01
The questionSawaal
اصل سوالکل مال کی وصیت کردی اور تین بھائی وارث ہیں تو کیا حکم ہوگا۔ ؟
02
The responseAl-Jawab
کل مال کی وصیت کردی اور تین بھائی وارث ہیں تو کیا حکم ہوگا۔ ؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ ہمارے پر دادا کی زمین ہے ان کا نام ساجی ان کے چار بیٹے تھے بیٹی نہیں تھی (١) سلیمان (٢) اسماعیل (٣) صدیق (٤) عبدل ان میں سے کوئی بھی باحیات نہیں ہے اب جو چوتھے بیٹے عبدل تھے ان کی کوئی اولاد نہیں تھی ان کی بیوی بھی ان سے پہلے انتقال کرگئی تھی ، اب عبدل بھائی نے وصیت بنائی کہ میری ساری ملکیت اسماعیل کے بیٹے اور بیٹیوں کو وصیت کرتا ہوں پھر اس پر گاؤں کے دو بندوں کی سائن بھی کرائی پھر 1999 میں عبدل بھائی انتقال کرگئے وصیت کئی سال پہلے ہی بنا دی تھی ان کے انتقال کے وقت ان کے واثوں میں سے صرف یہی تین بھائی باقی بچے تھے پھر 2019 میں وہ زمین بیچنے کی ہوئی تو اسماعیل بھائی کی بیٹیاں اور بیٹے کہنے لگے کہ عبدل بھائی نے اپنی ملکیت ہمارے نام کی ہے۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ اس زمین کے فی الحال تین حصے ہوں گے یا چار اگر چار ہوں گے تو کس کے حصے میں کتنا آئے گا ؟ اور عبدل بھائی کے وصیت کی اسلامی قانون میں کیا حیثیت ہے کیا وہ اپنا سارا حصہ تینوں بھائیوں میں برابر تقسیم کرنے کے بجائے صرف ایک بھائی کے بیٹوں کو سارے حصے کی وصیت کرسکتے تھے جبکہ زمین تو ان کے والد نے خریدی تھی۔ ؟ المستفتی: محمد سلیمان موڈاسا ضلع ارولی گجرات انڈیا۔ الجواب-بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں عبدل بھائی (مرحوم) کا اسماعیل بھائی (مرحوم) کی اولاد کے لئے کل مال کی وصیت کرنا درست نہ تھا ہاں اگر ان کے انتقال کے بعد ان کے وارثین نے اجازت دیدی ہو تو کل مال کی وصیت صحیح ہوگئی جبکہ ان میں سے کوئی نابالغ یا مجنون نہ رہا ہو اور اگر کوئی نابالغ یامجنون رہا ہو تو صرف بعض کے حق میں صحیح ہوئی، اور اگر کسی نے اجازت نہ دی ہو تو صرف تہائی مال سے وصیت پوری کی جائے گی مابقیہ وارثین میں تقسیم کردیا جائے گا اس طرح کہ کل مال کے نو حصے کرکے تین حصے اولاد اسماعیل کو اور دو دو حصے عبدل کے تینوں بھائیوں کو دیدیا جائے گا۔ السراجية میں ہے: ” ثم تنفذ وصاياه من ثلث مابقي بعد الدين ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة واجماع الامة ” اھ (ص١٢، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) بہار شریعت میں ہے: ” وصیت ثلث مال سے زیادہ کی جائز نہیں مگر یہ کہ وارث اگر بالغ ہیں اور نابالغ یا مجنون نہیں اور وہ موصی کے موت کے بعد ثلث مال سے زائد کی وصیت جائز کردیں تو صحیح ہے ” اھ (حصہ ١٩، وصیت کا بیان، ج٣، ص٩٣٨، مکتبۃ المدینہ کراچی) شیخ سراج الدین محمد بن عبد الرشید سجاوندی علیہ الرحمۃ نے تحریر فرمایا ہے: “اما العصبة بنفسه…..وهم اربعة اصناف جزء الميت واصله وجزء ابيه وجزء جده” اھ (السراجیۃ ملخصاً ، ص٢٩، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) بہار شریعت میں ہے: “عصبہ بنفسہ کی چار قسمیں ہیں : پہلی قسم جزو میت یعنی بیٹے پوتے ، دوسری قسم اصل میت یعنی میت کا باپ دادا تیسری قسم میت کے باپ کا جزو یعنی بھائی پھر ان کی مذکر اولاد در اولاد ” اھ (حصہ ٢٠ عصبات کا بیان ، ج٣، ص١١٣٠، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔٨ ربیع الاخر ١٤٤٤ھ مطابق ٣ نومبر ٢٠٢٢ء
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.