Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1899
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
12.4K Views
میت کے ورثہ میں بیوی دولڑکے اور چار لڑکیاں ہوں تو شرعا وراثت کس کو کتنی ملے گی؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
میت کے ورثہ میں بیوی دولڑکے اور چار لڑکیاں ہوں تو شرعا وراثت کس کو کتنی ملے گی؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
میت کے ورثہ میں بیوی دولڑکے اور چار لڑکیاں ہوں تو شرعا وراثت کس کو کتنی ملے گی؟
زید کا انتقال ہوگیا اور اپنے پیچھے ایک بیوی دو لڑکے اور چار لڑکیاں چھوڑیں (ان میں سے ایک زید کے انتقال کے بعد فوت ہوچکی ہے) شرعا وراثت کس کو کتنی ملے گی؟ المستفتی:- (مفتی) منظور احمد نعیمی بارہ مولہ کشمیر الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب صورت مستفسرہ میں بعد تقدیم ما یقدم فی الارث وانحصار ورثہ فی المذکورین زید کی جائداد کے کل 64 حصے کئے جائیں گے 8حصے بیوی کو دیں، لقولہ تعالی “فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَـدٌ فَلَـهُنَّ الثُّمُنُ”( سوره نساء، آیت نمبر: ۱۲) اور 28 حصے دو لڑکوں کو دیں ہر ایک لڑکے کو چودہ چودہ حصے ملیں گے اور باقی 28 حصوں میں ہر ایک لڑکی کو سات سات حصے ملیں گے- لقولہ تعالی “يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ ۖ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ”( سورہ نساء ، آیت نمبر: ۱۱) مورث کے انتقال کے بعد تقسیم وراثت سے قبل کوئی وارث فوت ہوجائے تو وراثت سے اس کا حصہ ساقط نہ ہو گا لہذا صورت مسؤلہ میں زید کے انتقال کے بعد اس کی جو لڑکی فوت ہوگئی ہے وراثت سے اس کا حصہ ساقط نہ ہوگا بلکہ اس کا یہ حصہ اس کے ورثہ میں تقسیم ہوگا- فتاوی شامی میں ہے:- “وشروطه ثلاثة : موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه”( رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الفرائض،ج ۱۰ ص ۴۹۱ ۷۵۸/دار الکتب العلمیة، بيروت، لبنان)واللہ سبحانہ وتعالی أعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ مدرس دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر ۱۲/ جمادی الاولی ۱۴۴۴ھ مطابق ۷/دسمبر ۲۰۲۲ء الجواب صحيح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی
Kutubahu & Verified by:
<h3>میت کے ورثہ میں بیوی دولڑکے اور چار لڑکیاں ہوں تو شرعا وراثت کس کو کتنی ملے گی؟</h3> زید کا انتقال ہوگیا اور اپنے پیچھے ایک بیوی دو لڑکے اور چار لڑکیاں چھوڑیں (ان میں سے ایک زید کے انتقال کے بعد فوت ہوچکی ہے) شرعا وراثت کس کو کتنی ملے گی؟ المستفتی:- (مفتی) منظور احمد نعیمی بارہ مولہ کشمیر <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب</strong></span> صورت مستفسرہ میں بعد تقدیم ما یقدم فی الارث وانحصار ورثہ فی المذکورین زید کی جائداد کے کل 64 حصے کئے جائیں گے 8حصے بیوی کو دیں، لقولہ تعالی "فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَـدٌ فَلَـهُنَّ الثُّمُنُ"( سوره نساء، آیت نمبر: ۱۲) اور 28 حصے دو لڑکوں کو دیں ہر ایک لڑکے کو چودہ چودہ حصے ملیں گے اور باقی 28 حصوں میں ہر ایک لڑکی کو سات سات حصے ملیں گے- لقولہ تعالی "يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ ۖ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ"( سورہ نساء ، آیت نمبر: ۱۱) مورث کے انتقال کے بعد تقسیم وراثت سے قبل کوئی وارث فوت ہوجائے تو وراثت سے اس کا حصہ ساقط نہ ہو گا لہذا صورت مسؤلہ میں زید کے انتقال کے بعد اس کی جو لڑکی فوت ہوگئی ہے وراثت سے اس کا حصہ ساقط نہ ہوگا بلکہ اس کا یہ حصہ اس کے ورثہ میں تقسیم ہوگا- فتاوی شامی میں ہے:- "وشروطه ثلاثة : موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه"( رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الفرائض،ج ۱۰ ص ۴۹۱ ۷۵۸/دار الکتب العلمیة، بيروت، لبنان)واللہ سبحانہ وتعالی أعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ مدرس دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر ۱۲/ جمادی الاولی ۱۴۴۴ھ مطابق ۷/دسمبر ۲۰۲۲ء الجواب صحيح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...