Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1789 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.9K Views

قربانی کی کھال کسے دی جائے؟ مسجد میں دے سکتے ہیں ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

قربانی کی کھال کسے دی جائے؟ مسجد میں دے سکتے ہیں ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

قربانی کی کھال کسے دی جائے؟ مسجد میں دے سکتے ہیں ؟

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں ہیں علمائے دین و ملت اس مسئلہ میں کہ قربانی کی کھال کس کو دینا چاہیے اور اور کس کو نہیں دینا چاہیے،مسجد کے کام میں میں کھال کا پیسہ لگانا جائز ہے یا نہیں؟ المستفتی: امتیاز احمد رضوی، ڈھور گلی میرج شریف سانگلی،مہاراشٹر الجوابـــــــــــــ قربانی کی کھال یا کھال بیچ کر اس کا دام مسجد میں دینا جائز ہے ۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں “چرم قربانی کا صدقہ کرنا واجب نہیں  بلکہ خود اپنے مصرف میں بھی لگا سکتا ہے مثلا اس کی جائے نماز یا جلد،یاچلنی،ڈول وغیرہ بنوا کر استعمال کر سکتا ہے-یا اسے کسی باقی رہنے والی چیز کے ساتھ بدل سکتا ہے۔ در مختار میں ہے”یتصدق بجلدھا او یعمل منہ نحو غربال او جراب ودلو، اویبدلہ بما ینتفع بہ باقیا کما مر ۔ اھ( فتاویٰ امجدیہ،ج ٣ ،ص٣٠٤) یوں ہی اسے ہر نیک کام میں لگا سکتا ہے ہے خواہ مدرسہ وہ مسجد میں دے ،یا کسی اور ثواب کے کام میں لگائے ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے،،لو باعھابالدراھم لیتصدق بھا جاز لا نہ قربت کالتصدق کذا فی التبیین و ھکذا فی الھدایہ والکافی اھ ( ج ٥,ص٣٠١, باب السادس ، فی بیان مایستحب فی الاضحیتہ ) اور بزازیہ میں ہے “لو ان‌ یبیعھا بالدراھم لیتصدق بھا ” اھ – واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی کتبہ : شمس الدین احمد علیمی ٥/محرم الحرام ١٤٢٦ھ

Kutubahu & Verified by:

<h3>قربانی کی کھال کسے دی جائے؟ مسجد میں دے سکتے ہیں ؟</h3> مسئلہ: کیا فرماتے ہیں ہیں علمائے دین و ملت اس مسئلہ میں کہ قربانی کی کھال کس کو دینا چاہیے اور اور کس کو نہیں دینا چاہیے،مسجد کے کام میں میں کھال کا پیسہ لگانا جائز ہے یا نہیں؟ المستفتی: امتیاز احمد رضوی، ڈھور گلی میرج شریف سانگلی،مہاراشٹر <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــ</strong></span> قربانی کی کھال یا کھال بیچ کر اس کا دام مسجد میں دینا جائز ہے ۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں "چرم قربانی کا صدقہ کرنا واجب نہیں  بلکہ خود اپنے مصرف میں بھی لگا سکتا ہے مثلا اس کی جائے نماز یا جلد،یاچلنی،ڈول وغیرہ بنوا کر استعمال کر سکتا ہے-یا اسے کسی باقی رہنے والی چیز کے ساتھ بدل سکتا ہے۔ در مختار میں ہے"یتصدق بجلدھا او یعمل منہ نحو غربال او جراب ودلو، اویبدلہ بما ینتفع بہ باقیا کما مر ۔ اھ( فتاویٰ امجدیہ،ج ٣ ،ص٣٠٤) یوں ہی اسے ہر نیک کام میں لگا سکتا ہے ہے خواہ مدرسہ وہ مسجد میں دے ،یا کسی اور ثواب کے کام میں لگائے ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے،،لو باعھابالدراھم لیتصدق بھا جاز لا نہ قربت کالتصدق کذا فی التبیین و ھکذا فی الھدایہ والکافی اھ ( ج ٥,ص٣٠١, باب السادس ، فی بیان مایستحب فی الاضحیتہ ) اور بزازیہ میں ہے "لو ان‌ یبیعھا بالدراھم لیتصدق بھا " اھ - واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : شمس الدین احمد علیمی ٥/محرم الحرام ١٤٢٦ھ</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...