Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1776
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.5K Views
جانور میں کس طرح کے عیوب مانع قربانی ہیں؟مفتی محمدرضا مرکزی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
جانور میں کس طرح کے عیوب مانع قربانی ہیں؟مفتی محمدرضا مرکزی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
جانور میں کس طرح کے عیوب مانع قربانی ہیں؟
سوال : جانور میں کس طرح کے عیوب مانع قربانی ہیں؟ الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب مندرجہ ذیل عیب دار جانوروں کی قربانی درست نہیں ہے ایسامجنون جانورجو جنون کی وجہ سے چارہ نہ کھاتا ہو۔ ایساخارش زدہ جانور جو خارش کی وجہ سے بے حد کمزور ہوگیا ہو۔ ایسا جانور جو دیکھ نہ سکتا ہو۔ ایسا جانور جو بهت هي لاغر ہو۔ ایسا جانور جو قربان گاہ کی طرف خود نہ چل سکتا ہو۔ ایسا جانور جس کا ایک تہائی کان، یا دم، یا بینائی، یا چکتی کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ جا چکا ہو۔ ایسا جانور جس کے پیدائشی کان نہ ہوں۔ ایسا جانور جس کے تھنوں کا سرا کٹا ہوا ہو۔ ایسا جانور جس کے تھن خشک ہوگئے ہوں، (گائے کے دو تھن خشک ہوچکے ہوں اور بکری یا ایک تھن خشک ہوجائے تو قربانی درست نہیں ہوگی)۔ ایسا جانور جس کی ناک کٹی ہوئی ہو۔ ایسا جانور جو خنثی ہو۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 323) قربانی کا جانور بے عَیب ہونا ضَروری ہے اگرتھوڑا سا عیب ہو( مَثَلاً کان میں چِیرا یا سُوراخ ہو)تو قربانی مکروہ ہوگی اورزیادہ عیب ہوتو قربانی نہیں ہوگی ۔ (بہارِ شریعت ج۳ص۳۴۰ ) مُطلَقاًچھ ماہ کے دُنبے کی قربانی جائز نہیں ، اس کا اِتنا فَربَہ(یعنی تگڑا) اور قد آور ہونا ضَروری ہے کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا لگے ۔ اگر 6ماہ بلکہ سا ل میں ایک دن بھی کم عمر کا دُنبے یا بَھیڑ کا بچّہ دُور سے دیکھنے میں سال بھر کا نہیں لگتا تو اس کی قربانی نہیں ہو گی ۔ قربانی کا جانور بے عَیب ہونا ضَروری ہے اگرتھوڑا سا عیب ہو( مَثَلاً کان میں چِیرا یا سُوراخ ہو)تو قربانی مکروہ ہوگی اورزیادہ عیب ہوتو قربانی نہیں ہوگی ۔ (بہارِ شریعت ج۳ص۳۴۰ ) عیب دار جانوروں کی تفصیل جن کی قُربانی نہیں ہوتی ایسا پاگل جانور جو چَرتا نہ ہو ، اتنا کمزور کہ ہڈّیوں میں مَغْز نہ رہا، ( اس کی علامت یہ ہے کہ وہ دُبلے پن کی وجہ سے کھڑا نہ ہو سکے )اندھا یا ایسا کانا جس کا کاناپن ظاہِر ہو ، ایسا بیمار جس کی بیماری ظاہِر ہو ، (یعنی جو بیماری کی وجہ سے چارہ نہ کھائے )ایسا لنگڑا جو خود اپنے پاؤں سے قُربان گاہ تک نہ جاسکے ، جس کے پیدائشی کان نہ ہوں یا ایک کان نہ ہو، وحشی(یعنی جنگلی) جانور جیسے نِیل گائے ، جنگلی بکرایا خُنثیٰ جانور ( یعنی جس میں نر و مادہ دونوں کی علامتیں ہوں ) یا جَلّالہ جو صِرف غلیظ کھاتا ہو ۔ یا جس کا ایک پاؤں کاٹ لیا گیا ہو، کان، دُم یاچَکّی ایک تہائی (3 / 1)سے زیادہ کٹے ہوئے ہوں ناک کٹی ہوئی ہو ، دانت نہ ہوں (یعنی جَھڑ گئے ہوں ) ، تھن کٹے ہوئے ہوں ، یا خشک ہوں ان سب کی قربانی نا جائز ہے ۔ بکری میں ایک تھن کا خشک ہونا اورگائے ، بھینس میں دو کا خشک ہونا، ’’ناجائز‘‘ ہونے کیلئے کافی ہے ۔ (دُرِّمُختارج۹ص۵۳۵ ۔ ۵۳۷، بہارِ شریعت ج۳ص۳۴۰، ۳۴۱ ) جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں اُس کی قربانی جائز ہے ۔ اور اگر سینگ تھے مگرٹوٹ گئے ، اگر جڑ سمیت ٹوٹے ہیں تو قربانی نہ ہوگی اور صرف اوپر سے ٹوٹے ہیں جڑ سلامت ہے تو ہوجائے گی ۔ (عالمگیری ج۵ص ۲۹۷) قربانی کرتے وَقْت جانور اُچھلا کودا جس کی وجہ سے عیب پیدا ہوگیا یہ عیب مُضِر نہیں یعنی قربانی ہو جائے گی اور اگر اُچھلنے کودنے سے عیب پیدا ہوگیا اور وہ چھوٹ کر بھاگ گیا اور فورا ًپکڑکر لایا گیا اور ذَبْح کر دیا گیا جب بھی قربانی ہو جائے گی ۔ (بہارِ شریعت ج۳ص۳۴۲، دُرِّمُختارو رَدُّالْمُحتارج۹ص۵۳۹) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
Kutubahu & Verified by:
<h3>جانور میں کس طرح کے عیوب مانع قربانی ہیں؟</h3> سوال : جانور میں کس طرح کے عیوب مانع قربانی ہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong></span> مندرجہ ذیل عیب دار جانوروں کی قربانی درست نہیں ہے ایسامجنون جانورجو جنون کی وجہ سے چارہ نہ کھاتا ہو۔ ایساخارش زدہ جانور جو خارش کی وجہ سے بے حد کمزور ہوگیا ہو۔ ایسا جانور جو دیکھ نہ سکتا ہو۔ ایسا جانور جو بهت هي لاغر ہو۔ ایسا جانور جو قربان گاہ کی طرف خود نہ چل سکتا ہو۔ ایسا جانور جس کا ایک تہائی کان، یا دم، یا بینائی، یا چکتی کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ جا چکا ہو۔ ایسا جانور جس کے پیدائشی کان نہ ہوں۔ ایسا جانور جس کے تھنوں کا سرا کٹا ہوا ہو۔ ایسا جانور جس کے تھن خشک ہوگئے ہوں، (گائے کے دو تھن خشک ہوچکے ہوں اور بکری یا ایک تھن خشک ہوجائے تو قربانی درست نہیں ہوگی)۔ ایسا جانور جس کی ناک کٹی ہوئی ہو۔ ایسا جانور جو خنثی ہو۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 323) قربانی کا جانور بے عَیب ہونا ضَروری ہے اگرتھوڑا سا عیب ہو( مَثَلاً کان میں چِیرا یا سُوراخ ہو)تو قربانی مکروہ ہوگی اورزیادہ عیب ہوتو قربانی نہیں ہوگی ۔ (بہارِ شریعت ج۳ص۳۴۰ ) مُطلَقاًچھ ماہ کے دُنبے کی قربانی جائز نہیں ، اس کا اِتنا فَربَہ(یعنی تگڑا) اور قد آور ہونا ضَروری ہے کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا لگے ۔ اگر 6ماہ بلکہ سا ل میں ایک دن بھی کم عمر کا دُنبے یا بَھیڑ کا بچّہ دُور سے دیکھنے میں سال بھر کا نہیں لگتا تو اس کی قربانی نہیں ہو گی ۔ قربانی کا جانور بے عَیب ہونا ضَروری ہے اگرتھوڑا سا عیب ہو( مَثَلاً کان میں چِیرا یا سُوراخ ہو)تو قربانی مکروہ ہوگی اورزیادہ عیب ہوتو قربانی نہیں ہوگی ۔ (بہارِ شریعت ج۳ص۳۴۰ ) عیب دار جانوروں کی تفصیل جن کی قُربانی نہیں ہوتی ایسا پاگل جانور جو چَرتا نہ ہو ، اتنا کمزور کہ ہڈّیوں میں مَغْز نہ رہا، ( اس کی علامت یہ ہے کہ وہ دُبلے پن کی وجہ سے کھڑا نہ ہو سکے )اندھا یا ایسا کانا جس کا کاناپن ظاہِر ہو ، ایسا بیمار جس کی بیماری ظاہِر ہو ، (یعنی جو بیماری کی وجہ سے چارہ نہ کھائے )ایسا لنگڑا جو خود اپنے پاؤں سے قُربان گاہ تک نہ جاسکے ، جس کے پیدائشی کان نہ ہوں یا ایک کان نہ ہو، وحشی(یعنی جنگلی) جانور جیسے نِیل گائے ، جنگلی بکرایا خُنثیٰ جانور ( یعنی جس میں نر و مادہ دونوں کی علامتیں ہوں ) یا جَلّالہ جو صِرف غلیظ کھاتا ہو ۔ یا جس کا ایک پاؤں کاٹ لیا گیا ہو، کان، دُم یاچَکّی ایک تہائی (3 / 1)سے زیادہ کٹے ہوئے ہوں ناک کٹی ہوئی ہو ، دانت نہ ہوں (یعنی جَھڑ گئے ہوں ) ، تھن کٹے ہوئے ہوں ، یا خشک ہوں ان سب کی قربانی نا جائز ہے ۔ بکری میں ایک تھن کا خشک ہونا اورگائے ، بھینس میں دو کا خشک ہونا، ’’ناجائز‘‘ ہونے کیلئے کافی ہے ۔ (دُرِّمُختارج۹ص۵۳۵ ۔ ۵۳۷، بہارِ شریعت ج۳ص۳۴۰، ۳۴۱ ) جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں اُس کی قربانی جائز ہے ۔ اور اگر سینگ تھے مگرٹوٹ گئے ، اگر جڑ سمیت ٹوٹے ہیں تو قربانی نہ ہوگی اور صرف اوپر سے ٹوٹے ہیں جڑ سلامت ہے تو ہوجائے گی ۔ (عالمگیری ج۵ص ۲۹۷) قربانی کرتے وَقْت جانور اُچھلا کودا جس کی وجہ سے عیب پیدا ہوگیا یہ عیب مُضِر نہیں یعنی قربانی ہو جائے گی اور اگر اُچھلنے کودنے سے عیب پیدا ہوگیا اور وہ چھوٹ کر بھاگ گیا اور فورا ًپکڑکر لایا گیا اور ذَبْح کر دیا گیا جب بھی قربانی ہو جائے گی ۔ (بہارِ شریعت ج۳ص۳۴۲، دُرِّمُختارو رَدُّالْمُحتارج۹ص۵۳۹) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمدرضا مرکزی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس والافتا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...