01
The questionSawaal
اصل سوالجس امام کی قرأت درست نہ ہو یا مجہول پڑھنے والا ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا
02
The responseAl-Jawab
جس امام کی قرأت درست نہ ہو یا مجہول پڑھنے والا ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ امیدکرتے ہیں مفتی صاحب کہ آپ بخیر ہونگے آپ کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ ایک امام صاحب ہیں وہ قرآن مجہول پڑھتے ہیں سورہ فاتحہ میں ایاک نعبد کو ایویا ک نعبد پڑھتے ہیں اور تکبیر انتقال میں اکبر کو اکبار پڑھتے ہیں ہم نے سمجھایا کہ اس طرح آپ کی بھی نماز نا ہوگی مگر وہ سدھار نہیں لا رہے ہیں کمیٹی (انجمن)والے بھی جب کہتے ہیں تو وہ توجہ نہیں دے ر ہے ہیں لوگ اسی کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں عوام کی نماز ہو رہی ہے یا نہیں آپ سے گزارش ہے کہ آپ ان دونوں کے لئے شریعت کا حکم عنایت فرمائیں دلائل کے ساتھ کرم ہوگا السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ السائل غلام صابر رضوی وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب غلطی اگر ایسی ہو جس سے فساد معنی، یا معنی میں تغیر لازم آئے تو مذہب صحیح کے مطابق خود اس کی نماز باطل ہے۔ اور اگر غلطی ایسی ہے کہ صحیح طور پر حروف ادا نہیں کر سکتا تو اس کی اقتدا میں صحیح پڑھنے والے کی نماز نہ ہوگی۔ اور اگر ایسی غلطی نہیں کرتا جس سے فساد معنی ہوتا ہو لیکن ضروریات قراءت کی ادائیگی نہیں ہو پاتی تو اس کی اقتدا میں نماز بشدت مکروہ ہے، اور اگر ضروریات قراءت سب ادا کر لیتا ہے، صرف محسنات زائدہ مثلاً اخفا، ادغام وغیرہ کی ادائیگی نہیں ہو پاتی تو اس کی اقتدا میں نماز ہو جائے گی۔امام اہل سنت سے سوال ہوا کہ ” جو شخص قواعد تجوید سے ناواقف ہو اس کو امام کیا جائے یا نہیں؟ اور اگر کیا جائے تو اس کے پیچھے قواعدداں کی نماز ہوگی یا نہیں؟ اور عام لوگوں یعنی غیر قواعد داں کی نماز بھی اس کے پیچھے ہوگی یا نہیں؟” تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: (1) اگر ایسی غلطیاں کرتا ہے کہ معنی میں فساد آتا ہے مثلا حرف کی تبدیل جیسے ع ط ص ح ظ کی جگہ و ت س ہ ز پڑھنا کہ لفظ مہمل رہ جائے، (2) یا معنی میں تغیر فاحش راہ پائے، (3) یاکھڑا پڑا کی بدتمیزی کہ حرکات بڑھ کر حروف مدہ ہوجائیں اور وہی قباحتیں لازم آئیں، جس طرح بعض جہال نستعین کو نستاعین پڑھتے ہیں کہ بے معنی یا لالی اﷲ تحشرون بلام تاکید کو لا الی اﷲ تحشرون بلائے نافیہ کہ تغیر معنی ہے تو ہمارے ائمہ متقدمین کے مذہب صحیح ومعتمد محققین پر مطلقا خود اس کی نماز باطل ہے۔ کما حققہ ورجححہ المحقق فی الفتح والحلبی فی الغنیۃ وغیرھما. (محقق نے فتح میں اورحلبی نےغنیہ میں اور دیگر لوگوں نے اپنی کتب میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت) اور جب اس کی اپنی نہ ہوگی تو قوعدداں وغیرہ کسی کی اس کے پیچھے نہ ہو سکے گی؛ فان صلوۃ المأموم مبتنیۃ علی صلوۃ الامام. (کیوں کہ مقتدی کی نماز امام کی نماز پر مبنی ہے۔ت (4) اور اگر غلطی یوں ہے کہ حرف بروجہ صحیح ادا نہیں کرسکتا جس طرح آج کل عام دہقانوں اور بہت شہریوں کا حال ہے تو اب جمہور متاخرین کا بھی فتوی اسی پر ہے کہ اس کے پیچھے صحیح خواں کی نماز باطل۔کما افادہ العلامۃ الغزی والعلامۃ الخیر الرملی وغیرھما. (جیسے علامہ غزی اورعلامہ خیررملی اور دیگر علما نے اس کا تذکرہ کیاہے۔ت) (5) اور اگر عجز یوں ہے کہ سیکھنے کی کوشش نہ کی یا کچھ دنوں کرکے چھوڑ دی اگر لپٹا رہتا تو امید تھی کہ آ جاتا جب تو ایسی غلطی ان کے نزدیک بھی خود اس کی اپنی نماز بھی باطل کرے گی۔ کما فی الخلاصۃ والفتح وغیرھماعامۃ الکتب. (جیسے خلاصہ، فتح اور ان کے علاوہ عام کتب میں ہے ۔ت) غرض ایسا شخص امام بنانے کے لائق نہیں۔ وقد فصلناالقول فی تلک المسائل فی عدۃ مواضع من فتاونا. (ہم نے ان مسائل پر اپنے فتاوی میں متعدد جگہ پر تفصیل سے لکھا ہے ۔ت) (6) اور اگر ایسی غلطی نہیں کرتا جس سے فسادمعنی ہو تو نماز خود اس کی بھی صحیح اور اس کے پیچھے اور سب کی صحیح، پھر اگر حالت ایسی ہے کہ تجوید کے امور ضروریہ واجبات شرعیہ ادا نہیں ہوتے جن کا ترک موجب گناہ ہے جیسے مدمتصل بقدر ایک الف وغیرہ۔ فما فصلنا فی فتاوی لنا فی خصوص الترتیل. (جس کا ہم نے اپنے فتاوی میں ترتیل کے تحت تفصیلا ذکر کیا ہے۔ت) جب بھی اسے امام بنایا جائے گا۔ اس کے پیچھے بشدت مکروہ ہوگی۔ لاشتمالہاعلی امرمؤثم وکونہ فاسقا بتمادیہ علی ترک واجب متحتم. (کیوں کہ وہ ایسے امر پر مشتمل ہے جو گناہ ہے اور اس کا فاسق ہونا اس شک میں ڈالتا ہے کہیں وہ حتمی واجب کا ترک نہ کر بیٹھے۔ت) (7) اور اگر ضروریات سب ادا ہولیتے ہیں صرف محسنات زائد و مثل اظہار و اخفا و روم و اشمام وتفخیم و ترقیق وغیرہا میں فرق پڑتا ہے تو حرج نہیں، ہاں قواعد داں کی امامت اولی ہے۔لان الامام کلما کان اکمل کان افضل. ( اس لیے کہ وہ شخص جو ہر لحاظ سے اکمل ہو وہی افضل امام ہوگا۔ت) ( فتاوی رضویہ، ج: 6، ص: 489-490) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.