Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

امام تکبیر تحریمہ بلند سے کہنا بھول جائے پھر کچھ دیر بعد یاد آئے تو کیا حکم ہے؟

امام تکبیر تحریمہ بلند سے کہنا بھول جائے پھر کچھ دیر بعد یاد آئے تو کیا حکم ہے؟
Reference 1823 September 18, 2025 12,623 views
اصل سوالامام تکبیر تحریمہ بلند سے کہنا بھول جائے پھر کچھ دیر بعد یاد آئے تو کیا حکم ہے؟

امام تکبیر تحریمہ بلند سے کہنا بھول جائے پھر کچھ دیر بعد یاد آئے تو کیا حکم ہے؟

کیا مسبوق اپنی چھوٹی ہوئی رکعتوں میں ثناء پڑھے گا یا نہیں؟ اگر مسبوق امام کے قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد درود شریف بھی پڑھ لے تو کیا اس پر سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟ حضرت قبلہ مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہیں کچھ۔ 1- جب امام تکبیر کہے جماعت کھڑی ہو اور امام تکبیر بلند آواز سے کہنا بھول جاے اور پھر کچھ سیکنڈ میں اسے یاد اے کے تکبیر بلند اواز سے کہنا بھول گیا۔ کیا امام کو وہیں نماز توڑکر دوبارہ کہنا ہوگی تکبیر یا۔ اگے جاری رکھے۔ 2 ۔ کیا مسبوق کو بھی ثناء پڑھنے کی ضرورت ہے جب وہ اپنی چھوٹی ہوی رکتیں پوری کرے گا۔ 3- اگر مسبوق آخری اتحیات آدھی کے بجائے آگے درودشریف بھی پڑھ دے تو کیا جب وہ اپنی چھوٹی ہوی رکتیں پوری کرے گا تو اسکو سجدہ سہو کرنا لازم ہے یا نہیں۔ المستفتی:- ناچیز واصف قادری تھنہ منڈی الجواب بعون الملك الوهاب (۱) نماز میں امام کا تکبیر تحریمہ اور یونہی تکبیرات انتقال بلند آواز سے کہنا سنت ہے۔ہاں تکبیرِ تحریمہ میں کم از کم اتنی آواز ضروری ہے کہ اگر آس پاس شور و غل یا کہنے والے کو ثقلِ سماعت نہ ہو تو خود سن سکے-اب اگر امام نے بھول کر تکبیر تحريمہ کہی مگر بلند آواز سے نہ کہی اور مقتدیوں نے امام کی حرکات مثلا ہاتھ کانوں تک اٹھا کر ناف کے نیچے باندھ لینے وغیرہ کو دیکھ کر نماز شروع کرلی تو امام نماز کو جاری رکھے گا توڑ کر دوبارہ تکبیر نہ کہے گا اور امام پر سجدہ سہو بھی نہ ہوگا کیونکہ سجدہ سہو کسی واجب کے بھولے سے چھوٹ جانے پر ہوتا ہے سنن ومستحبات کے چھوٹنے پر نہیں، اس لیےصورت مسؤلہ میں نماز تو ہوجائے گی البتہ ایسی نماز کا دہرا لینا بہتر ہے- درمختار میں ہے”(وجهر الامام بالتكبير) بقدر حاجته للاعلام بالدخول والانتقال”(ج ۱ ص ۴۷۵/المکتبة الاسلامية) رد المحتار میں ہے” واشار بقوله الانتقال الى أن المراد بالتكبير هنا ما يشمل تكبير الاحرام وغيره”( ج ۱ ص ۵۱۲/المکتبة الشيعية) اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز سے اسی طرح کا سوال ہوا کہ”کیا فرماتے ہیں علمائے دین اگر امام نماز پڑھائے جماعت کی اور اللہ آواز سے کہے اور اکبر نہ کہے کہ کسی مقتدی کو نہ سنائی دے جائز یا ناجائز ہے” تو آپ علیہ الرحمہ اس کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں “اللہ اکبر پورا بآواز کہنا مسنون ہے سنت ترک ہوئی نماز میں کراہت تنزیہی آئی مگر نماز ہوگئی”(ج ۳ ص ۱۴۷) بہار شریعت میں ہے”امام کو تکبیر تحریمہ اور تکبیرات انتقال سب میں جہر مسنون ہے”(ج ۱ ح ۳ ص ۵۲۱/مکتبة المدينه دعوت اسلامی) نیز اسی میں ہے”سنن ومستحبات مثلا تعوذ،تسمیہ،ثنا،آمین، تکبیرات انتقال، تسبیحات کے ترک سے بھی سجدہ سہو نہیں، بلکہ نماز ہوگئی مگر اعادہ مستحب ہے سہوا ترک کیا ہو یا قصدا”( ح ۴ ص ۷۰۹) والله تعالى أعلم (۲) مسبوق نے اگر پہلے ثنا پڑھ لی ہےتو اب تعوذ یعنی اعوذ باللہ سے شروع کرے لیکن اگر پہلے نہیں پڑھی تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد پڑھ لے کیونکہ قرأت کے حق میں یہ اس کی پہلی رکعت ہے اور پہلی میں سورہ فاتحہ سے پہلے ثنا اور تعوذ وتسمیہ بھی پڑھے جاتے ہیں- در مختار میں ہے” والمسبوق من سبقه الامام بها أو ببعضها وهو منفرد)حتى يثني ويتعوذ ويقرأ،وان قرأ مع الامام لعدم الاعتداد بها لكراهتها”( ج ۱ ص ۵۹۶/ المکتبة الشاملة) نیز اسی میں ہے”و يقضى أول صلاة فى حق قراءة وآخرها فى حق تشهد”( حوالہ سابق) فتاوی رضویہ میں اسی طرح کے سوال کے جواب میں ہے” سلام امام کے بعد کھڑے ہوکر سبحنك اللهم الخ پہلے اگر نہ پڑھا تو اب پڑھے ورنہ اعوذ سے شروع کرے”(ج ۳ ص ۳۹۳) والله تعالى أعلم (۳) مسبوق امام کے قعدہ اخیرہ میں تشہد کو اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھے کہ امام کے سلام پھیرنے کے وقت مکمل ہو لیکن اگر پہلے مکمل کرلیا ہے تو پھر “أشھد أن لا الہ الا اللہ الی الخ کی تکرار کرے یا خاموش رہے اور درود شریف ودیگر دعائیں نہ پڑھے لیکن اگر اس نے تشہد کے بعد درود شریف و دعائیں بھی پڑھ لیں ہیں تو امام کی اقتدا میں ہونے کی وجہ سے اس پر سجدہ سہو لازم نہ ہوگا- فتاوی عالمگیری میں ہے”ومنها أن المسبوق ببعض الركعات يتابع الامام في التشهد الأخير واذا أتم التشهد لا يشتغل بما بعده من الدعوات ثم ماذا يفعل تكلموا فيه عن ابن شجاع أنه يكرر التشهد أي قوله:أشهد أن لا اله الا الله وهو المختار كذافي الغياثية والصحيح أن المسبوق يترسل في التشهد حتي يفرغ عند سلام الامام،كذا في الوجيز للكردري وفتاوي قاضي خان،وهكذا في الخلاصة وفتح القدير”(ج ۱ ص ۱۰۱/دار الکتب العلمیه،بیروت،لبنان) نیز اسی میں ہے”سهو المؤتم لا يوجب السجدة ولو ترك الامام سجود السهو فلا سهو على المأموم،كذا في المحيط”( حوالہ سابق ص ۱۴۲)واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ:-محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر-مقیم حال اجمیر معلی زادھا اللہ تعالی فضلا وشرفا الجواب صحيح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.