Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1774
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.3K Views
قصہ ہاروت وماروت کی شرعی حیثیت از علامہ کمال احمد علیمی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
قصہ ہاروت وماروت کی شرعی حیثیت از علامہ کمال احمد علیمی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
قصہ ہاروت وماروت کی شرعی حیثیت
کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام ۔ کہ ہاروت وماروت دو۲ فرشتے ہیں ان کے پاس ایک لڑکی آئ ان دو فرشتوں نے اپنی خواہش پوری کرنے کا اظہار کیا اس لڑکی نے کہا مجھے اسم اعظم سکھا دیجئے تو فرشتوں نے سکھایا اور لڑکی سیکھ کر آسمان کے طرف چلی گئ تو اس کا نام زہرہ ستارہ ہے آج بھی آسمان میں چمکتا ہے دلائل براہین سے جواب عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں ۔المستفتی حضرت مولانا عبدالستار صاحب نوری ۔مقام رہرا پوسٹ پرسابلہری ضلع سدھارتھ نگر یوپی الجواب بعون الملک الوھاب جمہور مفسرین کرام، محدثین عظام اور محققین اسلام کے نزدیک سوال میں مذکور واقعہ باطل اور موضوع اسرائیلی روایت ہے. قرآن مجید میں ہے : وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَۚ-وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَۗ-وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَؕ-وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْؕ-فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖؕ-وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْؕ-وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ﳴ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْؕ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(۱۰۲) ترجمہ: کنزالعرفان اور یہ سلیمان اور یہ سلیمان کے عہدِ حکومت میں اس جادو کے پیچھے پڑگئے جو شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے کفر نہ کیابلکہ شیطان کافر ہوئے جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور (یہ تو اس جادو کے پیچھے بھی پڑگئے تھے)جو بابل شہر میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پراتارا گیاتھا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو صرف(لوگوں کا) امتحان ہیں تو(اے لوگو!تم ) اپنا ایمان ضائع نہ کرو۔وہ لوگ ان فرشتوں سے ایسا جادوسیکھتے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال دیں حالانکہ وہ اس کے ذریعے کسی کو اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے اور یہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انہیں نقصان دے اور انہیں نفع نہ دے اور یقینا انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا ہے آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور انہوں نے اپنی جانوں کا کتنا برا سودا کیا ہے، کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ جانتے۔ ان آیات کی تفسیر میں امام ابن کثیر فرماتے ہیں: وكل ما عدا ظاهر القرآن في حال هذين الملَكين: فهو من الإسرائيليات ، يردها ما ثبت من عصمة الملائكة ، على وجه العموم ، دون ورود استثناء لهذا لأصل العام: ( وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ * لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ * يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى وَهُمْ مِنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ ) الأنبياء/26-28 . اسی میں ہے : وقد روي في قصة “هاروت وماروت” عن جماعة من التابعين، كمجاهد ، والسدي ، والحسن البصري، وقتادة، وأبي العالية، والزهري، والربيع بن أنس، ومقاتل بن حيان، وغيرهم، وقصها خلق من المفسرين ، من المتقدمين والمتأخرين، وحاصلها راجع في تفصيلها إلى أخبار بني إسرائيل، إذ ليس فيها حديث مرفوع صحيح متصل الإسناد إلى الصادق المصدوق المعصوم الذي لا ينطق عن الهوى، وظاهر سياق القرآن: إجمال القصة من غير بسط ، ولا إطناب فيها ، فنحن نؤمن بما ورد في القرآن ، على ما أراده الله تعالى ، والله أعلم بحقيقة الحال . “تفسير ابن كثير” (1 / 360) اس سے ثابت ہوا کہ مذکورہ واقعہ ان اسرائیلی روایات میں سے ہے جو شریعت میں مردود ہیں، کیوں کہ یہ ایک مسلمہ عقیدہ “عصمت ملائکہ” کے خلاف ہے. قرآن مجید میں ہے : وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗؕ-بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ(۲۶)لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ(الانبیاء :۲۷) ترجمہ: کنزالایمان اور بولے رحمٰن نے بیٹا اختیار کیا پاک ہے وہ بلکہ بندے ہیں عزت والے بات میں اُس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے حکم پر کاربند ہوتے ہیں وہ جانتا ہے۔ مزید ارشاد ہے : یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَۙ-اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ(الانبیاء :۲۸) وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ صرف اسی کی شفاعت کرتے ہیں جسے اللہ پسند فرمائے اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں ۔ مزید ارشاد ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ. اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ،اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔(التحریم :٦) ان آیات سے ثابت ہوا کہ فرشتے معصوم ہیں، جب کہ مذکورہ واقعہ سے فرشتوں کا گنہ گار ہونا ثابت ہورہا ہے. امام اہل سنت، اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ’’ہاروت اور ماروت کا واقعہ جس طرح عوام میں مشہور ہے ائمہ کرام اس کا شدید اور سخت انکار کرتے ہیں ، اس کی تفصیل شفاء شریف اور اس کی شروحات میں موجود ہے، یہاں تک کہ امام اجل قاضی عیاض رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: ’’ہاروت اور ماروت کے بارے میں یہ خبریں یہودیوں کی کتابوں اور ان کی گھڑی ہوئی باتوں میں سے ہیں۔ اور راجح یہی ہے کہ ہاروت اور ماروت دو فرشتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی آزمائش کے لئے مقرر فرمایا کہ جو جادو سیکھنا چاہے اسے نصیحت کریں کہ ’’اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ‘‘ ہم توآزمائش ہی کے لئے مقررہوئے ہیں توکفرنہ کر۔ اور جو ان کی بات نہ مانے وہ اپنے پاؤں پہ چل کے خودجہنم میں جائے،یہ فرشتے اگر اسے جادو سکھاتے ہیں تو وہ فرمانبرداری کر رہے ہیں نہ کہ نافرمانی کر رہے ہیں۔(الشفاء، فصل فی القول فی عصمۃ الملائکۃ، ص۱۷۵-۱۷۶، الجزء الثانی، فتاوی رضویہ، کتاب الشتی، ۲۶ / ۳۹۷) واللہ اعلم بالصواب کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ٨جون ٢٠٢٢/ ٧ذوالقعدہ ١٤٤٣ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
Kutubahu & Verified by:
<h2>قصہ ہاروت وماروت کی شرعی حیثیت</h2> کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام ۔ کہ ہاروت وماروت دو۲ فرشتے ہیں ان کے پاس ایک لڑکی آئ ان دو فرشتوں نے اپنی خواہش پوری کرنے کا اظہار کیا اس لڑکی نے کہا مجھے اسم اعظم سکھا دیجئے تو فرشتوں نے سکھایا اور لڑکی سیکھ کر آسمان کے طرف چلی گئ تو اس کا نام زہرہ ستارہ ہے آج بھی آسمان میں چمکتا ہے دلائل براہین سے جواب عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں ۔المستفتی حضرت مولانا عبدالستار صاحب نوری ۔مقام رہرا پوسٹ پرسابلہری ضلع سدھارتھ نگر یوپی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> جمہور مفسرین کرام، محدثین عظام اور محققین اسلام کے نزدیک سوال میں مذکور واقعہ باطل اور موضوع اسرائیلی روایت ہے. قرآن مجید میں ہے : وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَۚ-وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَۗ-وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَؕ-وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْؕ-فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖؕ-وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْؕ-وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ﳴ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْؕ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(۱۰۲) ترجمہ: کنزالعرفان اور یہ سلیمان اور یہ سلیمان کے عہدِ حکومت میں اس جادو کے پیچھے پڑگئے جو شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے کفر نہ کیابلکہ شیطان کافر ہوئے جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور (یہ تو اس جادو کے پیچھے بھی پڑگئے تھے)جو بابل شہر میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پراتارا گیاتھا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو صرف(لوگوں کا) امتحان ہیں تو(اے لوگو!تم ) اپنا ایمان ضائع نہ کرو۔وہ لوگ ان فرشتوں سے ایسا جادوسیکھتے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال دیں حالانکہ وہ اس کے ذریعے کسی کو اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے اور یہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انہیں نقصان دے اور انہیں نفع نہ دے اور یقینا انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا ہے آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور انہوں نے اپنی جانوں کا کتنا برا سودا کیا ہے، کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ جانتے۔ ان آیات کی تفسیر میں امام ابن کثیر فرماتے ہیں: وكل ما عدا ظاهر القرآن في حال هذين الملَكين: فهو من الإسرائيليات ، يردها ما ثبت من عصمة الملائكة ، على وجه العموم ، دون ورود استثناء لهذا لأصل العام: ( وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ * لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ * يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى وَهُمْ مِنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ ) الأنبياء/26-28 . اسی میں ہے : وقد روي في قصة "هاروت وماروت" عن جماعة من التابعين، كمجاهد ، والسدي ، والحسن البصري، وقتادة، وأبي العالية، والزهري، والربيع بن أنس، ومقاتل بن حيان، وغيرهم، وقصها خلق من المفسرين ، من المتقدمين والمتأخرين، وحاصلها راجع في تفصيلها إلى أخبار بني إسرائيل، إذ ليس فيها حديث مرفوع صحيح متصل الإسناد إلى الصادق المصدوق المعصوم الذي لا ينطق عن الهوى، وظاهر سياق القرآن: إجمال القصة من غير بسط ، ولا إطناب فيها ، فنحن نؤمن بما ورد في القرآن ، على ما أراده الله تعالى ، والله أعلم بحقيقة الحال . "تفسير ابن كثير" (1 / 360) اس سے ثابت ہوا کہ مذکورہ واقعہ ان اسرائیلی روایات میں سے ہے جو شریعت میں مردود ہیں، کیوں کہ یہ ایک مسلمہ عقیدہ "عصمت ملائکہ" کے خلاف ہے. قرآن مجید میں ہے : وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗؕ-بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ(۲۶)لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ(الانبیاء :۲۷) ترجمہ: کنزالایمان اور بولے رحمٰن نے بیٹا اختیار کیا پاک ہے وہ بلکہ بندے ہیں عزت والے بات میں اُس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے حکم پر کاربند ہوتے ہیں وہ جانتا ہے۔ مزید ارشاد ہے : یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَۙ-اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ(الانبیاء :۲۸) وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ صرف اسی کی شفاعت کرتے ہیں جسے اللہ پسند فرمائے اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں ۔ مزید ارشاد ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ. اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ،اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔(التحریم :٦) ان آیات سے ثابت ہوا کہ فرشتے معصوم ہیں، جب کہ مذکورہ واقعہ سے فرشتوں کا گنہ گار ہونا ثابت ہورہا ہے. امام اہل سنت، اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ’’ہاروت اور ماروت کا واقعہ جس طرح عوام میں مشہور ہے ائمہ کرام اس کا شدید اور سخت انکار کرتے ہیں ، اس کی تفصیل شفاء شریف اور اس کی شروحات میں موجود ہے، یہاں تک کہ امام اجل قاضی عیاض رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: ’’ہاروت اور ماروت کے بارے میں یہ خبریں یہودیوں کی کتابوں اور ان کی گھڑی ہوئی باتوں میں سے ہیں۔ اور راجح یہی ہے کہ ہاروت اور ماروت دو فرشتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی آزمائش کے لئے مقرر فرمایا کہ جو جادو سیکھنا چاہے اسے نصیحت کریں کہ ’’اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ‘‘ ہم توآزمائش ہی کے لئے مقررہوئے ہیں توکفرنہ کر۔ اور جو ان کی بات نہ مانے وہ اپنے پاؤں پہ چل کے خودجہنم میں جائے،یہ فرشتے اگر اسے جادو سکھاتے ہیں تو وہ فرمانبرداری کر رہے ہیں نہ کہ نافرمانی کر رہے ہیں۔(الشفاء، فصل فی القول فی عصمۃ الملائکۃ، ص۱۷۵-۱۷۶، الجزء الثانی، فتاوی رضویہ، کتاب الشتی، ۲۶ / ۳۹۷) واللہ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٨جون ٢٠٢٢/ ٧ذوالقعدہ ١٤٤٣</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...