Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1842
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.9K Views
امام صاحب کا کسی نمازی کے چہرہ کے سامنے درس دینا کیسا ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
امام صاحب کا کسی نمازی کے چہرہ کے سامنے درس دینا کیسا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
امام صاحب کا کسی نمازی کے چہرہ کے سامنے درس دینا کیسا ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام۔ مسئلہ ذیل کے بارے میں نماز کے بعد امام صاحب فورًا قبلہ طرف کی پیٹھ کر کے درس دینے لگ جاتے ہیں حالانکہ مسبوق امام کے سامنے دوسری صف مین اپنی نمازیں پوری کررہا ہوتا ہے تو کیا اس میں کوئی حرج نہیں ہے حالانکہ میں نے کتاب میں پڑھا ہے کسی کےچہرے کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہےبحوالہ جواب عنایت فرماںیں سائل شہباز ممبئی الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں حکم شرعی یہ ہے کہ امام صاحب کو بعد نماز مسبوق کے سامنے درس دینا مکروہ تحریمی ہے ، امام صاحب کو اس سے اجتناب و احتراز ضروری ہے، ہاں اگر امام صاحب ایک جانب ہو جائیں یا پھر دوسری جگہ بیٹھ کر درس دیں جس سے اس مسبوق کی نماز میں کسی طرح کا خلل و پریشانی نہ ہو تو کوئی حرج نہیں، خاتم المحققین علامہ ابن عابدین الشامی فرماتے ہیں ۔ ” صلوتہ الی وجہ انسان فاالاستقبال لو من الصلی فالکراھۃ علیہ والا فعلی المستقبل ” (تنویر الابصار ودر المختار جلد دوم کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیھا مطلب اذا تردد الحکم بین سنۃ وبدعۃ صفحہ 496،497 دار الکتب العلمیہ مطبوعہ بیروت لبنان ) ترجمہ ۔ “”کسی انسان کے چہرہ کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اگر چہرہ سامنے کرنا نمازی کی طرف سے ہو تو کراہت اس نمازی پر ہوگی ورنہ چہرہ سامنے کرنے والے پر ہوگی “” صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی تحریر فرماتے ہیں ۔ *کسی شخص کے مونھ کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے یوہیں دوسرے شخص کو مصلی کی طرف مونھ کرنا بھی ناجائز و گناہ ہے یعنی اگر مصلی کی جانب سے ہو تو کراہت مصلی پر ہے ورنہ اس پر * (بہار شریعت جلد اول حصہ سوم مکروہات کا بیان مسئلہ نمبر 12، صفحہ 626 ۔مطبوعہ المکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی) مذکورہ صورت میں حکم شرعی کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی نمازی کے چہرہ کے سامنے درس دینا مکروہ تحریمی ہے اور کراہت امام صاحب پر ہوگی ، امام صاحب پر اس مکروہ فعل سے احتراز و اجتناب لازم و ضروری ہے، اگر در س ہی دینا ہے تو مسجد کے ایک جانب درس دیں جس سے کسی نمازی کی نماز میں کسی طرح خلل واقع نہ ہو۔ واللہ اعلم باالصواب کتبـــہ :حضرت مولانا محمد ایاز حسین تسلیمی ساکن محلہ ٹانڈہ متصل مسجد مدار اعظم بہیڑی ضلع بریلی یوپی انڈیا
Kutubahu & Verified by:
<h3>امام صاحب کا کسی نمازی کے چہرہ کے سامنے درس دینا کیسا ہے؟</h3> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام۔ مسئلہ ذیل کے بارے میں نماز کے بعد امام صاحب فورًا قبلہ طرف کی پیٹھ کر کے درس دینے لگ جاتے ہیں حالانکہ مسبوق امام کے سامنے دوسری صف مین اپنی نمازیں پوری کررہا ہوتا ہے تو کیا اس میں کوئی حرج نہیں ہے حالانکہ میں نے کتاب میں پڑھا ہے کسی کےچہرے کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہےبحوالہ جواب عنایت فرماںیں سائل شہباز ممبئی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> صورت مستفسرہ میں حکم شرعی یہ ہے کہ امام صاحب کو بعد نماز مسبوق کے سامنے درس دینا مکروہ تحریمی ہے ، امام صاحب کو اس سے اجتناب و احتراز ضروری ہے، ہاں اگر امام صاحب ایک جانب ہو جائیں یا پھر دوسری جگہ بیٹھ کر درس دیں جس سے اس مسبوق کی نماز میں کسی طرح کا خلل و پریشانی نہ ہو تو کوئی حرج نہیں، خاتم المحققین علامہ ابن عابدین الشامی فرماتے ہیں ۔ " صلوتہ الی وجہ انسان فاالاستقبال لو من الصلی فالکراھۃ علیہ والا فعلی المستقبل " (تنویر الابصار ودر المختار جلد دوم کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیھا مطلب اذا تردد الحکم بین سنۃ وبدعۃ صفحہ 496،497 دار الکتب العلمیہ مطبوعہ بیروت لبنان ) ترجمہ ۔ ""کسی انسان کے چہرہ کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اگر چہرہ سامنے کرنا نمازی کی طرف سے ہو تو کراہت اس نمازی پر ہوگی ورنہ چہرہ سامنے کرنے والے پر ہوگی "" صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی تحریر فرماتے ہیں ۔ *کسی شخص کے مونھ کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے یوہیں دوسرے شخص کو مصلی کی طرف مونھ کرنا بھی ناجائز و گناہ ہے یعنی اگر مصلی کی جانب سے ہو تو کراہت مصلی پر ہے ورنہ اس پر * (بہار شریعت جلد اول حصہ سوم مکروہات کا بیان مسئلہ نمبر 12، صفحہ 626 ۔مطبوعہ المکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی) مذکورہ صورت میں حکم شرعی کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی نمازی کے چہرہ کے سامنے درس دینا مکروہ تحریمی ہے اور کراہت امام صاحب پر ہوگی ، امام صاحب پر اس مکروہ فعل سے احتراز و اجتناب لازم و ضروری ہے، اگر در س ہی دینا ہے تو مسجد کے ایک جانب درس دیں جس سے کسی نمازی کی نماز میں کسی طرح خلل واقع نہ ہو۔ واللہ اعلم باالصواب <strong>کتبـــہ :حضرت مولانا محمد ایاز حسین تسلیمی ساکن محلہ ٹانڈہ متصل مسجد مدار اعظم بہیڑی ضلع بریلی یوپی انڈیا</strong>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...