Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1905 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 14K Views

مائیں صرف دودھ نہیں پلاتیں ،عقیدہ بھی پلاتی ہیں آزادمیدان وادی نورمیں مفکراسلام علامہ قمرالزماں اعظمی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مائیں صرف دودھ نہیں پلاتیں ،عقیدہ بھی پلاتی ہیں آزادمیدان وادی نورمیں مفکراسلام علامہ قمرالزماں اعظمی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

وادئی نور آزاد میدان
                      وادئی نور آزاد میدان

مائیں صرف دودھ نہیں پلاتیں ،عقیدہ بھی پلاتی ہیں

آزادمیدان وادی نورمیں مفکراسلام علامہ قمرالزماں اعظمی کاشان دارخطاب،پہلے دن کے سنی اجتماع میںمحقق مسائل جدیدہ مفتی محمدنظام الدین رضوی نے درجنوں سوالات کے جوابات دیے ممبئی:(نامہ نگار)دعوت وتبلیغ کی عالم گیر تحریک سنّی دعوتِ اسلامی کا تیسواں سالانہ سنّی اجتماع تین سال کے تعطل کے بعد آج یہاں وادیِ نور آزاد میدان میں بعد نماز جمعہ معین ملت پیر طریقت حضرت مولانا سید معین الدین اشرف کچھوچھوی مد ظلہ العالی کے افتتاحی کلمات اور دعاؤں سے شروع ہوا۔ مولانا نعیم الدین نجمی (ماریشس) نے اپنی سحر انگیز تلاوت سے مجمع کو محظوظ کردیا۔آج کے پروگرام کاایک اہم سیشن محقق مسائل جدیدہ حضرت مفتی محمدنظام الدین رضوی مصباحی شیخ الحدیث وصدرشعبہ افتاجامعہ اشرفیہ مبارک پورکاسوال وجواب سیشن تھاجس میں انہوںنے خواتین کی طرف سے درجنوں سوالات کے شرعی جوابات عنایت فرمائے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوںنے فرمایا کہ قراءت کا علم سیکھنا فرض ہے۔ اگر قرآن کریم اچھی طرح پڑھتا نہیں آتا تو آپ کی نمازیں نامکمل رہیں گی۔’’ کیاکوئی عورت خود کو طلاق دے سکتی ہے؟‘‘ اس کے جواب میں مفتی صاحب نے بڑی اصلاحی گفتگو فرماتے ہوئے شرعی حکم بیان کیا کہ میاں بیوی میں نباہ کی کوئی صورت نہ رہ جائے تو ایسی صورت میں وہ قاضی شرع کے یہاں جا کر اپنا مسئلہ بیان کرے اور قاضی دونوں کے درمیان نکاح فسخ کرا دے۔ ایک اور سوال کے جواب میں حضرت مفتی صاحب قبلہ نے عورتوں کی غلط فہمی کا ازالہ کیا کہ غسل خانے کے اندر دعائیں اور اذکار کرنامنع ہے کیوں کہ وہ گندگی کی جگہیں ہوتی ہیں۔ اگر غسل سے قبل دعائیں وغیرہ پڑھنے کی خواہش ہو تو غسل خانے میں جانے سے قبل پڑھیں۔ایک نہایت سلگتے ہوئے ایشو پر حضرت مفتی صاحب نے ماؤں اور بہنوں کی ذہن سازی کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کی لڑکیاں اپنے طور پر اپناہونے والاشوہر پسند کرتی ہیں اور پھر ان سے شادی کرنے کی خواہش مند ہوتی ہیں مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ والدین راضی نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ سے بہت سے خانگی و معاشرتی مسائل پیدا ہورہےہیں۔والدین اس مسئلے کی وجہ سے بے حدپریشان رہتے ہیں۔مفتی صاحب نے اس سلسلے میں لاکھوں خواتین کومشورہ دیاکہ اس کاحل صرف اورصرف یہ ہے کہ بچیوں کو گھر میں دینی تربیت دی جائے۔ اگرآپ نے ان کی گھر میں صحیح دینی تربیت دے دی تویقین جانیےکہ آپ کی بیٹیاںکبھی بھی آپ کی مرضی کے خلاف کام نہیں کریں گی بلکہ کوئی بھی ایسا کام نہیں کریں گی جو شرع کے مخالف ہو۔ ایک اور سوال کے جواب میں صدقے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جب عورت حمل سے ہو تو دورانِ حمل اسے صدقہ کرتے رہنا چاہیے۔ اس صدقے کی وجہ سے ان شاء اللہ بچے صالح اور نیک ہوں گے اور امید ہے کہ بہتر انسان ثابت ہوں گے۔ لیکن اگر کوئی اسے رسم سمجھ کر کرے تو اس طرح کی رسموں کی اسلام میں کوئی حقیقت نہیں۔ ہاں اگر صدقے کی نیت سے اللہ عزوجل کی خوش نودی کے ارادے سے کرے تو یہ بالکل جائز بلکہ مستحب ہے۔ بعدنماز عصر قاری رضوان خان صاحب (پرنسپل ہاشمیہ ہائی اسکول)نے اپنی سحر انگیز آواز میںنعت پاک سنائی اورپورے مجمع کومسحور کردیا۔ پھر فوراً بعدیوکے سے تشریف لائے مفکراسلام حضرت علامہ قمر الزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈاسلامک مشن)نے ’’انسانی کردارکی ترقی میں خواتین کاکردار‘‘کے موضوع پربڑاہی جذباتی ،پرمغزاورمعلوماتی خطاب کیا۔ان کے خطاب کے دوران پورامجمع ہمہ تن گوش بنارہا۔حضرت مفکراسلام نے کہاکہ ماں کی کوششوں اورتربیت کے بغیرانسان کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔انہوںنے کہاکہ مائیں بچوں کے صرف جسموں کوہی نہیں پالتیں ان کی روحوں کوبھی پالتی ہیں،ان کےخیالات کی بھی پرورش کرتی ہیں۔مائیں اپنے بچوں کوصرف دودھ ہی نہیں پلاتیں ،انہیںدودھ کے ساتھ ساتھ عقائدبھی پلاتی ہیں،ان کے سینوں میں نظریات انڈیلتی ہیں۔حضرت مفکراسلام نے ایک اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی کہ یہ عجیب بات ہے کہ دنیامیں جتنے بھی بڑے بڑے لوگ پیداہوئے ہیں ان میں زیادہ ترکے والدبچپن میں ہی فوت ہوگئے اوران کی تربیت کی ذمے داری تن تنہاان کی مائوں نے اٹھائی ۔اس کاصاف صاف مطلب یہ ہے کہ بچوں کی تربیت کے لیے جتنی زیادہ ضرورت باپ کی ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ ضرورت انہیں اپنی مائوں کی آغوش کی ہوتی ہے ورنہ اللہ عزوجل ان بڑے لو گوں کوصرف مائوں کی تربیت میں نہ دیتا۔سیدناشیخ عبدالقادرجیلانی کی مثال دیتے ہوئے مفکر اسلام نے فرمایاکہ ان کی والدہ ماجدہ کی تربیت کے اس پہلوپرکم ہی توجہ دی جاتی ہے کہ انہوںنے اپنے بیٹے کوتعلیم کے لیے اوردین کے لیے وقف کردیاتھا ۔اخیرمیں انہوںنےفرمایاکہ امت مسلمہ کی ترقی صرف اورصرف مائوں کی تربیت سے ہی ممکن ہے۔جس دن مائیں بیدارہوگئیں ترقی کاآغازاسی دن سے ہوجائے گا۔ آج کے سیشن کاایک اہم اورآخری خطاب داعیِ کبیر امیر سنّی دعوتِ اسلامی حضرت مولانا شاکر نوری صاحب کاہوا ۔ آپ نےفرمایا کہ دورِ حاضر میں بگڑتے نوجوان بچوں اور بچیوں میں جہاں سوشل میڈیا کا ہاتھ ہے وہیں تربیت کی ذمہ داری نہ نبھانے میں ماؤںکا بھی اہم رول ہے۔ آپ نے خواتین اسلام کو یہ پیغام دیا کہ اپنے آپ کو قرآن اور سیرتِ نبوی میں موجود عظیم ماؤں کے نقشِ قدم پر چلنے کا عزم مصمم کرلیں تبھی معاشرے کی اصلاح ممکن ہے۔ دورانِ خطاب آپ نے فرمایا کہ بہت سی خواتین غربت کی وجہ سے بچوں کی پرورش کے لیے ایسے راستے اختیار کر لیتی ہیں جن کی وجہ سے خود ان کی اور ان کے بچوں کی بھی دنیا وآخرت برباد ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسی خواتین ان ماؤں کی زندگی پیشِ نظر رکھیں جنھوں نے غربت کے باوجود اپنے بچوں کی ایسی تربیت کی کہ وہ امام مالک، امام بخاری، امام شافعی، حضرت سفیان ثوری، خواجہ نظام الدین اور سلطان الہند خواجہ غریب نواز رحمہم اللہ تعالیٰ جیسی شخصیت بن کر ابھرے۔ جو خواتین بچوں کی پرورش کے لیے خادماؤں کے حوالے کر دیتی ہیں ان کے ذہن کو آپ نے اس جانب مبذول کرایا کہ پرورش کا حق ادا کرنا ماؤں کا فریضہ ہے۔ آج مائیں پرورش کے لیے بچوں کو نوکرانیوں کے حوالے کر رہی ہیں تو وہی بچے کل ماں باپ کو اولڈ ہاؤس کے حوالے کریں گے۔ کسی دانا کا قول ہے ’’تم مجھے اچھی ماں دو، میں تمھیں اچھی قوم دوں گا۔‘‘اخیرمیں حضرت امیرسنی دعوت اسلامی نے خواتین کو اس اجتماع میں چھ باتوں پر خصوصی توجہ دینے کی دعوت دی۔ (۱)اپنی بچیوں کو سورۂ واقعہ سکھاؤ۔ (۲)انھیں سورۂ نور کی تعلیم دو۔ (۳)نماز اور صبر سے مدد طلب کرو۔ (۴)درود شریف کی کثرت کرو۔ (۵)کثرت سے استغفار کرو۔ (۶)بچوں کو اسلامی آداب سکھاؤ۔ آج کے پہلے دن کے پروگرام میں ممبئی ومضافات سمیت آس پاس کے اضلاع سے ایک لاکھ سے زائدخواتین نے شرکت کی جن میں بطورخاص اسکولوں اورکالجوں کی طالبات ومعلمات بھی شامل تھیں۔پروگرام میں مکتبہ طیبہ کی مطبوعات(۱)دروس تصوف (۲)روزی کمانے کااسلامی دستور،اورمفکراسلام علامہ قمرالزماں اعظمی کے مایہ نازخطابات کامجموعہ ’’خطبات رمضان فی ضوء القرآن ‘‘(دوجلدیں)کااجرابھی بھی علماومشائخ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔کل یعنی ۱۸دسمبرصبح تہجدکے وقت سے ہی ان شاء اللہ مردوں کواجتماع شروع ہوجائے گا ۔زیادہ سے زیادہ شرکت کریں۔

Kutubahu & Verified by:

[caption id="attachment_5472" align="alignleft" width="300"]<img class="size-medium wp-image-5472" src="https://masailworld.com/wp-content/uploads/2022/12/WhatsApp-Image-2022-12-16-at-7.37.32-PM-300x200.jpeg" alt="وادئی نور آزاد میدان" width="300" height="200" />                       وادئی نور آزاد میدان[/caption] <h3>مائیں صرف دودھ نہیں پلاتیں ،عقیدہ بھی پلاتی ہیں</h3> آزادمیدان وادی نورمیں مفکراسلام علامہ قمرالزماں اعظمی کاشان دارخطاب،پہلے دن کے سنی اجتماع میںمحقق مسائل جدیدہ مفتی محمدنظام الدین رضوی نے درجنوں سوالات کے جوابات دیے ممبئی:(نامہ نگار)دعوت وتبلیغ کی عالم گیر تحریک سنّی دعوتِ اسلامی کا تیسواں سالانہ سنّی اجتماع تین سال کے تعطل کے بعد آج یہاں وادیِ نور آزاد میدان میں بعد نماز جمعہ معین ملت پیر طریقت حضرت مولانا سید معین الدین اشرف کچھوچھوی مد ظلہ العالی کے افتتاحی کلمات اور دعاؤں سے شروع ہوا۔ مولانا نعیم الدین نجمی (ماریشس) نے اپنی سحر انگیز تلاوت سے مجمع کو محظوظ کردیا۔آج کے پروگرام کاایک اہم سیشن محقق مسائل جدیدہ حضرت مفتی محمدنظام الدین رضوی مصباحی شیخ الحدیث وصدرشعبہ افتاجامعہ اشرفیہ مبارک پورکاسوال وجواب سیشن تھاجس میں انہوںنے خواتین کی طرف سے درجنوں سوالات کے شرعی جوابات عنایت فرمائے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوںنے فرمایا کہ قراءت کا علم سیکھنا فرض ہے۔ اگر قرآن کریم اچھی طرح پڑھتا نہیں آتا تو آپ کی نمازیں نامکمل رہیں گی۔’’ کیاکوئی عورت خود کو طلاق دے سکتی ہے؟‘‘ اس کے جواب میں مفتی صاحب نے بڑی اصلاحی گفتگو فرماتے ہوئے شرعی حکم بیان کیا کہ میاں بیوی میں نباہ کی کوئی صورت نہ رہ جائے تو ایسی صورت میں وہ قاضی شرع کے یہاں جا کر اپنا مسئلہ بیان کرے اور قاضی دونوں کے درمیان نکاح فسخ کرا دے۔ ایک اور سوال کے جواب میں حضرت مفتی صاحب قبلہ نے عورتوں کی غلط فہمی کا ازالہ کیا کہ غسل خانے کے اندر دعائیں اور اذکار کرنامنع ہے کیوں کہ وہ گندگی کی جگہیں ہوتی ہیں۔ اگر غسل سے قبل دعائیں وغیرہ پڑھنے کی خواہش ہو تو غسل خانے میں جانے سے قبل پڑھیں۔ایک نہایت سلگتے ہوئے ایشو پر حضرت مفتی صاحب نے ماؤں اور بہنوں کی ذہن سازی کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کی لڑکیاں اپنے طور پر اپناہونے والاشوہر پسند کرتی ہیں اور پھر ان سے شادی کرنے کی خواہش مند ہوتی ہیں مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ والدین راضی نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ سے بہت سے خانگی و معاشرتی مسائل پیدا ہورہےہیں۔والدین اس مسئلے کی وجہ سے بے حدپریشان رہتے ہیں۔مفتی صاحب نے اس سلسلے میں لاکھوں خواتین کومشورہ دیاکہ اس کاحل صرف اورصرف یہ ہے کہ بچیوں کو گھر میں دینی تربیت دی جائے۔ اگرآپ نے ان کی گھر میں صحیح دینی تربیت دے دی تویقین جانیےکہ آپ کی بیٹیاںکبھی بھی آپ کی مرضی کے خلاف کام نہیں کریں گی بلکہ کوئی بھی ایسا کام نہیں کریں گی جو شرع کے مخالف ہو۔ ایک اور سوال کے جواب میں صدقے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جب عورت حمل سے ہو تو دورانِ حمل اسے صدقہ کرتے رہنا چاہیے۔ اس صدقے کی وجہ سے ان شاء اللہ بچے صالح اور نیک ہوں گے اور امید ہے کہ بہتر انسان ثابت ہوں گے۔ لیکن اگر کوئی اسے رسم سمجھ کر کرے تو اس طرح کی رسموں کی اسلام میں کوئی حقیقت نہیں۔ ہاں اگر صدقے کی نیت سے اللہ عزوجل کی خوش نودی کے ارادے سے کرے تو یہ بالکل جائز بلکہ مستحب ہے۔ بعدنماز عصر قاری رضوان خان صاحب (پرنسپل ہاشمیہ ہائی اسکول)نے اپنی سحر انگیز آواز میںنعت پاک سنائی اورپورے مجمع کومسحور کردیا۔ پھر فوراً بعدیوکے سے تشریف لائے مفکراسلام حضرت علامہ قمر الزماں خان اعظمی (سکریٹری جنرل ورلڈاسلامک مشن)نے ’’انسانی کردارکی ترقی میں خواتین کاکردار‘‘کے موضوع پربڑاہی جذباتی ،پرمغزاورمعلوماتی خطاب کیا۔ان کے خطاب کے دوران پورامجمع ہمہ تن گوش بنارہا۔حضرت مفکراسلام نے کہاکہ ماں کی کوششوں اورتربیت کے بغیرانسان کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔انہوںنے کہاکہ مائیں بچوں کے صرف جسموں کوہی نہیں پالتیں ان کی روحوں کوبھی پالتی ہیں،ان کےخیالات کی بھی پرورش کرتی ہیں۔مائیں اپنے بچوں کوصرف دودھ ہی نہیں پلاتیں ،انہیںدودھ کے ساتھ ساتھ عقائدبھی پلاتی ہیں،ان کے سینوں میں نظریات انڈیلتی ہیں۔حضرت مفکراسلام نے ایک اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی کہ یہ عجیب بات ہے کہ دنیامیں جتنے بھی بڑے بڑے لوگ پیداہوئے ہیں ان میں زیادہ ترکے والدبچپن میں ہی فوت ہوگئے اوران کی تربیت کی ذمے داری تن تنہاان کی مائوں نے اٹھائی ۔اس کاصاف صاف مطلب یہ ہے کہ بچوں کی تربیت کے لیے جتنی زیادہ ضرورت باپ کی ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ ضرورت انہیں اپنی مائوں کی آغوش کی ہوتی ہے ورنہ اللہ عزوجل ان بڑے لو گوں کوصرف مائوں کی تربیت میں نہ دیتا۔سیدناشیخ عبدالقادرجیلانی کی مثال دیتے ہوئے مفکر اسلام نے فرمایاکہ ان کی والدہ ماجدہ کی تربیت کے اس پہلوپرکم ہی توجہ دی جاتی ہے کہ انہوںنے اپنے بیٹے کوتعلیم کے لیے اوردین کے لیے وقف کردیاتھا ۔اخیرمیں انہوںنےفرمایاکہ امت مسلمہ کی ترقی صرف اورصرف مائوں کی تربیت سے ہی ممکن ہے۔جس دن مائیں بیدارہوگئیں ترقی کاآغازاسی دن سے ہوجائے گا۔ آج کے سیشن کاایک اہم اورآخری خطاب داعیِ کبیر امیر سنّی دعوتِ اسلامی حضرت مولانا شاکر نوری صاحب کاہوا ۔ آپ نےفرمایا کہ دورِ حاضر میں بگڑتے نوجوان بچوں اور بچیوں میں جہاں سوشل میڈیا کا ہاتھ ہے وہیں تربیت کی ذمہ داری نہ نبھانے میں ماؤںکا بھی اہم رول ہے۔ آپ نے خواتین اسلام کو یہ پیغام دیا کہ اپنے آپ کو قرآن اور سیرتِ نبوی میں موجود عظیم ماؤں کے نقشِ قدم پر چلنے کا عزم مصمم کرلیں تبھی معاشرے کی اصلاح ممکن ہے۔ دورانِ خطاب آپ نے فرمایا کہ بہت سی خواتین غربت کی وجہ سے بچوں کی پرورش کے لیے ایسے راستے اختیار کر لیتی ہیں جن کی وجہ سے خود ان کی اور ان کے بچوں کی بھی دنیا وآخرت برباد ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسی خواتین ان ماؤں کی زندگی پیشِ نظر رکھیں جنھوں نے غربت کے باوجود اپنے بچوں کی ایسی تربیت کی کہ وہ امام مالک، امام بخاری، امام شافعی، حضرت سفیان ثوری، خواجہ نظام الدین اور سلطان الہند خواجہ غریب نواز رحمہم اللہ تعالیٰ جیسی شخصیت بن کر ابھرے۔ جو خواتین بچوں کی پرورش کے لیے خادماؤں کے حوالے کر دیتی ہیں ان کے ذہن کو آپ نے اس جانب مبذول کرایا کہ پرورش کا حق ادا کرنا ماؤں کا فریضہ ہے۔ آج مائیں پرورش کے لیے بچوں کو نوکرانیوں کے حوالے کر رہی ہیں تو وہی بچے کل ماں باپ کو اولڈ ہاؤس کے حوالے کریں گے۔ کسی دانا کا قول ہے ’’تم مجھے اچھی ماں دو، میں تمھیں اچھی قوم دوں گا۔‘‘اخیرمیں حضرت امیرسنی دعوت اسلامی نے خواتین کو اس اجتماع میں چھ باتوں پر خصوصی توجہ دینے کی دعوت دی۔ (۱)اپنی بچیوں کو سورۂ واقعہ سکھاؤ۔ (۲)انھیں سورۂ نور کی تعلیم دو۔ (۳)نماز اور صبر سے مدد طلب کرو۔ (۴)درود شریف کی کثرت کرو۔ (۵)کثرت سے استغفار کرو۔ (۶)بچوں کو اسلامی آداب سکھاؤ۔ آج کے پہلے دن کے پروگرام میں ممبئی ومضافات سمیت آس پاس کے اضلاع سے ایک لاکھ سے زائدخواتین نے شرکت کی جن میں بطورخاص اسکولوں اورکالجوں کی طالبات ومعلمات بھی شامل تھیں۔پروگرام میں مکتبہ طیبہ کی مطبوعات(۱)دروس تصوف (۲)روزی کمانے کااسلامی دستور،اورمفکراسلام علامہ قمرالزماں اعظمی کے مایہ نازخطابات کامجموعہ ’’خطبات رمضان فی ضوء القرآن ‘‘(دوجلدیں)کااجرابھی بھی علماومشائخ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔کل یعنی ۱۸دسمبرصبح تہجدکے وقت سے ہی ان شاء اللہ مردوں کواجتماع شروع ہوجائے گا ۔زیادہ سے زیادہ شرکت کریں۔

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...