01
The questionSawaal
اصل سوالمیت کے ورثہ میں زوجہ دوبیٹیاں، باپ اور دو بھائی تین بہنیں ہوں تو اس کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟
02
The responseAl-Jawab
میت کے ورثہ میں زوجہ دوبیٹیاں، باپ اور دو بھائی تین بہنیں ہوں تو اس کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ زید کا انتقال ہوگیا اس کے ورثہ میں ایک زوجہ جس نے بعد عدت نکاح کرلیا ہے،اور دو بیٹیاں اور باپ اور دوبھائی اور تین بہنیں ہیں لہذا اس کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ المستفتی:-قاری وجاہت حسین اجملی مدرس دارالعلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں و کشمیر الجواب بعون الهادي الی الحق والصواب صورت مستفسرہ میں بعد تقدیم مایقدم فی الارث وانحصار ورثہ فی المذکورین زید کی جائداد کے کل۲۴ حصے کئے جائیں ۳ حصے زوجہ کو دیں بقولہ تعالٰی” “فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ”(النساء:۱۲/۴) ترجمہ کنز الایمان: پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔ ۱۶ حصے چار لڑکوں کو ہر ایک کو چار چار بقولہ تعالٰی ” فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ”(النساء:۱۱/۴) ترجمہ کنز الایمان: پھر اگر نِری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی۔ باقی ۵ حصے باپ کو ملیں گے چار ذوفرض ہونے کے اعتبار سے اور ایک عصبہ ہونے کی وجہ سے- بقولہ تعالٰی”وَلِاَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْـهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَـرَكَ اِنْ كَانَ لَـهٝ وَلَـدٌ”(النساء: ۴/ ۱۱) ترجمہ کنزالایمان:اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو- حدیث شریف میں ہے: “عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اﷲ عنهما عَنِ النَّبِيِّ قَالَ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِاَوْلَی رَجُلٍ ذَکَرٍ”(صحیح البخاری، رقم الحدیث: ۶۳۵۱/دار ابن کثیر الیمامة،بيروت) ’’حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میراث اُس کے حق دار لوگوں کو پہنچا دو اور جو باقی بچے تو وہ سب سے قریبی مرد کے لیے ہے. بہنوں اور بھائیوں کو باپ کی وجہ سے محجوب ہونے کے سبب حصہ نہیں ملے گا- بہار شریعت میں ہے: “حقیقی بھائی بہن ہوں یا باپ شریک سب کے سب بیٹے یا پوتے(نیچے تک) اور باپ کے ہوتے ہوئے بالاتفاق محروم رہتے ہیں”(ج ۳ صاحب ۱۱۲۴/مكتبة المدينه دعوت إسلامى)والله تعالى أعلم بالصواب کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ مدرس دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں و کشمیر الجواب صحيح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.