Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1790 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8K Views

کیا بھائی کے علاحدہ کاروبار میں دوسرے بھائیوں کا بھی حصہ ہو تا ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا بھائی کے علاحدہ کاروبار میں دوسرے بھائیوں کا بھی حصہ ہو تا ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا بھائی کے علاحدہ کاروبار میں دوسرے بھائیوں کا بھی حصہ ہو تا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے اسلام مندرجہ ذیل مسئلہ میں: زید تین بھائی ہیں۔ دو بھائی والد کے ساتھ گھر پہ رہتے ہیں اور زید دہلی میں اپنا کاروبار کرتا ہے گھر والوں سے کبھی کچھ نہیں لیا بلکہ گھر والوں اور اپنے والدین پر خود ہی خرچ کرتا ہے ۔ اب کیا زید کی جائیداد میں زید کی حیات میں اسکے دونوں بھائی بھی حقدار ہیں؟ المستفتی: محمد منہاج رضا برداہا مہوتری نیپال الجوابـــــــــــــــــ صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی زید نے کاروبار میں مشترکہ مال نہ لگایا ہو، بلکہ اپنی کمائی کے مال سے کاروبار کیا ہو تو شرعا اس میں اس کے دونوں بھائیوں کا حصہ نہیں ہے، ہاں! اگر برّ وصلہ کے طور پر انھیں بھی کچھ دیدے تو بہتر ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں: “اور جو کچھ مال اس کے سوا پیدا کیا یعنی اس زمانہ میں کہ اس کا خورد ونوش باپ سے جدا تھا یا اپنے ذاتی مال سے کوئی تجارت کی یا کسب پدری سے الگ کوئی کسب خاص مستقل اپنا کیا جیسے صورت مستفسرہ میں نوکری کا روپیہ یہ اموال خاص بیٹے کے ٹھہریں گے،خیریہ وعقود میں ہے : سئل فی ابن کبیر ذی زوجۃ وعیال ، لہ کسب مستقل حصل بسببہ اموالا ، ھل ھی لوالدہ؟ اجاب ھی للابن حیث لہ کسب مستقل۔ واما قول علمائنا یکون کلہ للاب، فمشروط کما یعلم من عبارتھم بشروط: منھا اتحاد الصنعۃ وعدم مال سابق لھما وکون الابن فی عیال ابیہ فاذاعدم واحد منھا لایکون کسب الابن للاب وانظر الی ماعللوا بہ المسألۃ ان الابن اذاکان فی عیال الاب یکون معینا لہ فمدار الحکم علی ثبوت کونہ معینا لہ فیہ فاعلم ذٰلک۔” (فتاوی رضویہ ج ٨ص٢٣٠) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٧/ذو القعدة ١۴۴٣ھ// ٢٨/جون ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h3>کیا بھائی کے علاحدہ کاروبار میں دوسرے بھائیوں کا بھی حصہ ہو تا ہے؟</h3> کیا فرماتے ہیں علمائے اسلام مندرجہ ذیل مسئلہ میں: زید تین بھائی ہیں۔ دو بھائی والد کے ساتھ گھر پہ رہتے ہیں اور زید دہلی میں اپنا کاروبار کرتا ہے گھر والوں سے کبھی کچھ نہیں لیا بلکہ گھر والوں اور اپنے والدین پر خود ہی خرچ کرتا ہے ۔ اب کیا زید کی جائیداد میں زید کی حیات میں اسکے دونوں بھائی بھی حقدار ہیں؟ المستفتی: محمد منہاج رضا برداہا مہوتری نیپال <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــ</strong></span> صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی زید نے کاروبار میں مشترکہ مال نہ لگایا ہو، بلکہ اپنی کمائی کے مال سے کاروبار کیا ہو تو شرعا اس میں اس کے دونوں بھائیوں کا حصہ نہیں ہے، ہاں! اگر برّ وصلہ کے طور پر انھیں بھی کچھ دیدے تو بہتر ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں: "اور جو کچھ مال اس کے سوا پیدا کیا یعنی اس زمانہ میں کہ اس کا خورد ونوش باپ سے جدا تھا یا اپنے ذاتی مال سے کوئی تجارت کی یا کسب پدری سے الگ کوئی کسب خاص مستقل اپنا کیا جیسے صورت مستفسرہ میں نوکری کا روپیہ یہ اموال خاص بیٹے کے ٹھہریں گے،خیریہ وعقود میں ہے : سئل فی ابن کبیر ذی زوجۃ وعیال ، لہ کسب مستقل حصل بسببہ اموالا ، ھل ھی لوالدہ؟ اجاب ھی للابن حیث لہ کسب مستقل۔ واما قول علمائنا یکون کلہ للاب، فمشروط کما یعلم من عبارتھم بشروط: منھا اتحاد الصنعۃ وعدم مال سابق لھما وکون الابن فی عیال ابیہ فاذاعدم واحد منھا لایکون کسب الابن للاب وانظر الی ماعللوا بہ المسألۃ ان الابن اذاکان فی عیال الاب یکون معینا لہ فمدار الحکم علی ثبوت کونہ معینا لہ فیہ فاعلم ذٰلک۔" (فتاوی رضویہ ج ٨ص٢٣٠) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٧/ذو القعدة ١۴۴٣ھ// ٢٨/جون ٢٠٢٢ء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...