Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1819
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
12.2K Views
میت کے ورثاء میں صرف پوتے اور پوتیاں ہوں تو اسکی جائداد کس طرح تقسیم ہوگی؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
میت کے ورثاء میں صرف پوتے اور پوتیاں ہوں تو اسکی جائداد کس طرح تقسیم ہوگی؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
میت کے ورثاء میں صرف پوتے اور پوتیاں ہوں تو اسکی جائداد کس طرح تقسیم ہوگی؟
کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص مسمی راج ولی مرحوم کے تین بیٹے ہیں (1) جمعہ (2) کالو (3) حسن دین جمعہ کے دو بیٹے دو بیٹیاں ہیں۔کالو کی صرف تین بیٹیاں ہیں۔ حسن دین کے دو بیٹے ایک بیٹی ، راج ولی کے تینوں بیٹے انتقال کر چکے ہیں . دریافت طلب امر یہ ہے کہ راج ولی مرحوم کی جائیداد اولاد ذکورنہ ہونے کی صورت میں شرعا کیسے تقسیم ہوگی متعلقہ رشتہ داروں کی تفصیل بھی درج کر دی گئی ہے۔ المستفتی: محمد یونس ولد غلام حسین ساکن کالا بن تحصیل مینڈھر ضلع پونچھ۔ الجواب بعون الملك الوهاب صورت مستفسرہ میں بعد تقدیم مایقدم فی الارث وانحصار ورثہ فی المذکورین راج ولی مرحوم کی جائداد کے کل ۱۴ حصے کئے جائیں، ۸ حصے چاروں پوتوں کو دیں ہر ایک کو دو دو اور ۶ حصے چھ پوتیوں کو ہر ایک کو ایک ایک- سراجی میں ہے “الأقرب فالأقرب يرجحون بقرب الدرجة أعنى أولادهم بالميراث جزء الميت أي البنون ثم بنوهم وان سفلوا”(السراجى فى الميراث/باب العصبات/ ص ۳۶/مکتبة البشرى،کراچی،پاکستان) نیز اسی میں ہے”ولا يرثن مع الصلبيتين الا أن يكون بحذائهن أو أسفل منهن غلام فيعصبهن والباقى بينهم للذكر مثل حظ الأنثين”(السراجی فی المیراث/أحوال بنات الابن/ص ۲۰) یہ تقسیم اس صورت میں ہے جب دادا کا کوئی بیٹا،بیٹی یا دادی موجود نہ ہو ورنہ تقسیم الگ ہوگی-واللہ تعالی أعلم بالصواب کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خطیب نور الایمان جامع مسجد اسلام پور تھنہ منڈی راجوری جموں وکشمیر-مقیم حال وادی کشمیر الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
Kutubahu & Verified by:
<h3>میت کے ورثاء میں صرف پوتے اور پوتیاں ہوں تو اسکی جائداد کس طرح تقسیم ہوگی؟</h3> کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص مسمی راج ولی مرحوم کے تین بیٹے ہیں (1) جمعہ (2) کالو (3) حسن دین جمعہ کے دو بیٹے دو بیٹیاں ہیں۔کالو کی صرف تین بیٹیاں ہیں۔ حسن دین کے دو بیٹے ایک بیٹی ، راج ولی کے تینوں بیٹے انتقال کر چکے ہیں . دریافت طلب امر یہ ہے کہ راج ولی مرحوم کی جائیداد اولاد ذکورنہ ہونے کی صورت میں شرعا کیسے تقسیم ہوگی متعلقہ رشتہ داروں کی تفصیل بھی درج کر دی گئی ہے۔ المستفتی: محمد یونس ولد غلام حسین ساکن کالا بن تحصیل مینڈھر ضلع پونچھ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong> الجواب بعون الملك الوهاب</strong></span> صورت مستفسرہ میں بعد تقدیم مایقدم فی الارث وانحصار ورثہ فی المذکورین راج ولی مرحوم کی جائداد کے کل ۱۴ حصے کئے جائیں، ۸ حصے چاروں پوتوں کو دیں ہر ایک کو دو دو اور ۶ حصے چھ پوتیوں کو ہر ایک کو ایک ایک- سراجی میں ہے "الأقرب فالأقرب يرجحون بقرب الدرجة أعنى أولادهم بالميراث جزء الميت أي البنون ثم بنوهم وان سفلوا"(السراجى فى الميراث/باب العصبات/ ص ۳۶/مکتبة البشرى،کراچی،پاکستان) نیز اسی میں ہے"ولا يرثن مع الصلبيتين الا أن يكون بحذائهن أو أسفل منهن غلام فيعصبهن والباقى بينهم للذكر مثل حظ الأنثين"(السراجی فی المیراث/أحوال بنات الابن/ص ۲۰) یہ تقسیم اس صورت میں ہے جب دادا کا کوئی بیٹا،بیٹی یا دادی موجود نہ ہو ورنہ تقسیم الگ ہوگی-واللہ تعالی أعلم بالصواب <strong>کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خطیب نور الایمان جامع مسجد اسلام پور تھنہ منڈی راجوری جموں وکشمیر-مقیم حال وادی کشمیر</strong> <strong>الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...