا مسکرانے کا قرآن کریم یا حدیث سے کوئی ثبوت ہے؟

اس بارے میں اہل سنت وجماعت کا کیا عقیدہ ہے؟ آپ کے جواب کا منتظر، برائے کرم اس بارے میں رہنمائی فرماویں۔ المستفسر:حافظ محمد احسان جامعہ المرکز الاسلامی فضل پارک شاد باغ لاھور الجواب بتوفیق اللہ الملک الوھاب بسم الله الرحمن الرحيم مسلم شریف: ۱/۱۰۵ باب إثبات الشفاعة وإخراج الموٴحدین من النار پر ایک طویل حدیث میں اللہ تعالیٰ کے ہنسنے کا ذکر موجود ہے، فضحک ابن مسعود فقال: ألا تسألوني مم أضحک قالوا مم تضحک فقال: هکذا ضحک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقالوا مم تضحک یا رسول اللہ فقال: من ضحک رب العالمین حین قال أتستہزئ مني وأنت رب العالمین فیقول: إني لا أستہزئ ولکني علی ما أشاء قادر (مسلم شریف) اہل سنت و جماعت کے نزدیک ضحک سے مراد اللہ تعالیٰ کا راضی ہونا اورخیر اور رحمت کا ارادہ کرنا ہے، حقیقی ضحک مراد نہیں ہے، قد قدمنا معنی الضحک من اللہ تعالی وهو الرضی والرحمة وإرادة الخیر لمن یشاء رحمتہ من عبادہ (حاشیہ مسلم) واللہ و رسولہ اعلم بالصواب مفتی عبداللطیف قادری مہتمم جامعہ المرکز الاسلامی فضل پارک شاد باغ لاھور

Kutubahu & Verified by:

<h3>کیا اللہ تعالی کے ہنسنے یا مسکرانے کا قرآن کریم یا حدیث سے کوئی ثبوت ہے؟</h3> اس بارے میں اہل سنت وجماعت کا کیا عقیدہ ہے؟ آپ کے جواب کا منتظر، برائے کرم اس بارے میں رہنمائی فرماویں۔ المستفسر:حافظ محمد احسان جامعہ المرکز الاسلامی فضل پارک شاد باغ لاھور <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بتوفیق اللہ الملک الوھاب</strong></span> بسم الله الرحمن الرحيم مسلم شریف: ۱/۱۰۵ باب إثبات الشفاعة وإخراج الموٴحدین من النار پر ایک طویل حدیث میں اللہ تعالیٰ کے ہنسنے کا ذکر موجود ہے، فضحک ابن مسعود فقال: ألا تسألوني مم أضحک قالوا مم تضحک فقال: هکذا ضحک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقالوا مم تضحک یا رسول اللہ فقال: من ضحک رب العالمین حین قال أتستہزئ مني وأنت رب العالمین فیقول: إني لا أستہزئ ولکني علی ما أشاء قادر (مسلم شریف) اہل سنت و جماعت کے نزدیک ضحک سے مراد اللہ تعالیٰ کا راضی ہونا اورخیر اور رحمت کا ارادہ کرنا ہے، حقیقی ضحک مراد نہیں ہے، قد قدمنا معنی الضحک من اللہ تعالی وهو الرضی والرحمة وإرادة الخیر لمن یشاء رحمتہ من عبادہ (حاشیہ مسلم) واللہ و رسولہ اعلم بالصواب مفتی عبداللطیف قادری مہتمم جامعہ المرکز الاسلامی فضل پارک شاد باغ لاھور

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...