Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1769 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.7K Views

جو تجوید کے ساتھ صحیح قرآن پاک نہیں پڑھ سکتے ان کا کیا حکم ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

جو تجوید کے ساتھ صحیح قرآن پاک نہیں پڑھ سکتے ان کا کیا حکم ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

جو تجوید کے ساتھ صحیح قرآن پاک نہیں پڑھ سکتے ان کا کیا حکم ہے؟۔ گجراتی میں قرآن پڑھنا کیسا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کچھ لوگ قرآن مجید عربی زبان میں پڑھ ليتے ہیں مگر صحیح مخارج و صفات کے ساتھ نہیں پڑھتے اور کچھ لوگ جو عربی زبان میں قرآن مجید نہیں پڑھ سکتے کیا وہ گجراتی زبان میں قرآن مجید پڑھ سکتے ہیں ان دونوں کے لیے کیا حکم ہے کیا اسی طرح پڑھتے رہیں یا تلاوت بند کردیں یا تلاوت ترک کر کے صرف قرآن مجید کا ترجمہ پڑھیں ان کے لیے صحیح راستہ کیا ہے ؟ المستفتی مشتاق احمد گجرات انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب قرآن پاک کو تجوید کے ساتھ پڑھنے کی علمائے کرام نے تین حدود بیان فرمائی ہیں: (١)قرآن عظیم ٹھہر ٹھہر کراتنی آہستگی کے ساتھ تلاوت کرنا کہ سننے والا چاہے ، تو ہر کلمے کو جدا جدا گن سکے،نیز حروف کو اُن کی صفات شدّت و جہر و امثالہا کے حقوق پورے دیے جائیں، اظہار و اخفا ، تفخیم و ترقیق وغیرہا محسنات کا لحاظ رکھا جائے ،اس قدر تجوید کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت مسنون ہے اور اس کا ترک مکروہ و ناپسندہے۔ (٢) مدووقف ووصل کے ضروریات اپنے اپنے مواقع پر ادا ہوں، کھڑے پڑے(زیر ، زبر ) کا لحاظ رکھا جائے،بالجملہ کوئی حرف و حرکت بے محل دوسرے کی شان اخذنہ کرے ،نہ کوئی حرف چھُوٹ جائے، نہ کوئی اجنبی پیدا ہو، نہ محدود ومقصور ہو، نہ ممدود،اس قدرتجوید کے ساتھ قرآن پاک پڑھنا فرض و واجب ہے اور اس کا تارک گنہگار ہے۔ (٣)حروف وحرکات کی تصحیح ،ا ع،ت ط، ث س ص، ح ہ ،ذ ز ظ وغیرہا میں تمیز کرنا ،غرض ہرکمی و زیادتی و تبدیلی جو معنی کو فاسد کر دےاس سے احتراز کرنا،یہ بھی فرض ہے ۔ لہذا صورت مستفسرہ میں ایسا شخص جو قرآن پاک کو اس قدر تجوید کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا جتنی تجوید کے ساتھ قرآن پاک پڑھنا فرض ہے تو اس پر بحسب قدرت پہلے تجوید کا سیکھنا لازم ہے اس کے بعد تلاوتِ قرآن کرے کہ بغیر اس کے لحن (غلطی) کرے گا اور قرآن پاک میں لحن کرنا حرام ہے۔ اور گجراتی زبان میں تلاوت کرنے میں بھی لحن ہوگا کہ عربی کے وہ حروف جن جیسا گجراتی میں کوئی حرف نہیں ان کو گجراتی زبان کے کسی حرف سے بدل کر پڑھے گا اور یہ حرام ہے۔ قرآن پاک میں ہے: وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا الآیۃ ’’(سورۃ المزمل آیت٤) اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔‘‘(کنزالایمان) اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے:’’رعایتِ وقوف اور ادائے مخارج کے ساتھ اور حروف کو مخارج کے ساتھ تا بہ امکان صحیح ادا کرنا نماز میں فرض ہے ۔‘‘اھ فتاوی ہندیہ میں ہے : ’’اللحن حرام بلا خلاف ‘‘ یعنی لحن (قرآن پاک میں غلطی)بالاتفاق حرام ہے۔(فتاوی ھندیہ, ج٥ , ص٣٩٢, کتاب الکراھیۃ, باب الصلوٰۃ التسبیح وقراۃ القرآن , دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان) علامہ مرتضی زبیدی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں:’’ والذي يكثر اللحن في القرآن إن كان قادرا على التعلم فليمتنع عن القراءة قبل التعلم فإنه عاص به ‘‘اھ یعنی وہ شخص جو قرآن پاک پڑھنے میں زیادہ غلطیاں کرتا ہے اگر وہ سیکھنے پر قادر ہے، تو وہ سیکھنے سے پہلے قرآن پاک پڑھنے سے رُکا رہے ،کیونکہ وہ اس کے سبب گنہگار ہوتاہے۔ (اتحاف السعادۃ المتقین , ج٨, ص١١١, کتاب الامر بالمعروف والنھی عن المنکر, الباب الثالث, دار الکتب العلمیۃ بیروت لبنان) امام اہلسنت ،اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن تحریر فرماتے ہیں:’’ بلاشبہہ اتنی تجوید جس سے تصحیح حرف ہو اور غلط خوانی سے بچے فرض عین ہے ” اھ (فتاوی رضویہ مترجم ج٦, ص٣٤٣, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) مزید اسی میں ایک مقام پر فرماتے ہیں:’’ ترتیل کی تین حدیں ہیں۔ ہر حد اعلیٰ میں اس کے بعد کی حد ماخوز و ملحوظ ہے۔حد اوّل :یہ کہ قرآن عظیم ٹھہر ٹھہر کر بآہستگی تلاوت کرے کہ سامع چاہے تو ہر کلمے کو جدا جدا گِن سکے….. الفاظ بہ تفخیم ادا ہوں ، حروف کو ان کی صفات شدت و جہر وامثالھا کے حقوق پورے دئے جائیں،اظہار و اخفا و تفخیم و ترقیق وغیرہا محسنات کا لحاظ رکھا جائے، یہ مسنون ہے اور اس کا ترک مکروہ و ناپسند….. دوم :مدووقف ووصل کے ضروریات اپنے اپنے مواقع پر ادا ہوں، کھڑے پڑے کا لحاظ رہے،حروف مذکورہ جن کے قبل نون یا میم ہوان کے بعد غنّہ نہ نکلے انّا کُنّا کو ان کن یا انّاں کنّاں نہ پڑھا جائے ،باوجیم ساکنین جن کے بعد”ت”ہو بشدت ادا کیے جائیں کہ پ اور چ کی آواز نہ دیں ، جہال جلدی میں ابتر اور تجتنبوا کو اپتر اور تچتنبوا پڑھتے ہیں، حروف مطبقہ کا کسرہ ضمہ کی طرف مائل نہ ہونے پائے ۔ جہاں جب صراط وقاطعہ میں ص وط کے اجتماع میں مثلًا”یستطیعون””لاتطع”بے خیالی کرنے والوں سے حرف تا بھی مشابہ طا ادا ہوتا ہے، بلکہ بعض سے”عتو”میں بھی بوجہ تفخیم عین و ضمہ تا آواز مشابہ طا پیدا ہوتی ہے ۔ بالجملہ کوئی حرف و حرکت بے محل دوسرے کی شان اخذنہ کرے ،نہ کوئی حرف چُھوٹ جائے، نہ کوئی اجنبی پیدا ہو، نہ محدود ومقصود ہو نہ ممدود. اس قدر ترتیل فرض و واجب ہے اور اس کا تارک گنہگار….. سوم :جو حروف وحرکات کی تصحیح ا ع،ت ط، ث س ص، ح ہ ،ذ ز ظ وغیرہا میں تمیز کرے ۔ غرض ہر نقص و زیادت و تبدیل سے کہ مفسد معنی ہو احتراز یہ بھی فرض ہے ۔‘‘اھ (فتاوی رضویہ مترجم , ج٦, ص٢٧٥ تا ٢٨١ ملتقطا , رضا فاؤنڈیشن،لاھور) اسی میں ہے: “ض ظ ذ ز معجمات سب حروف متبائنہ متغائرہ ہیں ان میں کسی دوسرے سے تلاوت قرآن میں قصدا بدلنا اس کی جگہ اسے پڑھنا نماز میں خواہ بیرون نماز حرام قطعی و گناہ عظیم ،افتراء علی ﷲ و تحریف کتاب کریم ہے” اھ (فتاوی رضویہ مترجم ج٦, ص٣٠٥, کتاب الصلاۃ, باب القراۃ , مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا

Kutubahu & Verified by:

<h3>جو تجوید کے ساتھ صحیح قرآن پاک نہیں پڑھ سکتے ان کا کیا حکم ہے؟۔ گجراتی میں قرآن پڑھنا کیسا؟</h3> کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کچھ لوگ قرآن مجید عربی زبان میں پڑھ ليتے ہیں مگر صحیح مخارج و صفات کے ساتھ نہیں پڑھتے اور کچھ لوگ جو عربی زبان میں قرآن مجید نہیں پڑھ سکتے کیا وہ گجراتی زبان میں قرآن مجید پڑھ سکتے ہیں ان دونوں کے لیے کیا حکم ہے کیا اسی طرح پڑھتے رہیں یا تلاوت بند کردیں یا تلاوت ترک کر کے صرف قرآن مجید کا ترجمہ پڑھیں ان کے لیے صحیح راستہ کیا ہے ؟ المستفتی مشتاق احمد گجرات انڈیا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> قرآن پاک کو تجوید کے ساتھ پڑھنے کی علمائے کرام نے تین حدود بیان فرمائی ہیں: (١)قرآن عظیم ٹھہر ٹھہر کراتنی آہستگی کے ساتھ تلاوت کرنا کہ سننے والا چاہے ، تو ہر کلمے کو جدا جدا گن سکے،نیز حروف کو اُن کی صفات شدّت و جہر و امثالہا کے حقوق پورے دیے جائیں، اظہار و اخفا ، تفخیم و ترقیق وغیرہا محسنات کا لحاظ رکھا جائے ،اس قدر تجوید کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت مسنون ہے اور اس کا ترک مکروہ و ناپسندہے۔ (٢) مدووقف ووصل کے ضروریات اپنے اپنے مواقع پر ادا ہوں، کھڑے پڑے(زیر ، زبر ) کا لحاظ رکھا جائے،بالجملہ کوئی حرف و حرکت بے محل دوسرے کی شان اخذنہ کرے ،نہ کوئی حرف چھُوٹ جائے، نہ کوئی اجنبی پیدا ہو، نہ محدود ومقصور ہو، نہ ممدود،اس قدرتجوید کے ساتھ قرآن پاک پڑھنا فرض و واجب ہے اور اس کا تارک گنہگار ہے۔ (٣)حروف وحرکات کی تصحیح ،ا ع،ت ط، ث س ص، ح ہ ،ذ ز ظ وغیرہا میں تمیز کرنا ،غرض ہرکمی و زیادتی و تبدیلی جو معنی کو فاسد کر دےاس سے احتراز کرنا،یہ بھی فرض ہے ۔ لہذا صورت مستفسرہ میں ایسا شخص جو قرآن پاک کو اس قدر تجوید کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا جتنی تجوید کے ساتھ قرآن پاک پڑھنا فرض ہے تو اس پر بحسب قدرت پہلے تجوید کا سیکھنا لازم ہے اس کے بعد تلاوتِ قرآن کرے کہ بغیر اس کے لحن (غلطی) کرے گا اور قرآن پاک میں لحن کرنا حرام ہے۔ اور گجراتی زبان میں تلاوت کرنے میں بھی لحن ہوگا کہ عربی کے وہ حروف جن جیسا گجراتی میں کوئی حرف نہیں ان کو گجراتی زبان کے کسی حرف سے بدل کر پڑھے گا اور یہ حرام ہے۔ قرآن پاک میں ہے: وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا الآیۃ ’’(سورۃ المزمل آیت٤) اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔‘‘(کنزالایمان) اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے:’’رعایتِ وقوف اور ادائے مخارج کے ساتھ اور حروف کو مخارج کے ساتھ تا بہ امکان صحیح ادا کرنا نماز میں فرض ہے ۔‘‘اھ فتاوی ہندیہ میں ہے : ’’اللحن حرام بلا خلاف ‘‘ یعنی لحن (قرآن پاک میں غلطی)بالاتفاق حرام ہے۔(فتاوی ھندیہ, ج٥ , ص٣٩٢, کتاب الکراھیۃ, باب الصلوٰۃ التسبیح وقراۃ القرآن , دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان) علامہ مرتضی زبیدی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں:’’ والذي يكثر اللحن في القرآن إن كان قادرا على التعلم فليمتنع عن القراءة قبل التعلم فإنه عاص به ‘‘اھ یعنی وہ شخص جو قرآن پاک پڑھنے میں زیادہ غلطیاں کرتا ہے اگر وہ سیکھنے پر قادر ہے، تو وہ سیکھنے سے پہلے قرآن پاک پڑھنے سے رُکا رہے ،کیونکہ وہ اس کے سبب گنہگار ہوتاہے۔ (اتحاف السعادۃ المتقین , ج٨, ص١١١, کتاب الامر بالمعروف والنھی عن المنکر, الباب الثالث, دار الکتب العلمیۃ بیروت لبنان) امام اہلسنت ،اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن تحریر فرماتے ہیں:’’ بلاشبہہ اتنی تجوید جس سے تصحیح حرف ہو اور غلط خوانی سے بچے فرض عین ہے " اھ (فتاوی رضویہ مترجم ج٦, ص٣٤٣, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) مزید اسی میں ایک مقام پر فرماتے ہیں:’’ ترتیل کی تین حدیں ہیں۔ ہر حد اعلیٰ میں اس کے بعد کی حد ماخوز و ملحوظ ہے۔حد اوّل :یہ کہ قرآن عظیم ٹھہر ٹھہر کر بآہستگی تلاوت کرے کہ سامع چاہے تو ہر کلمے کو جدا جدا گِن سکے..... الفاظ بہ تفخیم ادا ہوں ، حروف کو ان کی صفات شدت و جہر وامثالھا کے حقوق پورے دئے جائیں،اظہار و اخفا و تفخیم و ترقیق وغیرہا محسنات کا لحاظ رکھا جائے، یہ مسنون ہے اور اس کا ترک مکروہ و ناپسند..... دوم :مدووقف ووصل کے ضروریات اپنے اپنے مواقع پر ادا ہوں، کھڑے پڑے کا لحاظ رہے،حروف مذکورہ جن کے قبل نون یا میم ہوان کے بعد غنّہ نہ نکلے انّا کُنّا کو ان کن یا انّاں کنّاں نہ پڑھا جائے ،باوجیم ساکنین جن کے بعد"ت"ہو بشدت ادا کیے جائیں کہ پ اور چ کی آواز نہ دیں ، جہال جلدی میں ابتر اور تجتنبوا کو اپتر اور تچتنبوا پڑھتے ہیں، حروف مطبقہ کا کسرہ ضمہ کی طرف مائل نہ ہونے پائے ۔ جہاں جب صراط وقاطعہ میں ص وط کے اجتماع میں مثلًا"یستطیعون""لاتطع"بے خیالی کرنے والوں سے حرف تا بھی مشابہ طا ادا ہوتا ہے، بلکہ بعض سے"عتو"میں بھی بوجہ تفخیم عین و ضمہ تا آواز مشابہ طا پیدا ہوتی ہے ۔ بالجملہ کوئی حرف و حرکت بے محل دوسرے کی شان اخذنہ کرے ،نہ کوئی حرف چُھوٹ جائے، نہ کوئی اجنبی پیدا ہو، نہ محدود ومقصود ہو نہ ممدود. اس قدر ترتیل فرض و واجب ہے اور اس کا تارک گنہگار..... سوم :جو حروف وحرکات کی تصحیح ا ع،ت ط، ث س ص، ح ہ ،ذ ز ظ وغیرہا میں تمیز کرے ۔ غرض ہر نقص و زیادت و تبدیل سے کہ مفسد معنی ہو احتراز یہ بھی فرض ہے ۔‘‘اھ (فتاوی رضویہ مترجم , ج٦, ص٢٧٥ تا ٢٨١ ملتقطا , رضا فاؤنڈیشن،لاھور) اسی میں ہے: "ض ظ ذ ز معجمات سب حروف متبائنہ متغائرہ ہیں ان میں کسی دوسرے سے تلاوت قرآن میں قصدا بدلنا اس کی جگہ اسے پڑھنا نماز میں خواہ بیرون نماز حرام قطعی و گناہ عظیم ،افتراء علی ﷲ و تحریف کتاب کریم ہے" اھ (فتاوی رضویہ مترجم ج٦, ص٣٠٥, کتاب الصلاۃ, باب القراۃ , مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...