Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1794 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.5K Views

ادھو ٹھاکرے نے استعفیٰ کیوں دیا اور کیا کہا ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ادھو ٹھاکرے نے استعفیٰ کیوں دیا اور کیا کہا ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

 ادھو ٹھاکرے نے استعفیٰ دے دیا۔جانئے اس موقع پر كیا كہا؟

ٹھاکرے دونوں عہدوں سے آج اسوقت مستعفی ہوئے جب سپریم کورٹ نے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کی جانب سے برسراقتدار مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو کل ریاستی اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے والے عمل فلور ٹیسٹ پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔

ریاست کے عوام سے جذباتی خطاب کرتے ہوئے، ٹھاکرے نے ان کی اتحادی پارٹیوں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور کانگریس کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ کابینہ نے آج اورنگ آباد کا نام بدل کر سمبھاجی نگر اور عثمان آباد کا نام دھاراشیو رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔ دوپہر میں ٹھاکرے نے کابینہ کی میٹنگ کی صدارت کی اور اپنے اتحادیوں این سی پی اور کانگریس سے کہا کہ ان کی اپنی پارٹی والوں نے انہیں دھوکہ دیا جس کی وجہ سے مہاراشٹر میں موجودہ سیاسی بحران پیدا ہوا۔
ٹھاکرے نے تسلیم کیا کہ کس طرح این سی پی-کانگریس کے وزراء نے اورنگ آباد کا نام سمبھاجی نگر اور عثمان آباد کا نام تبدیل کرکے دھاراشیو رکھنے کی تجویز پر اتفاق کیا، حالانکہ یہ کافی تاخیر سے کیا گیا فیصلہ تھا۔ اپنے 31 ماہ کے قلیل مدتی دور اور 56 سالہ پارٹی کی وراثت کا مختصراً تذکرہ کرتے ہوئے ٹھاکرے نے یاد کیا کہ کتنے عام کارکن، آٹورکشا ڈرائیور، پان ڈبہ چلانے والے وغیرہ پارٹی میں آگے بڑھے، کارپوریٹر سے لے کر وزیر بن گئے۔ سب کچھ حاصل کیا، مگر اب وہی لوگ ‘ناراض’ ہیں اور جن کو کچھ نہیں ملا وہ آج بھی وفادار ہیں اور شیو سینا کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
’’میں نے انہیں (باغیوں) کو کئی بار مدعو کیا کہ وہ مجھ سے ملیں اور اپنے مسائل پر بات کریں… چاہے انہیں مجھ سے مسئلہ ہے، شیوسینا، این سی پی، کانگریس یا کچھ اور… لیکن کوئی جواب نہیں آیا‘‘۔ ٹھاکرے نے کہا کہ جو لوگ سینا اور بالا صاحب ٹھاکرے کے زور پر بڑے ہوئے ہیں، اگر وہ یہ مانتے ہیں کہ ان کے بیٹے کو گرانے سے وہ “پنیا” (ثواب  حاصل کر لیں گے، تو انہیں کرنے دیں۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہ کسی فلور ٹیسٹ یا اس طرح کی سیاست کا ڈرامہ نہیں چاہتے تھے، ٹھاکرے نے کہا کہ وہ قانون ساز کونسل کے رکن کی حیثیت سے بھی استعفی دے رہے ہیں۔ اسی دوران ٹھاکرے کے اعلان کے ساتھ ہی اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائدین بشمول ریاستی صدر چندرکانت پاٹل، قائد حزب اختلاف دیویندر فڈنویس اور دیگر نے جشن منانا شروع کردیا اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ کئی باغی ایم ایل ایز نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ریاست اب متوقع سی ایم فڈنویس کی قیادت میں ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی۔ https://www.sadaeislam.in/blog/udho-thakrey-ne-istifa-de-dia/

Kutubahu & Verified by:

<h2 class="post-title entry-title 2"> ادھو ٹھاکرے نے استعفیٰ دے دیا۔جانئے اس موقع پر كیا كہا؟</h2> <p class="entry-sub-title">ٹھاکرے دونوں عہدوں سے آج اسوقت مستعفی ہوئے جب سپریم کورٹ نے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کی جانب سے برسراقتدار مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو کل ریاستی اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے والے عمل فلور ٹیسٹ پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔</p> ریاست کے عوام سے جذباتی خطاب کرتے ہوئے، ٹھاکرے نے ان کی اتحادی پارٹیوں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور کانگریس کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ کابینہ نے آج اورنگ آباد کا نام بدل کر سمبھاجی نگر اور عثمان آباد کا نام دھاراشیو رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔ دوپہر میں ٹھاکرے نے کابینہ کی میٹنگ کی صدارت کی اور اپنے اتحادیوں این سی پی اور کانگریس سے کہا کہ ان کی اپنی پارٹی والوں نے انہیں دھوکہ دیا جس کی وجہ سے مہاراشٹر میں موجودہ سیاسی بحران پیدا ہوا۔ <div id="inline-related-post" class="mag-box mini-posts-box content-only"> <div class="container-wrapper"> <div class="widget-title the-global-title"> ٹھاکرے نے تسلیم کیا کہ کس طرح این سی پی-کانگریس کے وزراء نے اورنگ آباد کا نام سمبھاجی نگر اور عثمان آباد کا نام تبدیل کرکے دھاراشیو رکھنے کی تجویز پر اتفاق کیا، حالانکہ یہ کافی تاخیر سے کیا گیا فیصلہ تھا۔ اپنے 31 ماہ کے قلیل مدتی دور اور 56 سالہ پارٹی کی وراثت کا مختصراً تذکرہ کرتے ہوئے ٹھاکرے نے یاد کیا کہ کتنے عام کارکن، آٹورکشا ڈرائیور، پان ڈبہ چلانے والے وغیرہ پارٹی میں آگے بڑھے، کارپوریٹر سے لے کر وزیر بن گئے۔ سب کچھ حاصل کیا، مگر اب وہی لوگ ‘ناراض’ ہیں اور جن کو کچھ نہیں ملا وہ آج بھی وفادار ہیں اور شیو سینا کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ <div class="stream-item stream-item-in-post stream-item-inline-post aligncenter"> ’’میں نے انہیں (باغیوں) کو کئی بار مدعو کیا کہ وہ مجھ سے ملیں اور اپنے مسائل پر بات کریں… چاہے انہیں مجھ سے مسئلہ ہے، شیوسینا، این سی پی، کانگریس یا کچھ اور… لیکن کوئی جواب نہیں آیا‘‘۔ ٹھاکرے نے کہا کہ جو لوگ سینا اور بالا صاحب ٹھاکرے کے زور پر بڑے ہوئے ہیں، اگر وہ یہ مانتے ہیں کہ ان کے بیٹے کو گرانے سے وہ "پنیا” (ثواب  حاصل کر لیں گے، تو انہیں کرنے دیں۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہ کسی فلور ٹیسٹ یا اس طرح کی سیاست کا ڈرامہ نہیں چاہتے تھے، ٹھاکرے نے کہا کہ وہ قانون ساز کونسل کے رکن کی حیثیت سے بھی استعفی دے رہے ہیں۔ اسی دوران ٹھاکرے کے اعلان کے ساتھ ہی اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائدین بشمول ریاستی صدر چندرکانت پاٹل، قائد حزب اختلاف دیویندر فڈنویس اور دیگر نے جشن منانا شروع کردیا اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ کئی باغی ایم ایل ایز نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ریاست اب متوقع سی ایم فڈنویس کی قیادت میں ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی۔ https://www.sadaeislam.in/blog/udho-thakrey-ne-istifa-de-dia/ </div> </div> </div> </div>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...