Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1845 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.2K Views

حلالہ کے لئے بار بار طلاق دینا

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

حلالہ کے لئے بار بار طلاق دینا

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

حلالہ کے لئے بار بار طلاق دینا

السلام علیکم و رحمۃاللہ زید اول اور زید ثانی دونوں سگے بھائی ہیں دونوں کی ابھی ابھی کچھ مہینے پہلے ہی شادی ہوئی ہے اور دونوں ساتھ میں رہتے ہیں شادی کے کچھ مہینوں بعد ہی زید اول کے ذہن میں ایک شیطانی خیال آیا اور اس نے اس شیطانی پلان میں زید ثانی کو بھی راضی کر لیا پلان یہ تھا کہ زید اول اور زید ثانی دونوں اپنی اپنی بیویوں کو ایک ساتھ تین طلاق دیں گے اور طلاق کے بعد تین حیض کی عدت گزارنے کے بعد حلالہ کے لیۓ زید اول زید ثانی کی بیوی سے نکاح کرے گا اور زید ثانی زید اول کی بیوی سے نکاح کرے گا اور جب تک یہ لوگ چاہیں ایک دوسرے کی بیوی کو اپنے نکاح میں رکھیں پھر کچھ مہینوں بعد طلاق دے کر پھر سے اپنی اپنی بیوی سے نکاح کر لیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ زید اول اپنی بیوی کو تو پسند کرتا ہے مگر ساتھ ہی زید ثانی کی بیوی کو بھی پسند کرتا ہے اور اُس کی بیوی کے ساتھ مزے کرنے کے لیۓ یہ عمل کر رہا ہے اوریہی سوچ زید ثانی کی بھی ہے۔ یہ پورا عمل پہلے سے پلاننگ کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل زید کچھ کچھ سالوں میں بار بار کرنا چاہتا ہے مطلب جب بھی خواہشات جاگیں تو طلاق پھر حلالہ اور پھر نکاح مطلب دونوں نے نکاح اور طلاق کو مذاق اور حلوہ سمجھ لیا ہے۔ جب دونوں سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں کرنا چاہتے ہو تو انہوں نے کہا کہ ہاں شاید ہم غلط ہوں مگر اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیۓ ہم ایک دوسرے کے ساتھ نا چیٹینگ (Cheating) کر رہے ہیں اور نا ہی زنا کر رہے ہیں ہم جو بھی کر رہے ہیں حلال طریقے سے کر رہے ہیں۔ اور یہ عمل اسلام میں جائز ہے۔ اب مفتیان کرام کی بارگاہ میں یہ سوال ہے کہ زید کا یہ عمل کس حد تک جائز ہے، شریعت اسلامیہ میں ایسا کرنے والے پر کیا سزا ہے۔ اور شریعت اسلامیہ اس بارے میں کیا کہتی ہے؟سائل: عرفان (اندور) وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجوابــــــــــــــ ابغض الحلال الی اللہ الطلاق یعنی حلال چیزوں میں سب سے زیادہ اللہ کو ناپسندیدہ طلاق ہے(ابن ماجہ، ج۲،ص۶۴۲)۔ عن معاذ بن جبل قال:قال لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا معاذ ما خلق اللہ شیأ علی وجہ الارض احب الیہ من العتاق ولا خلق اللہ شیأ علی وجہ الارض ابغض الیہ من الطلاق حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ کوئی چیز اللہ نے غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ روئے زمین پر پیدا نہیں کی اور کوئی چیز زمین پر طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ پیدا نہیں کی (دار قطنی،ج۵،ص۶۳)۔ عن ابن وھب قال اخبرنی مخرمۃ عن ابیہ قال محمود بن لبید قال اخبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن رجل طلق امرأتہ ثلاث تطلیقات جمیعا فقام غضبانا ثم قال ایلعب بکتاب اللہ وانا بین اظھرکم نسائی نے محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ ایک شخص نے اپنی زوجہ کو تین طلاق ایک ساتھ دیں تو اس کو سن کر غصہ میں کھڑے ہو گئے پھر فرمایا کہ کیا وہ کتاب اللہ سے کھیل کرتا ہے حالانکہ میں ابھی تمہارے اندر موجود ہوں (ج۵،ص۱۴۲)۔ طلاق دینا جائز ہے مگر بے وجہ شرعی طلاق دینا ممنوع ہے۔(بہار شریعت،ج۸،ص۱۱۰) باضرورت مرد کو طلاق دینا مکروہ ہے۔ (فتاوی بحر العلوم،ج۳،ص۹۹) تین طلاق ایک ساتھ دینا حرام و گناہ ہے۔ ہدایہ میں ہے “ﻭﻃﻼﻕ اﻟﺒﺪﻋﺔ ﺃﻥ ﻳﻄﻠﻘﻬﺎ ﺛﻼﺛﺎ ﺑﻜﻠﻤﺔ ﻭاﺣﺪﺓ ﺃﻭ ﺛﻼﺛﺎ ﻓﻲ ﻃﻬﺮ ﻭاﺣﺪ ﻓﺈﺫا ﻓﻌﻞ ﺫﻟﻚ ﻭﻗﻊ اﻟﻄﻼﻕ ﻭﻛﺎﻥ ﻋﺎﺻﻴﺎ”(ج١،ص٢٢١،ش) لانہ ارتکب حراما۔ دونوں زید ایک ساتھ تین طلاق دینے کے سبب حرام کار اور گناہ گار ہوے اسی طرح مکروہ و ممنوع کے مرتکب ان پر لازم ہے کہ فورا توبہ و استغفار اور صدقہ و خیرات کریں اور اپنے قبیح وشنیع عمل سے باز آجائیں اور اللہ کے غضب و قہر اور اسکی ناپسندیدگی سے ڈریں اور اللہ و رسول کے احکام کو ہنسی اور ٹھٹھا بناکر شیطان کی قربت کا کام کرکے دنیا ہی میں اپنے اوپر عذاب الہی کو دعوت نہ دیں۔ چونکہ یہ عمل بار بار ہوا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیویاں بھی اس عمل سے راضی اور فعل حرام میں معاون ہیں لہذا وہ بھی توبہ و استغفار اور صدقہ و خیرات کریں اللہ و رسول کی ناراضگی سے ڈریں اور اگر اب کے بعد وہ طلاق دیں تو ان سے نکاح نہ کریں کہ تین طلاق کے بعد عورت آزاد ہوجاتی ہے اور اسے اپنے نفس پر اختیار حاصل ہوجاتا ہے کہ چاہے کسی سے نکاح کر لے یا کسی سے نہ کرے اور یہ نہ سمجھے کہ طلاق کے بعد حلالہ کرکے اسی شوہر سے نکاح ضروری ہے۔ اور اگر یہ لوگ توبہ نہ کریں اور اس حرام سے باز نہ آئیں تو تمام لوگوں پر لازم ہے کہ ان کا سماجی بائیکاٹ کریں. واللہ تعالیٰ اعلم کتبـــــہ : مفتی شان محمد المصباحی القادری خادم التدریس جامعہ مظہرالعلوم گرسہاےگنج قنوج ۳۰ مئی ۲۰۱۹

Kutubahu & Verified by:

<h2>حلالہ کے لئے بار بار طلاق دینا</h2> السلام علیکم و رحمۃاللہ زید اول اور زید ثانی دونوں سگے بھائی ہیں دونوں کی ابھی ابھی کچھ مہینے پہلے ہی شادی ہوئی ہے اور دونوں ساتھ میں رہتے ہیں شادی کے کچھ مہینوں بعد ہی زید اول کے ذہن میں ایک شیطانی خیال آیا اور اس نے اس شیطانی پلان میں زید ثانی کو بھی راضی کر لیا پلان یہ تھا کہ زید اول اور زید ثانی دونوں اپنی اپنی بیویوں کو ایک ساتھ تین طلاق دیں گے اور طلاق کے بعد تین حیض کی عدت گزارنے کے بعد حلالہ کے لیۓ زید اول زید ثانی کی بیوی سے نکاح کرے گا اور زید ثانی زید اول کی بیوی سے نکاح کرے گا اور جب تک یہ لوگ چاہیں ایک دوسرے کی بیوی کو اپنے نکاح میں رکھیں پھر کچھ مہینوں بعد طلاق دے کر پھر سے اپنی اپنی بیوی سے نکاح کر لیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ زید اول اپنی بیوی کو تو پسند کرتا ہے مگر ساتھ ہی زید ثانی کی بیوی کو بھی پسند کرتا ہے اور اُس کی بیوی کے ساتھ مزے کرنے کے لیۓ یہ عمل کر رہا ہے اوریہی سوچ زید ثانی کی بھی ہے۔ یہ پورا عمل پہلے سے پلاننگ کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل زید کچھ کچھ سالوں میں بار بار کرنا چاہتا ہے مطلب جب بھی خواہشات جاگیں تو طلاق پھر حلالہ اور پھر نکاح مطلب دونوں نے نکاح اور طلاق کو مذاق اور حلوہ سمجھ لیا ہے۔ جب دونوں سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں کرنا چاہتے ہو تو انہوں نے کہا کہ ہاں شاید ہم غلط ہوں مگر اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیۓ ہم ایک دوسرے کے ساتھ نا چیٹینگ (Cheating) کر رہے ہیں اور نا ہی زنا کر رہے ہیں ہم جو بھی کر رہے ہیں حلال طریقے سے کر رہے ہیں۔ اور یہ عمل اسلام میں جائز ہے۔ اب مفتیان کرام کی بارگاہ میں یہ سوال ہے کہ زید کا یہ عمل کس حد تک جائز ہے، شریعت اسلامیہ میں ایسا کرنے والے پر کیا سزا ہے۔ اور شریعت اسلامیہ اس بارے میں کیا کہتی ہے؟سائل: عرفان (اندور) وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــ</strong></span> ابغض الحلال الی اللہ الطلاق یعنی حلال چیزوں میں سب سے زیادہ اللہ کو ناپسندیدہ طلاق ہے(ابن ماجہ، ج۲،ص۶۴۲)۔ عن معاذ بن جبل قال:قال لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا معاذ ما خلق اللہ شیأ علی وجہ الارض احب الیہ من العتاق ولا خلق اللہ شیأ علی وجہ الارض ابغض الیہ من الطلاق حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ کوئی چیز اللہ نے غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ روئے زمین پر پیدا نہیں کی اور کوئی چیز زمین پر طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ پیدا نہیں کی (دار قطنی،ج۵،ص۶۳)۔ عن ابن وھب قال اخبرنی مخرمۃ عن ابیہ قال محمود بن لبید قال اخبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن رجل طلق امرأتہ ثلاث تطلیقات جمیعا فقام غضبانا ثم قال ایلعب بکتاب اللہ وانا بین اظھرکم نسائی نے محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ ایک شخص نے اپنی زوجہ کو تین طلاق ایک ساتھ دیں تو اس کو سن کر غصہ میں کھڑے ہو گئے پھر فرمایا کہ کیا وہ کتاب اللہ سے کھیل کرتا ہے حالانکہ میں ابھی تمہارے اندر موجود ہوں (ج۵،ص۱۴۲)۔ طلاق دینا جائز ہے مگر بے وجہ شرعی طلاق دینا ممنوع ہے۔(بہار شریعت،ج۸،ص۱۱۰) باضرورت مرد کو طلاق دینا مکروہ ہے۔ (فتاوی بحر العلوم،ج۳،ص۹۹) تین طلاق ایک ساتھ دینا حرام و گناہ ہے۔ ہدایہ میں ہے "ﻭﻃﻼﻕ اﻟﺒﺪﻋﺔ ﺃﻥ ﻳﻄﻠﻘﻬﺎ ﺛﻼﺛﺎ ﺑﻜﻠﻤﺔ ﻭاﺣﺪﺓ ﺃﻭ ﺛﻼﺛﺎ ﻓﻲ ﻃﻬﺮ ﻭاﺣﺪ ﻓﺈﺫا ﻓﻌﻞ ﺫﻟﻚ ﻭﻗﻊ اﻟﻄﻼﻕ ﻭﻛﺎﻥ ﻋﺎﺻﻴﺎ"(ج١،ص٢٢١،ش) لانہ ارتکب حراما۔ دونوں زید ایک ساتھ تین طلاق دینے کے سبب حرام کار اور گناہ گار ہوے اسی طرح مکروہ و ممنوع کے مرتکب ان پر لازم ہے کہ فورا توبہ و استغفار اور صدقہ و خیرات کریں اور اپنے قبیح وشنیع عمل سے باز آجائیں اور اللہ کے غضب و قہر اور اسکی ناپسندیدگی سے ڈریں اور اللہ و رسول کے احکام کو ہنسی اور ٹھٹھا بناکر شیطان کی قربت کا کام کرکے دنیا ہی میں اپنے اوپر عذاب الہی کو دعوت نہ دیں۔ چونکہ یہ عمل بار بار ہوا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیویاں بھی اس عمل سے راضی اور فعل حرام میں معاون ہیں لہذا وہ بھی توبہ و استغفار اور صدقہ و خیرات کریں اللہ و رسول کی ناراضگی سے ڈریں اور اگر اب کے بعد وہ طلاق دیں تو ان سے نکاح نہ کریں کہ تین طلاق کے بعد عورت آزاد ہوجاتی ہے اور اسے اپنے نفس پر اختیار حاصل ہوجاتا ہے کہ چاہے کسی سے نکاح کر لے یا کسی سے نہ کرے اور یہ نہ سمجھے کہ طلاق کے بعد حلالہ کرکے اسی شوہر سے نکاح ضروری ہے۔ اور اگر یہ لوگ توبہ نہ کریں اور اس حرام سے باز نہ آئیں تو تمام لوگوں پر لازم ہے کہ ان کا سماجی بائیکاٹ کریں. واللہ تعالیٰ اعلم کتبـــــہ : مفتی شان محمد المصباحی القادری خادم التدریس جامعہ مظہرالعلوم گرسہاےگنج قنوج ۳۰ مئی ۲۰۱۹

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...