Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1807
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10.5K Views
بھائی کی زمین غصب کرنے کا حکم از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
بھائی کی زمین غصب کرنے کا حکم از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
بھائی کی زمین غصب کرنے کا حکم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک پرانے سنی عالم دین نے اپنے سگے بھائیوں کے کھیت کے حصے کو جبرا غصب کرلیا ہے، یعنی چوری کرلیا ہے، تو اس عالم دین سے وعظ پند، قربانی، عقیقہ اور میلاد وغیرہ پڑھا سکتے ہیں یا نہیں، اور اگر پڑھا دیں تو قبول بھی ہوتی ہے یا نہیں، حالانکہ اسی گاؤں میں دیگر لوگ منشی بھی اور عالم دین بھی وعظ پند، قربانی، عقیقہ میلاد وغیرہ پڑھنے والے موجود ہیں، ان سے تو نہیں پڑھاتے اور ایسے غصبی عالم دین یعنی امانت میں خیانت کرنے والے سے پڑھاتے ہیں تو پڑھنا قبول اور جائز ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ السائل : محمد نفیس خان مقام موتی پور ہڑہوا پچپڑوا بلرام پورالجواب بعون الملک الوھاب
سوال میں مذکور شخص سخت گنہ گار ہے، جب تک اس زمین سے ناجائز قبضہ ہٹا کر توبہ نہ کرلے اس سے میلاد پڑھانا یا ایسا کوئی کام کرانا جائز نہیں جس میں اس کا اعزاز اور تکریم ہو۔ قرآن مجید میں ہے : “وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠” ترجمہ : اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر جان بوجھ کر کھالو۔( سورۃ البقرۃ :١٨٨) صحیح بخاری شریف میں ہے : حدثنا أبو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا حسين، عن يحيى بن أبي كثير، قال: حدثني محمد بن إبراهيم، أن أبا سلمة، حدثه أنه، كانت بينه وبين أناس خصومة فذكر لعائشة رضي الله عنها، فقالت: يا أبا سلمة اجتنب الأرض، فإن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من ظلم قيد شبر من الأرض طوقه من سبع أرضين۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ٢٤٥٣) اسی میں ہے : حدثنا أبو اليمان، أخبرنا شعيب، عن الزهري، قال: حدثني طلحة بن عبد الله، أن عبد الرحمن بن عمرو بن سهل، أخبره أن سعيد بن زيد رضي الله عنه، قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من ظلم من الأرض شيئا طوقه من سبع أرضين.(صحیح بخاری؛ حدیث نمبر :٢٤٥٢) ابوداؤد شریف میں ہے : “لا يأخذن أحدكم متاع أخيه لاعباً ولا جادّاً ، ومن أخذ عصا أخيه فليردها”” (ابوداؤد، کتاب الادب، باب من یاخذ الشیئی علی المزاح، حدیث رقم :٥٠٠٣-ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء لا یحل لمسلم ان یروع مسلما۔” حدیث رقم :٢١٦٠) ایسے شخص پر لازم ہے کہ اپنے بھائیوں کی زمین سے فورا اپنا ناجائز قبضہ اٹھالے اور ان سے معافی مانگے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرے، چناں چہ حدیث شریف میں ہے : من کانت لہ مظلمة لاخیہ من عرضہ او شیٔ فلیتحللہ منہ الیوم قبل ان لا یکون دینار و لا درھما لہ“ (مشکوة المصابیح، ص: ٤٣٥) رہی بات اس کے اعمال کی قبولیت کی تو اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، وہ چاہے تو اپنے فضل سے قبول کرسکتا ہے، چاہے تو رد کرسکتا ہے. قرآن مجید میں ہے : وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۱۴) ترجمہ: اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے. واللہ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ٤ذوالحجہ١٤٤٣/ ٤ جولائی ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
Kutubahu & Verified by:
<h4>بھائی کی زمین غصب کرنے کا حکم</h4> السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک پرانے سنی عالم دین نے اپنے سگے بھائیوں کے کھیت کے حصے کو جبرا غصب کرلیا ہے، یعنی چوری کرلیا ہے، تو اس عالم دین سے وعظ پند، قربانی، عقیقہ اور میلاد وغیرہ پڑھا سکتے ہیں یا نہیں، اور اگر پڑھا دیں تو قبول بھی ہوتی ہے یا نہیں، حالانکہ اسی گاؤں میں دیگر لوگ منشی بھی اور عالم دین بھی وعظ پند، قربانی، عقیقہ میلاد وغیرہ پڑھنے والے موجود ہیں، ان سے تو نہیں پڑھاتے اور ایسے غصبی عالم دین یعنی امانت میں خیانت کرنے والے سے پڑھاتے ہیں تو پڑھنا قبول اور جائز ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ السائل : محمد نفیس خان مقام موتی پور ہڑہوا پچپڑوا بلرام پور <h4>الجواب بعون الملک الوھاب</h4> سوال میں مذکور شخص سخت گنہ گار ہے، جب تک اس زمین سے ناجائز قبضہ ہٹا کر توبہ نہ کرلے اس سے میلاد پڑھانا یا ایسا کوئی کام کرانا جائز نہیں جس میں اس کا اعزاز اور تکریم ہو۔ قرآن مجید میں ہے : "وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠" ترجمہ : اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر جان بوجھ کر کھالو۔( سورۃ البقرۃ :١٨٨) صحیح بخاری شریف میں ہے : حدثنا أبو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا حسين، عن يحيى بن أبي كثير، قال: حدثني محمد بن إبراهيم، أن أبا سلمة، حدثه أنه، كانت بينه وبين أناس خصومة فذكر لعائشة رضي الله عنها، فقالت: يا أبا سلمة اجتنب الأرض، فإن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من ظلم قيد شبر من الأرض طوقه من سبع أرضين۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ٢٤٥٣) اسی میں ہے : حدثنا أبو اليمان، أخبرنا شعيب، عن الزهري، قال: حدثني طلحة بن عبد الله، أن عبد الرحمن بن عمرو بن سهل، أخبره أن سعيد بن زيد رضي الله عنه، قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من ظلم من الأرض شيئا طوقه من سبع أرضين.(صحیح بخاری؛ حدیث نمبر :٢٤٥٢) ابوداؤد شریف میں ہے : "لا يأخذن أحدكم متاع أخيه لاعباً ولا جادّاً ، ومن أخذ عصا أخيه فليردها"" (ابوداؤد، کتاب الادب، باب من یاخذ الشیئی علی المزاح، حدیث رقم :٥٠٠٣-ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء لا یحل لمسلم ان یروع مسلما۔" حدیث رقم :٢١٦٠) ایسے شخص پر لازم ہے کہ اپنے بھائیوں کی زمین سے فورا اپنا ناجائز قبضہ اٹھالے اور ان سے معافی مانگے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرے، چناں چہ حدیث شریف میں ہے : من کانت لہ مظلمة لاخیہ من عرضہ او شیٔ فلیتحللہ منہ الیوم قبل ان لا یکون دینار و لا درھما لہ“ (مشکوة المصابیح، ص: ٤٣٥) رہی بات اس کے اعمال کی قبولیت کی تو اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، وہ چاہے تو اپنے فضل سے قبول کرسکتا ہے، چاہے تو رد کرسکتا ہے. قرآن مجید میں ہے : وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۱۴) ترجمہ: اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے. واللہ اعلم بالصواب <strong>کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ٤ذوالحجہ١٤٤٣/ ٤ جولائی ٢٠٢٢ </strong> <strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...