01
The questionSawaal
اصل سوالگھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟
02
The responseAl-Jawab
گھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟
مسلہ:گھیگھا والے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟ المستفتی: قاضی اطیعواالحق عثمانی،سعد اللہ نگر،بلرام پور(یوپی)الجوابـــــــــــــ
جس جانور کا گلا پھول آیا اگر وہ اس قدر پھولا ہے کے اس کی وجہ سے اس کی قیمت میں کمی آتی ھے تو یہ عیب ہے اور اس جانور کی قربانی ناجائز ہے اور قیمت کم نہ ہو تو قربانی جائز ہے مگر کراھت کے ساتھ – اور عیب اس کو کہتے ہیں جس کے سبب تاجروں کی نگاہ میں جانور کی قیمت کم ہو جائے – ہدایہ میں ہے”کل ما اوجب نقصان الثمن فی عادۃ التجار فھوعیب ،،(باب خیار العیب ج ٣ ص ٢٣ ۔ ردالمحتار میں ہے “واعلم ان الکل لا یخلو عن عیب والمستحب ان یکون سلیما عن العیوب الظاہر فما ذکر ھھنا جوز مع الکراھۃ کما فی المضمرات ۔ (کتاب الاضحیتہ ج ٦ ص ٣٢٣۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی کتبہ: محمد انوارالحق قادری ١٠ / رجب ال مرجب ١٤٣١ھ
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.