Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1825
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
12.8K Views
حاجت اصلیہ سے کیا مراد ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
حاجت اصلیہ سے کیا مراد ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
حاجت اصلیہ سے کیا مراد ہے ؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ حضرت حاجت اصلیہ سے کیا مراد ہے آسان لفظوں میں وضاحت فرمادیں بڑی مہربانی ہوگی فقط والسلام سائل: نور محمد قادری خادم الطلبہ دارالعلوم غوثیہ قطبیہ سیون بازید پور ضلع ایودھیا فیض اباد یوپی۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب زندگی بسر کرنے میں آدمی کوجس چیزکی ضرورت ہو وہ حاجت اصلیہ ہے مثلا رہنے کامکان، خانہ داری کے سامان پہننے کے کپڑے کھانے پینے کی چیزیں سفر کرنے کے لئے سواری خدمت کے لیے لونڈی غلام، آلات حرب، پیشہ وروں کے اوزار، اہل علم کے لیے حاجت کی کتابیں وغیرہ۔ صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: “حاجت اصلیہ یعنی جس کی طرف زندگی بسر کرنے میں آدمی کو ضرورت ہے اس میں زکاۃ واجب نہیں، جیسے رہنے کا مکان، جاڑے گرمیوں میں پہننے کے کپڑے، خانہ داری کے سامان، سواری کے جانور، خدمت کے لیے لونڈی غلام، آلات حرب، پیشہ وروں کے اوزار، اہل علم کے لیے حاجت کی کتابیں ، کھانے کے لیے غلہ۔ ” اھ (بہار شریعت حصہ ٥، ج١ ، ص٨٨٠، زکوٰۃ کا بیان ، مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا
Kutubahu & Verified by:
<h3>حاجت اصلیہ سے کیا مراد ہے ؟</h3> مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ حضرت حاجت اصلیہ سے کیا مراد ہے آسان لفظوں میں وضاحت فرمادیں بڑی مہربانی ہوگی فقط والسلام سائل: نور محمد قادری خادم الطلبہ دارالعلوم غوثیہ قطبیہ سیون بازید پور ضلع ایودھیا فیض اباد یوپی۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> زندگی بسر کرنے میں آدمی کوجس چیزکی ضرورت ہو وہ حاجت اصلیہ ہے مثلا رہنے کامکان، خانہ داری کے سامان پہننے کے کپڑے کھانے پینے کی چیزیں سفر کرنے کے لئے سواری خدمت کے لیے لونڈی غلام، آلات حرب، پیشہ وروں کے اوزار، اہل علم کے لیے حاجت کی کتابیں وغیرہ۔ صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: "حاجت اصلیہ یعنی جس کی طرف زندگی بسر کرنے میں آدمی کو ضرورت ہے اس میں زکاۃ واجب نہیں، جیسے رہنے کا مکان، جاڑے گرمیوں میں پہننے کے کپڑے، خانہ داری کے سامان، سواری کے جانور، خدمت کے لیے لونڈی غلام، آلات حرب، پیشہ وروں کے اوزار، اہل علم کے لیے حاجت کی کتابیں ، کھانے کے لیے غلہ۔ " اھ (بہار شریعت حصہ ٥، ج١ ، ص٨٨٠، زکوٰۃ کا بیان ، مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...