Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1799 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.3K Views

مسجد میں عورتوں کی تعلیم

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مسجد میں عورتوں کی تعلیم

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مسجد میں عورتوں کی تعلیم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بعد سلام عرض ہے کہ زید ایک مسجد کا صدر ہے کچھ خواتین نے اس سے فرمائش کی وہ مسجد میں انہیں تعلیم و تعلّم کے لیے جگہ دے حالانکہ زید نے پہلے ہی مسجد کے باہر تعلیم و تعلم کے لیے جگہ دی ہے تو اب عورتوں کا مسجد میں تعلیم و تعلّم کے لیے جگہ کا مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور زید مسجد میں تعلیم و تعلّم کے لیے اجازت دے سکتا ہے نہیں؟ العارض محمد مہتاب صدیقی الجوابــــــــــــــــــــ جب کہ مسجد کے صدر نے مسجد سے ہٹ کر تعلیم و تعلم کے لیے عورتوں کو جگہ دے دی ہے تو اب عورتوں کا خاص مسجد میں تعلیم و تعلم کے لیے جگہ کا مطالبہ کرنا نا مناسب اور مقصودِ تعلیم میں خلل انداز ہے، اس لیے کہ یہ تو ظاہر ہے کہ عورت کے لیے مہینہ میں کچھ دن (یعنی حیض کے دن) ایسے ہوتے ہیں جن میں اس کا مسجد میں جانا ناجائز ہے۔اب کبھی پڑھانے والی کی ناپاکی کے دن ہوں گے اور کبھی پڑھنے والیوں کی ناپاکی کے دن ہوں گے تو تعلیمی سلسلہ جاری نہ رہ سکے گا۔ نیز ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ بعض طالبات مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے ایام حیض میں بھی مسجد میں آئیں جائیں۔ علاوہ ازیں معلمات کا اگر کوئی شیر خوار یا چھوٹا بچہ ہے تو اس سے مسجد آلودہ ہونے کا سخت اندیشہ ہے۔ لہذا مسجد میں عورتوں کے لیے تعلیم وتعلم میں دقتیں ہیں۔ ہاں! اگر مسجد میں تعلیم و تعلم ہر طرح کے محظورِ شرعی سے محفوظ ہو تو عورتوں کو بھی مسجد میں دینی تعلیم و تعلم سے منع نہیں کیا جاسکتا۔مثلا: (١) دین کی تعلیم ہو (٢)مرد و عورت کا اختلاط نہ ہو یعنی نماز کے اوقات اور مردوں کے آنے کے اوقات میں تعلیم نہ ہو(٣) حجاب شرعی کا التزام رہے۔(۴) ناپاکی کے ایام نہ ہوں۔(۵) معلمات و متعلمات سنی صحیح العقیدہ ہوں۔(٦) مسجد میں شور و غل نہ ہو(٧) معاوضہ لے کر تعلیم نہ ہو۔(٨) ناسمجھ بچے اور بچیاں نہ ہوں۔غرض ہر طرح محظورِ شرعی سے ہاک ہو۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: *”مسجد میں تعلیم بشرائط جائز ہے:(۱) تعلیم دین ہو۔(۲) معلم سنی صحیح العقیدہ ہو، نہ وہابی وغیرہ بددین کہ وہ تعلیم کفر و ضلال کرےگا۔(۳) معلم بلا اُجرت تعلیم کرے کہ اجرت سے کار دنیا ہوجائے گی۔(۴) ناسمجھ بچے نہ ہوں کہ مسجد کی بے ادبی کریں۔(۵) جماعت پر جگہ تنگ نہ ہو کہ اصل مقصد مسجد جماعت ہے۔(۶) غل شور سے نمازی کو ایذا نہ پہنچے۔(۷) معلم خواہ طالب علم کسی کے بیٹھے سے قطعِ صف نہ ہو۔” (فتاوی رضویہ ج٣ ص٦٠۵) واضح رہے کہ مذکورہ بالا شرطوں کی پابندی عورتوں سے بعید معلوم ہوتی ہے اس لیے بہتر یہی ہے کہ مسجد میں ان کے تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری کرنے سے اجتناب و احتراز کیا جائے۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٧/ذو قعدہ ١۴۴٣ھ// ٢٨/جون ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h2>مسجد میں عورتوں کی تعلیم</h2> السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بعد سلام عرض ہے کہ زید ایک مسجد کا صدر ہے کچھ خواتین نے اس سے فرمائش کی وہ مسجد میں انہیں تعلیم و تعلّم کے لیے جگہ دے حالانکہ زید نے پہلے ہی مسجد کے باہر تعلیم و تعلم کے لیے جگہ دی ہے تو اب عورتوں کا مسجد میں تعلیم و تعلّم کے لیے جگہ کا مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور زید مسجد میں تعلیم و تعلّم کے لیے اجازت دے سکتا ہے نہیں؟ العارض محمد مہتاب صدیقی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــ</strong></span> جب کہ مسجد کے صدر نے مسجد سے ہٹ کر تعلیم و تعلم کے لیے عورتوں کو جگہ دے دی ہے تو اب عورتوں کا خاص مسجد میں تعلیم و تعلم کے لیے جگہ کا مطالبہ کرنا نا مناسب اور مقصودِ تعلیم میں خلل انداز ہے، اس لیے کہ یہ تو ظاہر ہے کہ عورت کے لیے مہینہ میں کچھ دن (یعنی حیض کے دن) ایسے ہوتے ہیں جن میں اس کا مسجد میں جانا ناجائز ہے۔اب کبھی پڑھانے والی کی ناپاکی کے دن ہوں گے اور کبھی پڑھنے والیوں کی ناپاکی کے دن ہوں گے تو تعلیمی سلسلہ جاری نہ رہ سکے گا۔ نیز ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ بعض طالبات مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے ایام حیض میں بھی مسجد میں آئیں جائیں۔ علاوہ ازیں معلمات کا اگر کوئی شیر خوار یا چھوٹا بچہ ہے تو اس سے مسجد آلودہ ہونے کا سخت اندیشہ ہے۔ لہذا مسجد میں عورتوں کے لیے تعلیم وتعلم میں دقتیں ہیں۔ ہاں! اگر مسجد میں تعلیم و تعلم ہر طرح کے محظورِ شرعی سے محفوظ ہو تو عورتوں کو بھی مسجد میں دینی تعلیم و تعلم سے منع نہیں کیا جاسکتا۔مثلا: (١) دین کی تعلیم ہو (٢)مرد و عورت کا اختلاط نہ ہو یعنی نماز کے اوقات اور مردوں کے آنے کے اوقات میں تعلیم نہ ہو(٣) حجاب شرعی کا التزام رہے۔(۴) ناپاکی کے ایام نہ ہوں۔(۵) معلمات و متعلمات سنی صحیح العقیدہ ہوں۔(٦) مسجد میں شور و غل نہ ہو(٧) معاوضہ لے کر تعلیم نہ ہو۔(٨) ناسمجھ بچے اور بچیاں نہ ہوں۔غرض ہر طرح محظورِ شرعی سے ہاک ہو۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: *"مسجد میں تعلیم بشرائط جائز ہے:(۱) تعلیم دین ہو۔(۲) معلم سنی صحیح العقیدہ ہو، نہ وہابی وغیرہ بددین کہ وہ تعلیم کفر و ضلال کرےگا۔(۳) معلم بلا اُجرت تعلیم کرے کہ اجرت سے کار دنیا ہوجائے گی۔(۴) ناسمجھ بچے نہ ہوں کہ مسجد کی بے ادبی کریں۔(۵) جماعت پر جگہ تنگ نہ ہو کہ اصل مقصد مسجد جماعت ہے۔(۶) غل شور سے نمازی کو ایذا نہ پہنچے۔(۷) معلم خواہ طالب علم کسی کے بیٹھے سے قطعِ صف نہ ہو۔" (فتاوی رضویہ ج٣ ص٦٠۵) واضح رہے کہ مذکورہ بالا شرطوں کی پابندی عورتوں سے بعید معلوم ہوتی ہے اس لیے بہتر یہی ہے کہ مسجد میں ان کے تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری کرنے سے اجتناب و احتراز کیا جائے۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٧/ذو قعدہ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١۴۴٣ھ// ٢٨/جون ٢٠٢٢</strong></span>ء

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...