Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1806 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.2K Views

پیسہ لیکر تقریر کرنا یا امامت کرنا یا مدرسہ میں پڑھانا کیسا ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

پیسہ لیکر تقریر کرنا یا امامت کرنا یا مدرسہ میں پڑھانا کیسا ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

پیسہ لیکر تقریر کرنا یا امامت کرنا یا مدرسہ میں پڑھانا کیسا ہے؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ حضرت سوال یہ ہے کہ اگر کوئی امام صاحب یا تراویح کی نماز پڑھانے والا یا دینی مدارس میں پڑھانے والا جو اجرت لیتا ہو یا ایسا مقرر جو پیسے کا ڈمانڈ کرتا ہو کہ اگر مقرر نہ کیا جائے توضرورت سے کم پیسہ ملتا ہے۔ ان کے بارے میں کیا حکم ہے۔ جبکہ اللہ تعالی کا قول ہے ولا تشتروا بآیاتی ثمنا قلیلا۔ سائل: انور علی سعدی کٹیہار بہار الجواب بعون الملک الوھاب امامت اور دینی مدارس میں پڑھانے اور تقریر کرنے کے لئے اجرت لینا اس زمانے میں جائز ہے۔ امامِ اہلسنّت مجدّدِ دین و ملّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن تحریر فرماتے ہیں: ’’اصل حکم یہ ہے کہ وعظ پر اجرت لینی حرام ہے۔ درّمختار میں اسے یہود و نصاریٰ کی ضلالتوں میں سے گِنا مگر ’’کم مّن احکام یختلف باختلاف الزّمان، کما فی العٰلمگیریۃ‘‘ (بہت سے احکام زمانہ کے اختلاف سے مختلف ہوجاتے ہیں جیسا کہ عالمگیریہ میں ہے۔) کلیہ غیرِِ مخصوصہ کہ طاعات پر اُجرت لینا ناجائز ہے ائمہ نے حالاتِ زمانہ دیکھ کر اس میں سے چند چیزیں بضرورت مستثنٰی کیں: امامت، اذان، تعلیمِ قرآنِ مجید، تعلیمِ فقہ، کہ اب مسلمانوں میں یہ اعمال بلانکیر معاوضہ کے ساتھ جاری ہیں، مجمع البحرین وغیرہ میں ان کا پانچواں وعظ گنا و بس۔ فقیہ ابواللیث سمرقندی فرماتے ہیں، میں چند چیزوں پر فتوٰی دیتا تھا، اب ان سے رجوع کیا، ازانجملہ میں فتوٰی دیتا تھا کہ عالم کو جائز نہیں کہ دیہات میں دورہ کرے اور وعظ کے عوض تحصیل کرے مگر اب اجازت دیتا ہوں، لہٰذا یہ ایسی بات نہیں جس پر نکیر لازم ہو۔‘‘ اھ (فتاویٰ رضویہ جدید, ج١٩, ص٥٣٨, کتاب الاجارہ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) ہاں تراویح پڑھانے کی اجرت لینا دینا دونوں ناجائز و گناہ ہے بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے، اگرچہ طے نہ کرے تو بھی ناجائز ہے کہ المعروف کالمشروط اور اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گا یا نہیں لوں گا پھر پڑھائے اور لوگ خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں۔ صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: “آج کل اکثر رواج ہوگیا ہے کہ حافظ کو اجرت دے کر تراویح پڑھواتے ہیں یہ ناجائز ہے ۔دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہیں، اجرت صرف یہی نہیں کہ پیشتر مقرر کر لیں کہ يہ ليں گے یہ دیں گے، بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے، اگرچہ اس سے طے نہ ہوا ہو یہ بھی ناجائز ہے کہالمعروف کالمشروطہاں اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گا یا نہیں لوں گا پھر پڑھے اور حافظ کی خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں کہ الصریح يفوق الدلالۃ ” اھ (بہار شریعت, حصہ٤, ج١, ص٦٩٢, تراویح کا بیان, مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) لہذا صورت مسئولہ میں امام صاحب یا دینی مدارس میں پڑھانے والے یا پیسہ لیکر تقریر کرنے والوں پر شرعاً کوئی الزام نہیں کہ ان کا یہ فعل جائز ہے۔ ہاں تراویح پڑھانے کی اجرت لینے والا ضرور گناہ گار ہے لہذا اس پر لازم ہے کہ سچی توبہ کرے اور لوگوں کو چاہئے کہ تراویح کا نذرانہ طے کئے بغیر دل کھول کر خدمت کریں تاکہ طے کرنے کی نوبت ہی پیش نہ آئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ:گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

Kutubahu & Verified by:

<h3>پیسہ لیکر تقریر کرنا یا امامت کرنا یا مدرسہ میں پڑھانا کیسا ہے؟</h3> مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ حضرت سوال یہ ہے کہ اگر کوئی امام صاحب یا تراویح کی نماز پڑھانے والا یا دینی مدارس میں پڑھانے والا جو اجرت لیتا ہو یا ایسا مقرر جو پیسے کا ڈمانڈ کرتا ہو کہ اگر مقرر نہ کیا جائے توضرورت سے کم پیسہ ملتا ہے۔ ان کے بارے میں کیا حکم ہے۔ جبکہ اللہ تعالی کا قول ہے ولا تشتروا بآیاتی ثمنا قلیلا۔ سائل: انور علی سعدی کٹیہار بہار <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> امامت اور دینی مدارس میں پڑھانے اور تقریر کرنے کے لئے اجرت لینا اس زمانے میں جائز ہے۔ امامِ اہلسنّت مجدّدِ دین و ملّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن تحریر فرماتے ہیں: ’’اصل حکم یہ ہے کہ وعظ پر اجرت لینی حرام ہے۔ درّمختار میں اسے یہود و نصاریٰ کی ضلالتوں میں سے گِنا مگر ’’کم مّن احکام یختلف باختلاف الزّمان، کما فی العٰلمگیریۃ‘‘ (بہت سے احکام زمانہ کے اختلاف سے مختلف ہوجاتے ہیں جیسا کہ عالمگیریہ میں ہے۔) کلیہ غیرِِ مخصوصہ کہ طاعات پر اُجرت لینا ناجائز ہے ائمہ نے حالاتِ زمانہ دیکھ کر اس میں سے چند چیزیں بضرورت مستثنٰی کیں: امامت، اذان، تعلیمِ قرآنِ مجید، تعلیمِ فقہ، کہ اب مسلمانوں میں یہ اعمال بلانکیر معاوضہ کے ساتھ جاری ہیں، مجمع البحرین وغیرہ میں ان کا پانچواں وعظ گنا و بس۔ فقیہ ابواللیث سمرقندی فرماتے ہیں، میں چند چیزوں پر فتوٰی دیتا تھا، اب ان سے رجوع کیا، ازانجملہ میں فتوٰی دیتا تھا کہ عالم کو جائز نہیں کہ دیہات میں دورہ کرے اور وعظ کے عوض تحصیل کرے مگر اب اجازت دیتا ہوں، لہٰذا یہ ایسی بات نہیں جس پر نکیر لازم ہو۔‘‘ اھ (فتاویٰ رضویہ جدید, ج١٩, ص٥٣٨, کتاب الاجارہ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) ہاں تراویح پڑھانے کی اجرت لینا دینا دونوں ناجائز و گناہ ہے بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے، اگرچہ طے نہ کرے تو بھی ناجائز ہے کہ المعروف کالمشروط اور اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گا یا نہیں لوں گا پھر پڑھائے اور لوگ خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں۔ صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: "آج کل اکثر رواج ہوگیا ہے کہ حافظ کو اجرت دے کر تراویح پڑھواتے ہیں یہ ناجائز ہے ۔دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہیں، اجرت صرف یہی نہیں کہ پیشتر مقرر کر لیں کہ يہ ليں گے یہ دیں گے، بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے، اگرچہ اس سے طے نہ ہوا ہو یہ بھی ناجائز ہے کہالمعروف کالمشروطہاں اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گا یا نہیں لوں گا پھر پڑھے اور حافظ کی خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں کہ الصریح يفوق الدلالۃ " اھ (بہار شریعت, حصہ٤, ج١, ص٦٩٢, تراویح کا بیان, مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) لہذا صورت مسئولہ میں امام صاحب یا دینی مدارس میں پڑھانے والے یا پیسہ لیکر تقریر کرنے والوں پر شرعاً کوئی الزام نہیں کہ ان کا یہ فعل جائز ہے۔ ہاں تراویح پڑھانے کی اجرت لینے والا ضرور گناہ گار ہے لہذا اس پر لازم ہے کہ سچی توبہ کرے اور لوگوں کو چاہئے کہ تراویح کا نذرانہ طے کئے بغیر دل کھول کر خدمت کریں تاکہ طے کرنے کی نوبت ہی پیش نہ آئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ <span style="color: #339966;">کتبہ:گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔</span> <span style="color: #339966;">خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...