Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1805 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.1K Views

بالغ لڑکا جس کو داڑھی نہ آئی ہو امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

بالغ لڑکا جس کو داڑھی نہ آئی ہو امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

بالغ لڑکا جس کو داڑھی نہ آئی ہو امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ سوال۔ ایک مدرسے میں پڑھنے والا طالب علم بالغ ہے پر اس کی داڑھی نہیں جمی ہے تو کیا وہ امامت کر سکتا ہے؟ سائل: عادل رضا قادری الجواب بعون الملک الوھاب کرسکتا ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو‌۔ ہاں اگر وہ خوبصورت محل فتنہ ہو ، تو اس کے پیچھے نماز مکروہِ تنزیہی یعنی ناپسندیدہ ہے۔ حضور اعلی حضرت رضی ﷲ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: “اگر بالغ ہے تو ہر نماز یہاں تک کہ فرائض پنجگانہ بھی اس کے پیچھے ہو توجائیں گے کہ داڑھی مونچھ شرط صحت امامت نہیں بلوغ درکار ہے ” اھ (فتاوی رضویہ جدید, ج٦, ص٣٨٩, کتاب الصلاۃ, باب الامامۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) اور آپ علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا”ھل تجوز الصلاۃ خلف الامرد الذی ھو ابن ستۃ عشر سنۃ(کیا سولہ سالہ امرد کے پیچھے نماز جائز ہوتی ہے)؟“ جواباً تحریر فرمایا:”نعم تجوز ان لم یکن مانع شرعی لانہ بالغ شرعا و ان لم تظھر الاثار، نعم تکرہ ان کان صبیحا محل الفتنۃ کما فی رد المحتار عن الرحمتی(ہاں جائز ہے اگر کوئی مانعِ شرعی نہ ہو کیونکہ شرعا وہ بالغ ہے اگرچہ بلوغت کے آثار ظاہر نہ ہوئے ہوں،ہاں اگر وہ خوبصورت محلِ فتنہ ہو تو مکروہ(تنزیہی)ہو گی جیسا کہ رد المحتار میں علامہ رحمتی کے حوالے سے ہے)۔“ اھ (فتاویٰ رضویہ،ج٦, ص٦١٢, کتاب الصلاۃ باب الامامۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ:گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

Kutubahu & Verified by:

<h3>بالغ لڑکا جس کو داڑھی نہ آئی ہو امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟</h3> مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ سوال۔ ایک مدرسے میں پڑھنے والا طالب علم بالغ ہے پر اس کی داڑھی نہیں جمی ہے تو کیا وہ امامت کر سکتا ہے؟ سائل: عادل رضا قادری <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> کرسکتا ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو‌۔ ہاں اگر وہ خوبصورت محل فتنہ ہو ، تو اس کے پیچھے نماز مکروہِ تنزیہی یعنی ناپسندیدہ ہے۔ حضور اعلی حضرت رضی ﷲ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: "اگر بالغ ہے تو ہر نماز یہاں تک کہ فرائض پنجگانہ بھی اس کے پیچھے ہو توجائیں گے کہ داڑھی مونچھ شرط صحت امامت نہیں بلوغ درکار ہے " اھ (فتاوی رضویہ جدید, ج٦, ص٣٨٩, کتاب الصلاۃ, باب الامامۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) اور آپ علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا”ھل تجوز الصلاۃ خلف الامرد الذی ھو ابن ستۃ عشر سنۃ(کیا سولہ سالہ امرد کے پیچھے نماز جائز ہوتی ہے)؟“ جواباً تحریر فرمایا:”نعم تجوز ان لم یکن مانع شرعی لانہ بالغ شرعا و ان لم تظھر الاثار، نعم تکرہ ان کان صبیحا محل الفتنۃ کما فی رد المحتار عن الرحمتی(ہاں جائز ہے اگر کوئی مانعِ شرعی نہ ہو کیونکہ شرعا وہ بالغ ہے اگرچہ بلوغت کے آثار ظاہر نہ ہوئے ہوں،ہاں اگر وہ خوبصورت محلِ فتنہ ہو تو مکروہ(تنزیہی)ہو گی جیسا کہ رد المحتار میں علامہ رحمتی کے حوالے سے ہے)۔“ اھ (فتاویٰ رضویہ،ج٦, ص٦١٢, کتاب الصلاۃ باب الامامۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ <span style="color: #339966;">کتبہ:گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔</span> <span style="color: #339966;">خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...