Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1881 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.9K Views

جاڑوں کے موسم میں جو اونی ٹوپی یا ٹوپا اوپر سے موڑ کر اوڑھتے ہیں اس کو لگاکر نماز کا کیاحکم

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

جاڑوں کے موسم میں جو اونی ٹوپی یا ٹوپا اوپر سے موڑ کر اوڑھتے ہیں اس کو لگاکر نماز کا کیاحکم

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

جاڑوں کے موسم میں جو اونی ٹوپی یا ٹوپا اوپر سے موڑ کر اوڑھتے ہیں اس کو لگاکر نماز کا کیاحکم

سوال : جاڑوں کے موسم میں جو اونی ٹوپی یا ٹوپا اوپر سے موڑ کر اوڑھتے ہیں اس کو لگاکر نماز کا کیاحکم ہے؟ جبکہ علماء کرام نے کپڑے کو موڑ کر نماز پڑھنے کے لئے منع فرمایا ہے تو اب یہاں بھی کپڑے کو موڑنا پایا جارہاہے.. یا اس کے متعلق کیا الگ حکم ہے؟؟.. رہنمائی فرمائیں۔؟ سائلین : محمد شعیب اشرفی و محمد عمران برکاتی ہزار کھولی مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب جاڑے کے موسم میں جو اونی ٹوپی موڑ کر پہننے کا رواج ہے وہ شرعاً کف ثوب نہیں… فقہاء کی اصطلاح میں “کف ثوب” یہ ہے کہ عادت کے خلاف کپڑے کو موڑ کر استعمال کیا جائے… یا یہ کہاجاسکتا کہ کنٹوپ کی وضعیت ہی موڑ کر پہننے کی ہے، لہذا وہ کف ثوب میں داخل نہیں.. اور یہاں ایسا نہیں یہ ٹوپی عام طور پر موڑ کر ہی استعمال کی جاتی ہے۔ بلکہ بہت ساری ٹوپیاں ایسے ہی موڑ کر پہنی جاتی ہیں۔ یہ موڑنا عادت کے موافق ہے اسلئے اس طرح اونی ٹوپی موڑ کر نماز پڑھنا جائز و درست ہے اس سے نماز میں کوئی ذرا برابر بھی کوئی کراہت نہ آئے گی ! یاد رکھیں. کسی کپڑے کو ایسا خلاف عادت پہننا جسے مہذب آدمی مجمع یا بازار میں نہ کر سکے اور اگر کرے تو بے ادب خفیف الحرکات سمجھا جائے یہ مکروہ ہے۔ (فتاوی رضویہ قدیم جلد سوم صفحہ ٤٤٧، مکتبہ رضویہ ) اسی کو فتاویٰ فیض الرسول میں بھی نقل کیا گیا ہے… حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کسی کپڑے کو ایسا خلاف عادت پہننا کہ کسی مہذب آدمی مجمع یا بازار میں نہ کر سکے اور اگر کرے تو بے ادب خفیف الحرکات سمجھا جائے یہ مکروہ ہے۔ ۔ (فتاوی فیض الرسول، ج ١، ص: ٣٧٣) راقم نے دوران تخصص فی الفقہ خود حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سے کنٹوپ کے موڑنے کے تعلق سے پوچھا تو قبلہ نے یہی فرمایا تھا کہ… کنٹوپ کی وضعیت ہی موڑ کر پہننے کی ہے، لہذا وہ کف ثوب میں داخل نہیں وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Kutubahu & Verified by:

<h3>جاڑوں کے موسم میں جو اونی ٹوپی یا ٹوپا اوپر سے موڑ کر اوڑھتے ہیں اس کو لگاکر نماز کا کیاحکم</h3> سوال : جاڑوں کے موسم میں جو اونی ٹوپی یا ٹوپا اوپر سے موڑ کر اوڑھتے ہیں اس کو لگاکر نماز کا کیاحکم ہے؟ جبکہ علماء کرام نے کپڑے کو موڑ کر نماز پڑھنے کے لئے منع فرمایا ہے تو اب یہاں بھی کپڑے کو موڑنا پایا جارہاہے.. یا اس کے متعلق کیا الگ حکم ہے؟؟.. رہنمائی فرمائیں۔؟ سائلین : محمد شعیب اشرفی و محمد عمران برکاتی ہزار کھولی مالیگاؤں <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong></span> جاڑے کے موسم میں جو اونی ٹوپی موڑ کر پہننے کا رواج ہے وہ شرعاً کف ثوب نہیں... فقہاء کی اصطلاح میں "کف ثوب" یہ ہے کہ عادت کے خلاف کپڑے کو موڑ کر استعمال کیا جائے... یا یہ کہاجاسکتا کہ کنٹوپ کی وضعیت ہی موڑ کر پہننے کی ہے، لہذا وہ کف ثوب میں داخل نہیں.. اور یہاں ایسا نہیں یہ ٹوپی عام طور پر موڑ کر ہی استعمال کی جاتی ہے۔ بلکہ بہت ساری ٹوپیاں ایسے ہی موڑ کر پہنی جاتی ہیں۔ یہ موڑنا عادت کے موافق ہے اسلئے اس طرح اونی ٹوپی موڑ کر نماز پڑھنا جائز و درست ہے اس سے نماز میں کوئی ذرا برابر بھی کوئی کراہت نہ آئے گی ! یاد رکھیں. کسی کپڑے کو ایسا خلاف عادت پہننا جسے مہذب آدمی مجمع یا بازار میں نہ کر سکے اور اگر کرے تو بے ادب خفیف الحرکات سمجھا جائے یہ مکروہ ہے۔ (فتاوی رضویہ قدیم جلد سوم صفحہ ٤٤٧، مکتبہ رضویہ ) اسی کو فتاویٰ فیض الرسول میں بھی نقل کیا گیا ہے... حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کسی کپڑے کو ایسا خلاف عادت پہننا کہ کسی مہذب آدمی مجمع یا بازار میں نہ کر سکے اور اگر کرے تو بے ادب خفیف الحرکات سمجھا جائے یہ مکروہ ہے۔ ۔ (فتاوی فیض الرسول، ج ١، ص: ٣٧٣) راقم نے دوران تخصص فی الفقہ خود حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سے کنٹوپ کے موڑنے کے تعلق سے پوچھا تو قبلہ نے یہی فرمایا تھا کہ... کنٹوپ کی وضعیت ہی موڑ کر پہننے کی ہے، لہذا وہ کف ثوب میں داخل نہیں وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...