Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1916
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
5.4K Views
گنہ گار والدین کی اطاعت کا حکم / زانی باپ کی اطاعت کا کیا حکم ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
گنہ گار والدین کی اطاعت کا حکم / زانی باپ کی اطاعت کا کیا حکم ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
گنہ گار والدین کی اطاعت کا حکم / زانی باپ کی اطاعت کا کیا حکم ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل میں کہ زید کا باپ کسی عورت سے زنا کرتا ہے اور کچھ لوگوں کو پتہ بھی ہے زید نے بکر سے کہا کہ آپ کسی عالم صاحب سے اس تعلق سے پوچھنا کہ ایسے باپ کی فرما برداری کی جائے یا نہیں اور شریعت کا کیا حکم ہوگا اور مرنے کے بعد کیا سزا ملیگی برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں سائل. محمد وار ث علی ضلع بریلی شریف یو پی الجواب بعون الملک الوھاب والدین گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوں جب بھی اولاد پرجائز امور میں انکی اطاعت و فرمانبرداری فرض ہے۔ اور امر ناجائز میں ہرگز اطاعت نہ کرے خواہ والدین صالح ہی کیوں نہ ہوں کہ گناہ میں کسی کی اطاعت نہیں۔ قال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ الله انما الطاعۃ فی المعروف۔ نبی اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:” الله تعالٰی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں فرمانبرداری صرف نیك امور میں ہے”((صحیح البخاری کتاب اخبار الآحاد مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/١٠٧٨)) ممکن ہو تو بہ نرمی و ادب انہیں گناہوں سے منع کرے زنا پر جو وعیدیں وارد ہیں وہ خود سنائے یا کسی سے سوائے اور عذاب سے ڈرائے اگر مان جائیں ” سبحان اللہ” ورنہ انکے گناہ کا وبال ان پر ہوگا، اسے چاہئے کہ تنہائی میں انکے راہ راست پر رہنے کی دعا کرتا رہے۔ ملخصاً فتاویٰ رضویہ جدید ج 21…158 مکتبہ روح المدینہ اکیڈمی موبائل ایپ)) ایں سبب ہرگز انکا گستاخ و نافرمان انہیں ستانے والا نہ بنے کہ احادیث مبارکہ میں والدین کی نافرمانی پر سخت ترین وعیدیں ہیں۔ رسولﷲ صلیﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ملعون من عق والدیہ ملعون من عق والدیہ ملعون من عق والدیہ۔ ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو ستائے،ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو ستائے۔ملعون ہے جواپنے ماں باپ کو ستائے۔ (المعجم الاوسط حدیث ۸۴۹۲ مکتبہ المعارف ریاض ۹ /۲۲۶)) اور فرماتے ہیں صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم: ثلثۃ لایقبل ﷲ عزوجل منھم صرفا و لاعد لا عاق و منان ومکذب بقدر۔ تین شخص ہیں کہ ﷲ تعالٰی نہ ان کے نفل قبول کرے نہ فرض:ماں باپ کو ایذا دینے والا اور صدقہ دے کر فقیر پر احسان رکھنے والا اور تقدیر کا جھٹلانے والا۔((مجمع الزوائد باب ماجاء فیمن یکذب بالقدر الخ دارالکتاب بیروت ۷ /۲۰۶)) اور فرماتے ہیں رسولﷲ صلیﷲ تعالٰی علیہ وسلم : کل الذنوب یوخر ﷲ تعالٰی منھا ماشاء الٰی یوم القٰیمۃ الاعقوق الوالدین فانﷲ یعجلہ لصاحبہ فی الحیات قبل الممات۔ سب گناہوں کی سزا ﷲ تعالٰی چاہے تو قیامت کیلئے اٹھارکھتا ہے مگر ماں باپ کو ستانا کہ اس کی سزا مرنے سے پہلے زندگی میں پہنچاتا ہے۔ ((المستدرك للحاکم کتاب البروالصلۃ دار الفکر بیروت ۴ /۱۵۶)) تو چاہیے کہ انہیں راضی رکھے انکی رضا میں ہی خدا و رسول کی رضا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: رضاﷲ فی رضا الوالد وسخط ﷲ فی سخط الوالد۔ ((فتاویٰ رضویہ جدید ج 18…315 /316 مکتبہ روح المدینہ اکیڈمی موبائل ایپ)) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب کتبہ :خاک پائے علماء ابو فرحان مشتاق احمد رضوی جامعہ رضویہ فیض القرآن سلیم پور نزد کلیرشریف اتراکہنڈ
Kutubahu & Verified by:
<h3>گنہ گار والدین کی اطاعت کا حکم / زانی باپ کی اطاعت کا کیا حکم ہے ؟</h3> کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل میں کہ زید کا باپ کسی عورت سے زنا کرتا ہے اور کچھ لوگوں کو پتہ بھی ہے زید نے بکر سے کہا کہ آپ کسی عالم صاحب سے اس تعلق سے پوچھنا کہ ایسے باپ کی فرما برداری کی جائے یا نہیں اور شریعت کا کیا حکم ہوگا اور مرنے کے بعد کیا سزا ملیگی برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں سائل. محمد وار ث علی ضلع بریلی شریف یو پی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> والدین گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوں جب بھی اولاد پرجائز امور میں انکی اطاعت و فرمانبرداری فرض ہے۔ اور امر ناجائز میں ہرگز اطاعت نہ کرے خواہ والدین صالح ہی کیوں نہ ہوں کہ گناہ میں کسی کی اطاعت نہیں۔ قال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ الله انما الطاعۃ فی المعروف۔ نبی اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:" الله تعالٰی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں فرمانبرداری صرف نیك امور میں ہے"((صحیح البخاری کتاب اخبار الآحاد مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/١٠٧٨)) ممکن ہو تو بہ نرمی و ادب انہیں گناہوں سے منع کرے زنا پر جو وعیدیں وارد ہیں وہ خود سنائے یا کسی سے سوائے اور عذاب سے ڈرائے اگر مان جائیں " سبحان اللہ" ورنہ انکے گناہ کا وبال ان پر ہوگا، اسے چاہئے کہ تنہائی میں انکے راہ راست پر رہنے کی دعا کرتا رہے۔ ملخصاً فتاویٰ رضویہ جدید ج 21...158 مکتبہ روح المدینہ اکیڈمی موبائل ایپ)) ایں سبب ہرگز انکا گستاخ و نافرمان انہیں ستانے والا نہ بنے کہ احادیث مبارکہ میں والدین کی نافرمانی پر سخت ترین وعیدیں ہیں۔ رسولﷲ صلیﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ملعون من عق والدیہ ملعون من عق والدیہ ملعون من عق والدیہ۔ ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو ستائے،ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو ستائے۔ملعون ہے جواپنے ماں باپ کو ستائے۔ (المعجم الاوسط حدیث ۸۴۹۲ مکتبہ المعارف ریاض ۹ /۲۲۶)) اور فرماتے ہیں صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم: ثلثۃ لایقبل ﷲ عزوجل منھم صرفا و لاعد لا عاق و منان ومکذب بقدر۔ تین شخص ہیں کہ ﷲ تعالٰی نہ ان کے نفل قبول کرے نہ فرض:ماں باپ کو ایذا دینے والا اور صدقہ دے کر فقیر پر احسان رکھنے والا اور تقدیر کا جھٹلانے والا۔((مجمع الزوائد باب ماجاء فیمن یکذب بالقدر الخ دارالکتاب بیروت ۷ /۲۰۶)) اور فرماتے ہیں رسولﷲ صلیﷲ تعالٰی علیہ وسلم : کل الذنوب یوخر ﷲ تعالٰی منھا ماشاء الٰی یوم القٰیمۃ الاعقوق الوالدین فانﷲ یعجلہ لصاحبہ فی الحیات قبل الممات۔ سب گناہوں کی سزا ﷲ تعالٰی چاہے تو قیامت کیلئے اٹھارکھتا ہے مگر ماں باپ کو ستانا کہ اس کی سزا مرنے سے پہلے زندگی میں پہنچاتا ہے۔ ((المستدرك للحاکم کتاب البروالصلۃ دار الفکر بیروت ۴ /۱۵۶)) تو چاہیے کہ انہیں راضی رکھے انکی رضا میں ہی خدا و رسول کی رضا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: رضاﷲ فی رضا الوالد وسخط ﷲ فی سخط الوالد۔ ((فتاویٰ رضویہ جدید ج 18...315 /316 مکتبہ روح المدینہ اکیڈمی موبائل ایپ)) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب <strong>کتبہ :خاک پائے علماء ابو فرحان مشتاق احمد رضوی جامعہ رضویہ فیض القرآن سلیم پور نزد کلیرشریف اتراکہنڈ</strong>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...