Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1779
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.9K Views
تحفظ ناموس رسالت ﷺ ضروری کیوں؟ از: محمد نعیم اسماعیلی امجدی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
تحفظ ناموس رسالت ﷺ ضروری کیوں؟ از: محمد نعیم اسماعیلی امجدی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
تحفظ ناموس رسالت ﷺ ضروری کیوں؟
از: محمد نعیم اسماعیلی امجدی ایڈیٹر سہ ماہی پیام شعیب الاولیاء براؤں شریف آتی ہیں گلستان شہادت سے صدائیں آؤ کہ سبھی عہد محبت کو نبھائیں ہے غیرت ایمان کا بہر طور تقاضا ناموسِ رسالت پہ چلو سر کو کٹائیں تحفظ ناموسِ رسالت کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی نبی یا رسول کی آبرو شہرت، عزت، عظمت یا شان کا لحاظ کرنا، اور ہر قسم کی عیب جوئی اور ایسے کلام سے پرہیز کرنا جس میں بے ادبی کا شائبہ بھی ہو۔ حضور خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ کی محبت جان ایمان عین ایمان ہے۔ ان کی تعظیم تمام جہان پر فرض اعظم اور ان کی توہین و بے ادبی کفر ہے ۔ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضور نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لا یومن احدکم حتیٰ اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین ۔ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا، جب تک کہ میں اسے اس کے والد ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے عزیز تر نہ ہو جاوں۔( صحیح البخاری ، کتاب الایمان ) حضور پاک ﷺ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی ناموس کی حفاظت کی جائے ۔ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : لتؤمنوا باللہ ورسولہ و تعزروہ و توقروہ و تسبحوہ بکرۃ واصیلا (الفتح) اے لوگوں تم اللّٰہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤاور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو ( کنزالایمان ) سپہ سالار محافظین ناموس رسالت اعلی حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ معلوم ہوا کہ دین و ایمان محمد رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کا نام جو ان کی تعظیم میں کلام کرے اصل رسالت کو باطل و بیکار چاہتا ہے والعیاذ باللہ( فتاویٰ رضویہ، ج: ۱۵ ) دوسرے مقام پر مجدد اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رقمطراز ہیں : قرآن و حدیث ارشاد فرما چکے کہ ایمان کے حقیقی و واقعی ہونے کو دو باتیں ضرور ہیں محمد رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور محمد رسول اللّٰہﷺ کی محبت کو تمام جہان پر تقدیم۔( تمہید ایمان ص : ۱۰ ) حضور ﷺ کی تعظیم و توقیر جیسے ایمان کی سلامتی کے لئے ضروری ہے ویسے ہی امن و امان کی سلامتی کے لئے بھی ضروری ہے۔ ہرشہر ، ہرملک یہاں تک کہ پوری کائنات میں امن کی ضمانت ہے ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ۔ نبی اکرم ﷺ کی توہین روئے زمین پر فساد،ظلم اور آتنکواد ہے اس واسطے کہ قرآن مجید میں جب یہ کہا گیا “اذا قیل لھم لا تفسدوافی الارض” جب ان سے کہا گیا کہ تم زمین میں فساد نہ کرو ۔ اس وقت فساد کس چیز کو کہا گیاتھا ، کیا وہ Fire کر رہے تھے؟ کیا وہ لوگوں کو قتل کر رہے تھے؟ کیا منافقین اس وقت کوئی ایٹم بم چلا رہے تھے ؟ نہیں ، فساد کیا تھا؟وہ نبی ﷺ کی توہین کرتے تھے ۔توتوہین رسالت فساد فی الارض ہے لہٰذا یہ ماننا پڑے گا کہ کوئی سوسائٹی برقرار تب رہ سکتی ہے کہ جب فساد فی الأرض نہ ہو ،اور فساد فی الأرض سے بچایا تب جاسکتا ہے ، جب نبی ﷺ کی توہین سے لوگوں کو روکا جائے ۔ لہٰذا اگر ملک میں امن و امان چاہئے تو ضرور ہے کہ ایسا قانون پاس ہو جس کی وجہ سے کوئی شانِ رسالت ﷺ میں توہین کرنے کی ناپاک جسارت نہ کر سکے۔ یاد رہے توہین رسالت کے باوجود یہ زمین قائم ہے اس لئے کہ حضور ﷺ زمین پہ جلوہ فگن ہیں، وگر نہ امم سابقہ میں سے جنہوں نے انبیاء کرام علیھم السلام سے بغاوتیں کیں ان کی بستیاں الٹ دی گئیں ضرور ہماری بستیاں بھی الٹ دی جاتیں ۔ تحفظ ناموسِ رسالت اس لیے بھی ضروری ہے کہ حضور ﷺ ایمان کی جان تو ہیں ہی جان کی بھی جان ہیں کیونکہ ہماری جانیں اور ہمارا سب کچھ حضور پاک ﷺ کے صدقے میں ہے ۔ اس لئے کہ حضور پاک ﷺ کو پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ کچھ پیدا ہی نہ فرماتا جیسا کہ حدیث قدسی شاہد ہے اور جان کی حفاظت فرض اعظم ہے لہٰذا حضور ﷺ کی ناموس کی حفاظت ہمارے لئے فرض اعظم ہے ۔امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے: ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ کے متعلق بیداری پیدا کریں شمع رسالت کے پروانے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی زندگی کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں ۔ گستاخوں کے لئے اپنے دل میں کوئی نرم گوشہ نہ رکھیں۔ اصدق الصادقین امام المتقین حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عروہ بن مسعود ثقفی کو بے ادبی کرنے کی وجہ سے جوجملہ کہا تھا ’’امصص بظراللات‘‘ ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے ۔ گستاخ پر خوش اخلاق کانہیں بلکہ غیظ و ٖغضب کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ مجدد الف ثانی شیخ احمدسرہندی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت ان کے دشمنوں سے دشمنی کئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی اسی جگہ یہ مصرع صادق آتا ہے “تولی بے تبرا نیست ممکن” کسی سے محبت ہوہی نہیں سکتی جب تک اس کے دشمنوں سے، دشمنی نہ ہو۔(مکتوب نمبر٢٦٦) حضور اقدس ﷺ کی ناموس پر پے در پے منظم طور پر حملےہو رہے ہیں ہمیں اپنے ایمان ، اپنی جان کو بچانے کے لئے اور اپنے ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے انہیں روکنا بے حد ضروری ہے۔ نیز تحفظ ناموسِ رسالت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ دنیا کو اس بات سے روشناش کرایا جائے کہ حضور ﷺ کی عزت و عظمت کیا ہے ؟ اس بارگاہ اقدس کا ادب کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے محبوب ﷺ کی بارگاہِ اقدس کے آداب تعلیم فرمائے ارشاد ہوتا ہے لا تجعلوا دعاء الرسول کدعاء بعضکم بعضا، رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے ۔ ( کنز الایمان ) دوسری جگہ ارشاد فرمایا ‘‘ یا ایھا الذین اٰمنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض أن تحبط اعمالکم و أنتم لا تشعرون۔ (پ ٢٦،الحجرات ) امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ان آیات مبارکہ میں حضور اکرم ﷺ کے بعض خصائص کا ذکر ہے ، کہ حضور ﷺ پر اپنی آواز بلند کرنا ، یا حضور ﷺ سے چلا کر بولنا حرام ہے ۔ علمائے کرام نے اس سے یہ نتیجہ بھی نکالا ہے،کہ حضور اقدس ﷺ کے مزار شریف کے قریب بھی آواز بلند کرنا ممنوع ہے،اور قرأت حدیث شریف کے وقت بھی آواز بلند کرنا منع ہے ، اس لئے کہ حضور ﷺ کی عزت و عظمت بعد وصال بھی ایسے ہی لازم ہے جیسے آپ ﷺ کی دنیاوی حیاتِ ظاہری میں تھی ۔(الاکلیل فی استنباط التنزیل ) جو لوگ ناموسِ رسالت ﷺ کا پاس نہیں رکھتے ، اور نبی کریم ﷺ کی بے ادبی و گستاخی کرتے ہیں ، قرآن پاک نے ان کےلئے دنیا و آخرت میں لعنت اور درد ناک عذاب کی وعید سنائی ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے : ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا و الآخرۃ و أعدلھم عذابا مھینا(پ ۲۲، الأحزاب ) یقینا جو لوگ ایذا دیتے ہیں اللّٰہ اور اس کے رسول کو ، ان پر اللّٰہ کی لعنت ہے دنیا و آخرت میں ،اوراللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ سطور بالا سے واضح ہوگیا کہ ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ فرض اعظم ہے اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں توہین وبے ادبی روئے زمین کا سب سے بڑا ظلم اور تشدد ہے۔ قارئین باوقار ! ہمارے وطن عزیز بھارت میں بھگوا رنگ کی کچھ شر پسند تنظیمیں مسلسل ناموسِ رسالت ﷺ پر حملہ آور ہیں تمام سنی صحیح العقیدہ مسلمانوں کو متحد ہو کر کوئی لائحۂ عمل تیار کرنا چاہئے جس کے ذریعہ یہ شیاطین توہین رسالت ﷺ سے باز آجائیں۔ دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین ﷺ کی محمد ﷺ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں۔
Kutubahu & Verified by:
<h2>تحفظ ناموس رسالت ﷺ ضروری کیوں؟</h2> از: محمد نعیم اسماعیلی امجدی ایڈیٹر سہ ماہی پیام شعیب الاولیاء براؤں شریف آتی ہیں گلستان شہادت سے صدائیں آؤ کہ سبھی عہد محبت کو نبھائیں ہے غیرت ایمان کا بہر طور تقاضا ناموسِ رسالت پہ چلو سر کو کٹائیں تحفظ ناموسِ رسالت کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی نبی یا رسول کی آبرو شہرت، عزت، عظمت یا شان کا لحاظ کرنا، اور ہر قسم کی عیب جوئی اور ایسے کلام سے پرہیز کرنا جس میں بے ادبی کا شائبہ بھی ہو۔ حضور خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ کی محبت جان ایمان عین ایمان ہے۔ ان کی تعظیم تمام جہان پر فرض اعظم اور ان کی توہین و بے ادبی کفر ہے ۔ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضور نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لا یومن احدکم حتیٰ اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین ۔ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا، جب تک کہ میں اسے اس کے والد ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے عزیز تر نہ ہو جاوں۔( صحیح البخاری ، کتاب الایمان ) حضور پاک ﷺ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی ناموس کی حفاظت کی جائے ۔ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : لتؤمنوا باللہ ورسولہ و تعزروہ و توقروہ و تسبحوہ بکرۃ واصیلا (الفتح) اے لوگوں تم اللّٰہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤاور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو ( کنزالایمان ) سپہ سالار محافظین ناموس رسالت اعلی حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ معلوم ہوا کہ دین و ایمان محمد رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کا نام جو ان کی تعظیم میں کلام کرے اصل رسالت کو باطل و بیکار چاہتا ہے والعیاذ باللہ( فتاویٰ رضویہ، ج: ۱۵ ) دوسرے مقام پر مجدد اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رقمطراز ہیں : قرآن و حدیث ارشاد فرما چکے کہ ایمان کے حقیقی و واقعی ہونے کو دو باتیں ضرور ہیں محمد رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور محمد رسول اللّٰہﷺ کی محبت کو تمام جہان پر تقدیم۔( تمہید ایمان ص : ۱۰ ) حضور ﷺ کی تعظیم و توقیر جیسے ایمان کی سلامتی کے لئے ضروری ہے ویسے ہی امن و امان کی سلامتی کے لئے بھی ضروری ہے۔ ہرشہر ، ہرملک یہاں تک کہ پوری کائنات میں امن کی ضمانت ہے ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ۔ نبی اکرم ﷺ کی توہین روئے زمین پر فساد،ظلم اور آتنکواد ہے اس واسطے کہ قرآن مجید میں جب یہ کہا گیا "اذا قیل لھم لا تفسدوافی الارض" جب ان سے کہا گیا کہ تم زمین میں فساد نہ کرو ۔ اس وقت فساد کس چیز کو کہا گیاتھا ، کیا وہ Fire کر رہے تھے؟ کیا وہ لوگوں کو قتل کر رہے تھے؟ کیا منافقین اس وقت کوئی ایٹم بم چلا رہے تھے ؟ نہیں ، فساد کیا تھا؟وہ نبی ﷺ کی توہین کرتے تھے ۔توتوہین رسالت فساد فی الارض ہے لہٰذا یہ ماننا پڑے گا کہ کوئی سوسائٹی برقرار تب رہ سکتی ہے کہ جب فساد فی الأرض نہ ہو ،اور فساد فی الأرض سے بچایا تب جاسکتا ہے ، جب نبی ﷺ کی توہین سے لوگوں کو روکا جائے ۔ لہٰذا اگر ملک میں امن و امان چاہئے تو ضرور ہے کہ ایسا قانون پاس ہو جس کی وجہ سے کوئی شانِ رسالت ﷺ میں توہین کرنے کی ناپاک جسارت نہ کر سکے۔ یاد رہے توہین رسالت کے باوجود یہ زمین قائم ہے اس لئے کہ حضور ﷺ زمین پہ جلوہ فگن ہیں، وگر نہ امم سابقہ میں سے جنہوں نے انبیاء کرام علیھم السلام سے بغاوتیں کیں ان کی بستیاں الٹ دی گئیں ضرور ہماری بستیاں بھی الٹ دی جاتیں ۔ تحفظ ناموسِ رسالت اس لیے بھی ضروری ہے کہ حضور ﷺ ایمان کی جان تو ہیں ہی جان کی بھی جان ہیں کیونکہ ہماری جانیں اور ہمارا سب کچھ حضور پاک ﷺ کے صدقے میں ہے ۔ اس لئے کہ حضور پاک ﷺ کو پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ کچھ پیدا ہی نہ فرماتا جیسا کہ حدیث قدسی شاہد ہے اور جان کی حفاظت فرض اعظم ہے لہٰذا حضور ﷺ کی ناموس کی حفاظت ہمارے لئے فرض اعظم ہے ۔امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے: ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ کے متعلق بیداری پیدا کریں شمع رسالت کے پروانے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی زندگی کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں ۔ گستاخوں کے لئے اپنے دل میں کوئی نرم گوشہ نہ رکھیں۔ اصدق الصادقین امام المتقین حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عروہ بن مسعود ثقفی کو بے ادبی کرنے کی وجہ سے جوجملہ کہا تھا ’’امصص بظراللات‘‘ ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے ۔ گستاخ پر خوش اخلاق کانہیں بلکہ غیظ و ٖغضب کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ مجدد الف ثانی شیخ احمدسرہندی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت ان کے دشمنوں سے دشمنی کئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی اسی جگہ یہ مصرع صادق آتا ہے "تولی بے تبرا نیست ممکن" کسی سے محبت ہوہی نہیں سکتی جب تک اس کے دشمنوں سے، دشمنی نہ ہو۔(مکتوب نمبر٢٦٦) حضور اقدس ﷺ کی ناموس پر پے در پے منظم طور پر حملےہو رہے ہیں ہمیں اپنے ایمان ، اپنی جان کو بچانے کے لئے اور اپنے ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے انہیں روکنا بے حد ضروری ہے۔ نیز تحفظ ناموسِ رسالت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ دنیا کو اس بات سے روشناش کرایا جائے کہ حضور ﷺ کی عزت و عظمت کیا ہے ؟ اس بارگاہ اقدس کا ادب کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے محبوب ﷺ کی بارگاہِ اقدس کے آداب تعلیم فرمائے ارشاد ہوتا ہے لا تجعلوا دعاء الرسول کدعاء بعضکم بعضا، رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے ۔ ( کنز الایمان ) دوسری جگہ ارشاد فرمایا ‘‘ یا ایھا الذین اٰمنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض أن تحبط اعمالکم و أنتم لا تشعرون۔ (پ ٢٦،الحجرات ) امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ان آیات مبارکہ میں حضور اکرم ﷺ کے بعض خصائص کا ذکر ہے ، کہ حضور ﷺ پر اپنی آواز بلند کرنا ، یا حضور ﷺ سے چلا کر بولنا حرام ہے ۔ علمائے کرام نے اس سے یہ نتیجہ بھی نکالا ہے،کہ حضور اقدس ﷺ کے مزار شریف کے قریب بھی آواز بلند کرنا ممنوع ہے،اور قرأت حدیث شریف کے وقت بھی آواز بلند کرنا منع ہے ، اس لئے کہ حضور ﷺ کی عزت و عظمت بعد وصال بھی ایسے ہی لازم ہے جیسے آپ ﷺ کی دنیاوی حیاتِ ظاہری میں تھی ۔(الاکلیل فی استنباط التنزیل ) جو لوگ ناموسِ رسالت ﷺ کا پاس نہیں رکھتے ، اور نبی کریم ﷺ کی بے ادبی و گستاخی کرتے ہیں ، قرآن پاک نے ان کےلئے دنیا و آخرت میں لعنت اور درد ناک عذاب کی وعید سنائی ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے : ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا و الآخرۃ و أعدلھم عذابا مھینا(پ ۲۲، الأحزاب ) یقینا جو لوگ ایذا دیتے ہیں اللّٰہ اور اس کے رسول کو ، ان پر اللّٰہ کی لعنت ہے دنیا و آخرت میں ،اوراللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ سطور بالا سے واضح ہوگیا کہ ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ فرض اعظم ہے اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں توہین وبے ادبی روئے زمین کا سب سے بڑا ظلم اور تشدد ہے۔ قارئین باوقار ! ہمارے وطن عزیز بھارت میں بھگوا رنگ کی کچھ شر پسند تنظیمیں مسلسل ناموسِ رسالت ﷺ پر حملہ آور ہیں تمام سنی صحیح العقیدہ مسلمانوں کو متحد ہو کر کوئی لائحۂ عمل تیار کرنا چاہئے جس کے ذریعہ یہ شیاطین توہین رسالت ﷺ سے باز آجائیں۔ دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین ﷺ کی محمد ﷺ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں۔
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...