01
The questionSawaal
اصل سوالقبر میں اتارنے کے بعد میت کا چہرہ دیکھنا ، یا جنازے کا جلوس روک کر کسی کو میت کا منہ دکھانا
02
The responseAl-Jawab
قبر میں اتارنے کے بعد میت کا چہرہ دیکھنا ، یا جنازے کا جلوس روک کر کسی کو میت کا منہ دکھانا
سوال : کوئی رشتہ دار میت کا منہ دیکھنے سے رہ گیا ہو تو میت کو قبر میں اتار نے کے بعد منہ دکھاتے ہیں؟ یا جنازے کے جلوس کو روک کر دکھاتے ہیں تو کیا یہ طریقہ صحیح ہے ؟ سائل : شیخ یٰسین، عائشہ نگر مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب بعد نماز جنازہ قبل دفن چہرہ میت دیکھنا دکھانا جائز ہے ۔ فتاوی فیض الرسول میں ہے :” جس طرح نماز جنازہ سے پہلے میت کاچہرہ دیکھنا جائز ہے ایسے ہی نماز جنازہ کے بعد بھی دیکھنا جائز ہے ” اھ ( ج ١ ص ٤١٥ کتاب الجنائز ) البتہ اس سے احتراز کرنا چاہئے کہ تدفین میں تاخیر ہوگی اور شریعت مطہرہ میں تعجیل تدفین حد درجہ مطلوب ہے ۔ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:” (قوله: ويسرع في جهازه)؛ لما رواه أبو داود عنه صلى الله عليه وسلم لما عاد طلحة بن البراء وانصرف، قال: ما أرى طلحة إلا قد حدث فيه الموت، فإذا مات فآذنوني حتى أصلي عليه، وعجلوا به؛ فإنه لا ينبغي لجيفة مسلم أن تحبس بين ظهراني أهله». والصارف عن وجوب التعجيل الاحتياط للروح الشريفة؛ فإنه يحتمل الإغماء ” اھ ( ج: 3 ص: 83 ) یعنی میت کی تجہیز و تکفین میں جلدی کی جائے، اس حدیث کی بنا پر جو ابو داوٗد نے روایت کی ہے کہ جب حضورﷺ طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ کی عیادت کر کے واپس لوٹے تو آپ ﷺ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ ان میں موت سرایت کر چکی ہے، جب ان کا انتقال ہوجائے تو مجھے خبر کر نا.. تاکہ میں ان کی نماز پڑھاؤں اور ان کی تجہیز و تکفین میں جلدی کرو ، اس لیے کہ مسلمان کی نعش کے لیے مناسب نہیں ہے کہ اس کو اس کے گھر والوں کے درمیان روکا جائے”۔ اور میت پر موت کا اثر ظاہر ہوتے ہی فوراً تدفین اس لیے واجب نہیں کی گئی کہ کہیں یہ بے ہوشی نہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:” ویبادر إلی تجہیزہ ولا یوٴخر ” اھ ( ج: 1 ص: 157 ) اعلی حضرت عظیم البرکت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں : ” نماز جنازہ میں تعجیل نہایت درجہ مطلوب۔ صحاح ستہ میں ہے ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: اسرعوا بالجنازہ ” اھ ( فتاوی رضویہ ج ٩ ص ٣١٠ باب الجنائز ، رسالہ النھی الحاجز عن تکرار صلاۃ الجنائز ) المختصر. نماز جنازہ پڑھنےسے پہلے اور بعد، میت کا چہرہ دیکھنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔البتہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ میت کاچہرہ دیکھنے دکھانے کے معاملات میں اس کی تدفین میں دیر نہ ہو کہ شریعت مطہرہ میں میت کی تجہیز و تکفین میں جلدی کرنے کا حکم ہے، اور بلاضرورت تاخیر کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (فتاویٰ تاتارخانیہ،ج3،ص78،فتاویٰ فیض الرسول،ج 3،ص415) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم محمدرضا مرکزی : خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.