Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1770 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.8K Views

وارثین میں دوبیویاں تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہوں تو ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

وارثین میں دوبیویاں تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہوں تو ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

وارثین میں دوبیویاں تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہوں تو ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟

میرا عریضہ یہ ہے کہ زید کا انتقال ہوگیا ہے اس کے وارثین میں اس کی دو بیویاں ہیں ان میں سے ایک بیوی سے ایک لڑکی ہے اور دوسری بیوی سے دو لڑکیاں اور دو لڑکے ہیں اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان میں سے زید کے ترکہ میں سے کس کو کتنا ملے گا جواب عنایت فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں بعد تقدیم ماتقدم وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین کل ترکہ کو سولہ حصوں میں تقسیم کریں گے اور اس میں سے ایک ایک حصہ دونوں بیویوں کو دیں گے اور دو دو حصے تینوں بیٹیوں کو دیں گے اور چار چار حصے دونوں بیٹوں کو دیں گے۔ کہ فرمان باری تعالی ہے:” یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ” اھ (سورۃ النساء آیت ١١) ترجمہ: “اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے ” (کنزالایمان) نیز ارشاد فرمایا: “فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ” اھ (سورۃ النساء آیت ١٢) یعنی اگر تمہارے اولاد ہو تو تمہارے ترکہ میں سے تمہاری بیویوں کا آٹھواں حصہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

Kutubahu & Verified by:

<h3>وارثین میں دوبیویاں تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہوں تو ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟</h3> میرا عریضہ یہ ہے کہ زید کا انتقال ہوگیا ہے اس کے وارثین میں اس کی دو بیویاں ہیں ان میں سے ایک بیوی سے ایک لڑکی ہے اور دوسری بیوی سے دو لڑکیاں اور دو لڑکے ہیں اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان میں سے زید کے ترکہ میں سے کس کو کتنا ملے گا جواب عنایت فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> صورت مستفسرہ میں بعد تقدیم ماتقدم وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین کل ترکہ کو سولہ حصوں میں تقسیم کریں گے اور اس میں سے ایک ایک حصہ دونوں بیویوں کو دیں گے اور دو دو حصے تینوں بیٹیوں کو دیں گے اور چار چار حصے دونوں بیٹوں کو دیں گے۔ کہ فرمان باری تعالی ہے:" یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ " اھ (سورۃ النساء آیت ١١) ترجمہ: "اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے " (کنزالایمان) نیز ارشاد فرمایا: "فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم " اھ (سورۃ النساء آیت ١٢) یعنی اگر تمہارے اولاد ہو تو تمہارے ترکہ میں سے تمہاری بیویوں کا آٹھواں حصہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔</strong></span> <span style="color: #ff0000;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...