Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1885 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.5K Views

غصہ کی حالت میں طلاق ہوگی یا نہیں ؟ / ناراضگی کی وجہ سے طلاق ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

غصہ کی حالت میں طلاق ہوگی یا نہیں ؟ / ناراضگی کی وجہ سے طلاق ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

غصہ کی حالت میں طلاق ہوگی یا نہیں ؟

السلام علیکم و رحمتہ الله تعالٰی وبرکاۃ کیا فرماتے۔ ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں ذید نے حالت غصہ میں اپنی زوجہ کو طلاق کی نیت کیے بغیر کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے جا یہاں سے جہاں تیری مرضی ہے۔ اب امر طلب یہ ہے کہ اس حالت میں زوجہ پر کونسی طلاق واقع ہوگی اور اگر کسی صورت میں وہ رجعت کرنا چاہتا ہے تو ہوگی کہ نہیں اگر ہوگی تو کیا مہر جدید بھی اس میں شرط ہو گا کہ نہیں اگر مہر جدید ہوگا تو اس کی رقم کیا ہوگی با تفصیل وضاحت فرمائیں عین کرم نوازی ہوگی السائل محمد عبدالغنی اشرفی القادری، الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن پڑے گی ۔ اور نکاح ختم ہوجائے گا، اب اگر عدت کے دوران یا عدت گزرنے کے بعد میاں بیوی دونوں باہم رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح کرسکتے ہیں، نکاح کے بعد آئندہ کے لیے شوہر کے پاس دو طلاق کا اختیار باقی رہے گا۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) ۔کتاب الطلاق ۔باب الکنایات ۔جلد4ص518مکتبہ فیصل دیوبند ۔ “ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف. (قوله: فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحاً لا كنايةً، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن؛ لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحاً؛ لأنه صار فاشياً في العرف في استعماله في الطلاق لايعرفون من صيغ الطلاق غيره ولايحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لايستعمل عرفاً إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحاً كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية”. فقط والله أعلم کتبہ؛محمد عمران القادری اشرفی جامعی ۔ خادم جہانگیر اشرف دارالافتاوالقضا۔ جامعہ معین السنہ ڈینگلہ پونچھ ۔جموں وکشمیر۔ جواب صحیح ہے ۔۔حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی جامعی ۔ صدر شعبئہ افتا جامع اشرف کچھوچھہ مقدسہ یوپی

Kutubahu & Verified by:

<h3>غصہ کی حالت میں طلاق ہوگی یا نہیں ؟</h3> السلام علیکم و رحمتہ الله تعالٰی وبرکاۃ کیا فرماتے۔ ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں ذید نے حالت غصہ میں اپنی زوجہ کو طلاق کی نیت کیے بغیر کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے جا یہاں سے جہاں تیری مرضی ہے۔ اب امر طلب یہ ہے کہ اس حالت میں زوجہ پر کونسی طلاق واقع ہوگی اور اگر کسی صورت میں وہ رجعت کرنا چاہتا ہے تو ہوگی کہ نہیں اگر ہوگی تو کیا مہر جدید بھی اس میں شرط ہو گا کہ نہیں اگر مہر جدید ہوگا تو اس کی رقم کیا ہوگی با تفصیل وضاحت فرمائیں عین کرم نوازی ہوگی السائل محمد عبدالغنی اشرفی القادری، <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> صورت مسئولہ میں اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن پڑے گی ۔ اور نکاح ختم ہوجائے گا، اب اگر عدت کے دوران یا عدت گزرنے کے بعد میاں بیوی دونوں باہم رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح کرسکتے ہیں، نکاح کے بعد آئندہ کے لیے شوہر کے پاس دو طلاق کا اختیار باقی رہے گا۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) ۔کتاب الطلاق ۔باب الکنایات ۔جلد4ص518مکتبہ فیصل دیوبند ۔ "ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف. (قوله: فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحاً لا كنايةً، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن؛ لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحاً؛ لأنه صار فاشياً في العرف في استعماله في الطلاق لايعرفون من صيغ الطلاق غيره ولايحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لايستعمل عرفاً إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحاً كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية". فقط والله أعلم کتبہ؛محمد عمران القادری اشرفی جامعی ۔ خادم جہانگیر اشرف دارالافتاوالقضا۔ جامعہ معین السنہ ڈینگلہ پونچھ ۔جموں وکشمیر۔ جواب صحیح ہے ۔۔حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی جامعی ۔ صدر شعبئہ افتا جامع اشرف کچھوچھہ مقدسہ یوپی

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...