Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1811 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.1K Views

اپنی اولاد کے لئے حافظ قرآن بنانے کی نذر مانی اور پورا نہیں کر سکا تو کیا حکم ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

اپنی اولاد کے لئے حافظ قرآن بنانے کی نذر مانی اور پورا نہیں کر سکا تو کیا حکم ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اپنی اولاد کے لئے حافظ قرآن بنانے کی نذر مانی اور پورا نہیں کر سکا تو کیا حکم ہے ؟

السلام علیکم ورحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ خیریت سے ہیں حضرت آپ ؟؟؟ ایک مسئلہ پیش خدمت ہے زید کی بیوی حاملہ تھی اس وقت زید نے منت مانی کہ اگر بچہ پیدا ہوگا تو اس کو حافظ اور عالم بناؤنگا،اسی کے تحت حفظ قرآن مجید شروع کر وادیا اب جبکہ بچہ 15/پارے کا حافظ ہوچکا ہے اس وقت بہت پریشان ہے بول رہا ہے کہ اب یاد ہی نہیں ہو پارہا ہے جو بھی پڑھتا ہوں بھول جاتا ہوں،بہت زیادہ پریشان ہے رو رہا ہے محنت بھی خوب کرتا ہے طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہےدوسری چیز بچپن میں چھت سے زینے پر گرگر لڑھکتے ہوئے نیچے آگیا سر میں بہت زیادہ چوٹ لگ گئی تھی بیہوش ہو گیا تھا،بہت زیادہ الٹی ہورہی تھی الٹی کیساتھ خون بھی آرہا تھا،دماغ بہت کمزور ہےایسی صورت میں زید کیا کرے حفظ چھڑا کر درس نظامیہ پڑھائے یا کیا کرے،منت ہی کیوجہ سے حفظ شروع کرایا تھا مگر اب یہ صورت حال ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی المستفتی برہان الدین احمد بانسی ضلع سدھارتھ نگر یوپی الجواب بعون الملک الوھاب وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ نذر کی دو قسمیں ہیں : شرعی اور عرفی۔ نذر شرعی سے مراد یہ ہے کہ کسی ایسی عبادت کو اپنے اوپر لازم کرلینا جس کی جنس سے کوئی واجب ہواور نذر عرفی کا مطلب یہ ہے کہ کسی خدا رسیدہ بزرگ کی خدمت میں کوئی نذرانہ ہدیہ پیش کرنا۔ مثلاً کوئی یہ کہے کہ اگر فلاں کام ہوجائے تو فلاں بزرگ کے مزار پر چادر چڑھائیں گے یہ نذرِ عُرفی ہے. اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “غیر خدا کیلئے نذرِ فقہی کی ممانعت ہے،اولیائے کرام کےلئے ان کی حیات ظاہری خواہ باطنی میں جو نذر کہی جاتی ہیں یہ نذر فقہی نہیں، عام محاورہ ہے کہ اکابر کے حضور جو ہدیہ کریں اسے نذر کہتے ہیں، بادشاہ نے دربار کیا اسے نذر یں گزریں۔” (فتاوی رضویہ جدید ج١٣ ص۵٩٧) فتاوی فقیہ ملت میں ہے : :”نذر کے دو معنیٰ ہیں،شرعی اور عُرفی۔نذرِ شرعی کے معنی ہیں غیر ضروری عبادت کو اپنے اوپر ضروری کر لینا اور نذرِ عرفی کے معنیٰ ہیں نذرانہ ،ہدیہ یا پیشکش. ( فتاوٰ ی فیض الرسول ٢/ ٣٤١ ،مطبوعہ شبیر برادرز ،لاھور) نذر اگر شرعی ہو یعنی تمام شرطوں کے ساتھ اس کی حقیقتِ شرعیہ متحقق ہو تو اس کا پورا کرنا واجب ہے، چناں چہ بدائع الصنائع میں ہے : “أما أصل الحكم فالناذر لايخلو من أن يكون نذر وسمى، أو نذر ولم يسم، فإن نذر وسمى فحكمه وجوب الوفاء بما سمى، بالكتاب العزيز والسنة والإجماع والمعقول.(٥/ ٩٠ فصل فی حکم النذر) اور نذر غیر شرعی کا پورا کرنا واجب نہیں، لیکن منع بھی نہیں جب کہ اس کو لازم نہ جانے . ردالمحتار میں ہے : ولم یلزم الناذر ما لیس من جنسه فرض، كعيادة مريض ودخول مسجد ولو مسجد الرسول صلى الله عليه وسلم أو الاقصي ، لأنه ليس من جنسها فرض مقصود وهذا هو الضابط كما في الدرر. (رد المختار علی الدر المختار ، ص: ٧٣، مطلب فی احکام النذر) صورتِ مسئولہ میں چوں کہ بچے کو حافظ اور عالم بنانے کی منت نذر شرعی نہیں ہے، کیوں کہ اولا نذر شرعی میں خود نذر ماننے والا اپنے اوپر کوئی عبادت مقصودہ لازم کرتا ہے جب کہ حفظ قرآن یہاں نذر ماننے والے کا فعل نہیں بلکہ اس کے بچے کا فعل ہے۔ ثانیاً پورے قرآن حکیم کا یاد کرنا فرض عین نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے اور نذر شرعی کے لیے منذور کا فرض عین کے جنس سے ہونا در کار ہے۔ علامہ شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “(قَوْلُهُ كَعِيَادَةِ مَرِيضٍ إلَخْ) هَذَا يُفِيدُ أَنَّ مُرَادَهُمْ بِالْفَرْضِ هُنَا فَرْضُ الْعَيْنِ دُونَ مَا يَشْمَلُ فَرْضَ الْكِفَايَةِ. اهـ لہذا اس کی تکمیل واجب نہیں، ہاں یہ ایک بہتر ارادہ تھا جس پر بے حساب اجر و ثواب کی امید ہے تو اس کا پورا کرنا بہتر تھا، لیکن جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے کہ زید نے اس خواہش کی تکمیل کی پوری کوشش کی ہے، مگر بچے کی ذہنی و جسمانی حالت کے سبب وہ اس خواہش کو پوری نہ کرسکا۔ اللہ کریم کی رحمت سے امید ہے کہ وہ اس اچھی نیت پر اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔ اس لیے جتنا قرآن مجید یاد کرلیا ہے اتنا یاد رکھنے کی تلقین اور پختہ تدبیر کی جائے،اور اگر درس نظامی میں پڑھ سکے تو اسی میں پڑھنے کو کہا جائے. قرآن مجید میں ہے : لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ(البقرۃ :٢٨٦) واللہ اعلم بالصواب کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی الجواب صحیح : محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

Kutubahu & Verified by:

<h3>اپنی اولاد کے لئے حافظ قرآن بنانے کی نذر مانی اور پورا نہیں کر سکا تو کیا حکم ہے ؟</h3> السلام علیکم ورحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ خیریت سے ہیں حضرت آپ ؟؟؟ ایک مسئلہ پیش خدمت ہے زید کی بیوی حاملہ تھی اس وقت زید نے منت مانی کہ اگر بچہ پیدا ہوگا تو اس کو حافظ اور عالم بناؤنگا،اسی کے تحت حفظ قرآن مجید شروع کر وادیا اب جبکہ بچہ 15/پارے کا حافظ ہوچکا ہے اس وقت بہت پریشان ہے بول رہا ہے کہ اب یاد ہی نہیں ہو پارہا ہے جو بھی پڑھتا ہوں بھول جاتا ہوں،بہت زیادہ پریشان ہے رو رہا ہے محنت بھی خوب کرتا ہے طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہےدوسری چیز بچپن میں چھت سے زینے پر گرگر لڑھکتے ہوئے نیچے آگیا سر میں بہت زیادہ چوٹ لگ گئی تھی بیہوش ہو گیا تھا،بہت زیادہ الٹی ہورہی تھی الٹی کیساتھ خون بھی آرہا تھا،دماغ بہت کمزور ہےایسی صورت میں زید کیا کرے حفظ چھڑا کر درس نظامیہ پڑھائے یا کیا کرے،منت ہی کیوجہ سے حفظ شروع کرایا تھا مگر اب یہ صورت حال ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی المستفتی برہان الدین احمد بانسی ضلع سدھارتھ نگر یوپی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ نذر کی دو قسمیں ہیں : شرعی اور عرفی۔ نذر شرعی سے مراد یہ ہے کہ کسی ایسی عبادت کو اپنے اوپر لازم کرلینا جس کی جنس سے کوئی واجب ہواور نذر عرفی کا مطلب یہ ہے کہ کسی خدا رسیدہ بزرگ کی خدمت میں کوئی نذرانہ ہدیہ پیش کرنا۔ مثلاً کوئی یہ کہے کہ اگر فلاں کام ہوجائے تو فلاں بزرگ کے مزار پر چادر چڑھائیں گے یہ نذرِ عُرفی ہے. اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "غیر خدا کیلئے نذرِ فقہی کی ممانعت ہے،اولیائے کرام کےلئے ان کی حیات ظاہری خواہ باطنی میں جو نذر کہی جاتی ہیں یہ نذر فقہی نہیں، عام محاورہ ہے کہ اکابر کے حضور جو ہدیہ کریں اسے نذر کہتے ہیں، بادشاہ نے دربار کیا اسے نذر یں گزریں۔" (فتاوی رضویہ جدید ج١٣ ص۵٩٧) فتاوی فقیہ ملت میں ہے : :”نذر کے دو معنیٰ ہیں،شرعی اور عُرفی۔نذرِ شرعی کے معنی ہیں غیر ضروری عبادت کو اپنے اوپر ضروری کر لینا اور نذرِ عرفی کے معنیٰ ہیں نذرانہ ،ہدیہ یا پیشکش. ( فتاوٰ ی فیض الرسول ٢/ ٣٤١ ،مطبوعہ شبیر برادرز ،لاھور) نذر اگر شرعی ہو یعنی تمام شرطوں کے ساتھ اس کی حقیقتِ شرعیہ متحقق ہو تو اس کا پورا کرنا واجب ہے، چناں چہ بدائع الصنائع میں ہے : "أما أصل الحكم فالناذر لايخلو من أن يكون نذر وسمى، أو نذر ولم يسم، فإن نذر وسمى فحكمه وجوب الوفاء بما سمى، بالكتاب العزيز والسنة والإجماع والمعقول.(٥/ ٩٠ فصل فی حکم النذر) اور نذر غیر شرعی کا پورا کرنا واجب نہیں، لیکن منع بھی نہیں جب کہ اس کو لازم نہ جانے . ردالمحتار میں ہے : ولم یلزم الناذر ما لیس من جنسه فرض، كعيادة مريض ودخول مسجد ولو مسجد الرسول صلى الله عليه وسلم أو الاقصي ، لأنه ليس من جنسها فرض مقصود وهذا هو الضابط كما في الدرر. (رد المختار علی الدر المختار ، ص: ٧٣، مطلب فی احکام النذر) صورتِ مسئولہ میں چوں کہ بچے کو حافظ اور عالم بنانے کی منت نذر شرعی نہیں ہے، کیوں کہ اولا نذر شرعی میں خود نذر ماننے والا اپنے اوپر کوئی عبادت مقصودہ لازم کرتا ہے جب کہ حفظ قرآن یہاں نذر ماننے والے کا فعل نہیں بلکہ اس کے بچے کا فعل ہے۔ ثانیاً پورے قرآن حکیم کا یاد کرنا فرض عین نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے اور نذر شرعی کے لیے منذور کا فرض عین کے جنس سے ہونا در کار ہے۔ علامہ شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "(قَوْلُهُ كَعِيَادَةِ مَرِيضٍ إلَخْ) هَذَا يُفِيدُ أَنَّ مُرَادَهُمْ بِالْفَرْضِ هُنَا فَرْضُ الْعَيْنِ دُونَ مَا يَشْمَلُ فَرْضَ الْكِفَايَةِ. اهـ لہذا اس کی تکمیل واجب نہیں، ہاں یہ ایک بہتر ارادہ تھا جس پر بے حساب اجر و ثواب کی امید ہے تو اس کا پورا کرنا بہتر تھا، لیکن جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے کہ زید نے اس خواہش کی تکمیل کی پوری کوشش کی ہے، مگر بچے کی ذہنی و جسمانی حالت کے سبب وہ اس خواہش کو پوری نہ کرسکا۔ اللہ کریم کی رحمت سے امید ہے کہ وہ اس اچھی نیت پر اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔ اس لیے جتنا قرآن مجید یاد کرلیا ہے اتنا یاد رکھنے کی تلقین اور پختہ تدبیر کی جائے،اور اگر درس نظامی میں پڑھ سکے تو اسی میں پڑھنے کو کہا جائے. قرآن مجید میں ہے : لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ(البقرۃ :٢٨٦) واللہ اعلم بالصواب <strong>کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی </strong> <strong>دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong> <strong>الجواب صحیح : محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...