Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1918 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.6K Views

سورہ ملک پڑھ کر برباد ہوگیا کہنا کیسا؟مفتی محمد ارشد حسین فیضی۔

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

سورہ ملک پڑھ کر برباد ہوگیا کہنا کیسا؟مفتی محمد ارشد حسین فیضی۔

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

سورہ ملک پڑھ کر برباد ہوگیا کہنا کیسا؟مفتی محمد ارشد حسین فیضی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید ایک مسجد میں امامت کرتا ہے اس نے ایک مقتدی سے کہا آپ عشاء کی نماز کے بعد سورۂ ملک پڑھا کریں مقتدی سورۂ ملک پڑھنے لگا کچھ دنوں کے بعد سورہ ملک پڑھنے والا مقتدی گاؤں کے لوگوں سے کہا کہ امام صاحب نے مجھے ایک ایسی سورت پڑھنے کے لیے کہا جس کو پڑھ کر میں برباد ہوگیا ایسا کہنے والے کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی. المستفتی:محمد مستقیم نظامی خطیب وامام جامع مسجد نورانی برکاتی بشنپورہ گورکھپوریو پی الھند الجواب بعون الملک الوھاب زید نے بہت سخت اور قبیح بات کہی کہ قرآن یا اس کی کسی سورت کو نحس سمجھنا اور اس سے بد فالی لینا اور اس کی جانب برباد کرنے کی نسبت کرنا قرآن کو عیب لگانا ہے اور قرآن کو عیب لگانا کفر ہے. فتاویٰ ھندیہ میں ہے”اذا انکر الرجل اٰیۃ من القراٰن او تسخر باٰیۃ من القراٰن وفی الخزانۃ او عاب کفر کذا فی التتارخانیۃ”اھ(ج١ ص٢٦٦۔٢٦٧،کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین، منھا مایتعلق بالقراٰن) زید پر لازم ہے کہ نادم وپشیماں ہوتے ہوئے اپنی اس بات سے رجوع کرے اور توبہ وتجدید ایمان ونکاح کرے اور عہد کرے کہ آئندہ ایسا جملہ کبھی نہیں بولونگا وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. نوٹ۔ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ سورۂ ملک پڑھنے والا برباد ہوجائے جبکہ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پوری زندگی سفر وحضر کا معمول رہا کہ رات بغیر سورۂ ملک پڑھے نہ سوتے تھے حدیث شریف میں ہے”عن عائشۃ ان النبی صلی ﷲ علیہ وسلم کان یقرء ” ألم تنزیل”السجدۃ، و” تبارک الذی بیدہ الملک ” کل لیلۃ لایدعھا فی سفر ولاحضر”اھ اخرجہ ابن مردویۃ”(الدر المنثورج١٤ص٦٠٦، سورۃ الملک) یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات الم تنزیل یعنی سورۂ سجدہ اور تبارک الذی بیدہ الملک یعنی سورۂ ملک پڑھا کرتے تھے نہ سفر میں چھوڑتے نہ حضر میں. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ پسند ہے کہ یہ سورت یعنی تبارک الذی بیدہ الملک ہر مومن کے دل میں ہو. “عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وددت انھا فی قلب کل مؤمن یعنی تبارک الذی بیدہ الملک” اھ(المستدرک للحاکم ج١ص٧٥٤، کتاب فضائل القراٰن، الحدیث:٢٠٧٦) ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا”انی لاجد فی کتاب ﷲ سورۃً ھی ثلاثون اٰیۃ من قرأھا عند نومہ کتب لہ بھا ثلاثون حسنۃ و محی عنہ ثلاثون سیئۃ ورفع لہ ثلاثون درجۃ وبعث ﷲ الیہ ملکا من الملائکۃ لیبسط علیہ جناحہ ویحفظہ من کل سوء حتی یستیقظ وھی المجادلۃ تجادل عن صاحبھا فی القبر وھی تبٰرک الذی بیدہ الملک” اھ(الدر المنثورج١٤ص٦٠٥، سورۃ الملک) یعنی میں کتاب اللہ میں ایک ایسی سورت پاتا ہوں جس میں تیس آیتیں ہیں جس نے اسے سونے کے وقت پڑھا اس کے سبب اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس سے تیس برائیاں مٹادی جائی گی اور تیس درجات بلند کردئیے جائیں گے اور اللہ اس کی جانب ایک فرشتہ بھیجے گا تاکہ اس پر اپنے پروں سے سایہ کرے اور اس کو تمام برائیوں سے محفوظ رکھے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے اور وہ مجادلہ ہے جو اپنے پڑھنے والے کی طرف سے قبر میں جھگڑا کرے گی اور وہ تبارک الذی بیدہ الملک ہے یعنی سورۂ ملک. اس کے ما سوا احادیث میں سورۂ ملک پڑھنے کی اور بھی بہت سی فضیلتیں وارد ہیں وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی ٤/جمادی الأول ١٤٤٤ھ

Kutubahu & Verified by:

<h3>سورہ ملک پڑھ کر برباد ہوگیا کہنا کیسا؟مفتی محمد ارشد حسین فیضی</h3> کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید ایک مسجد میں امامت کرتا ہے اس نے ایک مقتدی سے کہا آپ عشاء کی نماز کے بعد سورۂ ملک پڑھا کریں مقتدی سورۂ ملک پڑھنے لگا کچھ دنوں کے بعد سورہ ملک پڑھنے والا مقتدی گاؤں کے لوگوں سے کہا کہ امام صاحب نے مجھے ایک ایسی سورت پڑھنے کے لیے کہا جس کو پڑھ کر میں برباد ہوگیا ایسا کہنے والے کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی. المستفتی:محمد مستقیم نظامی خطیب وامام جامع مسجد نورانی برکاتی بشنپورہ گورکھپوریو پی الھند <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> زید نے بہت سخت اور قبیح بات کہی کہ قرآن یا اس کی کسی سورت کو نحس سمجھنا اور اس سے بد فالی لینا اور اس کی جانب برباد کرنے کی نسبت کرنا قرآن کو عیب لگانا ہے اور قرآن کو عیب لگانا کفر ہے. فتاویٰ ھندیہ میں ہے"اذا انکر الرجل اٰیۃ من القراٰن او تسخر باٰیۃ من القراٰن وفی الخزانۃ او عاب کفر کذا فی التتارخانیۃ"اھ(ج١ ص٢٦٦۔٢٦٧،کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین، منھا مایتعلق بالقراٰن) زید پر لازم ہے کہ نادم وپشیماں ہوتے ہوئے اپنی اس بات سے رجوع کرے اور توبہ وتجدید ایمان ونکاح کرے اور عہد کرے کہ آئندہ ایسا جملہ کبھی نہیں بولونگا وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. نوٹ۔ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ سورۂ ملک پڑھنے والا برباد ہوجائے جبکہ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پوری زندگی سفر وحضر کا معمول رہا کہ رات بغیر سورۂ ملک پڑھے نہ سوتے تھے حدیث شریف میں ہے"عن عائشۃ ان النبی صلی ﷲ علیہ وسلم کان یقرء " ألم تنزیل"السجدۃ، و" تبارک الذی بیدہ الملک " کل لیلۃ لایدعھا فی سفر ولاحضر"اھ اخرجہ ابن مردویۃ"(الدر المنثورج١٤ص٦٠٦، سورۃ الملک) یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات الم تنزیل یعنی سورۂ سجدہ اور تبارک الذی بیدہ الملک یعنی سورۂ ملک پڑھا کرتے تھے نہ سفر میں چھوڑتے نہ حضر میں. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ پسند ہے کہ یہ سورت یعنی تبارک الذی بیدہ الملک ہر مومن کے دل میں ہو. "عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وددت انھا فی قلب کل مؤمن یعنی تبارک الذی بیدہ الملک" اھ(المستدرک للحاکم ج١ص٧٥٤، کتاب فضائل القراٰن، الحدیث:٢٠٧٦) ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا"انی لاجد فی کتاب ﷲ سورۃً ھی ثلاثون اٰیۃ من قرأھا عند نومہ کتب لہ بھا ثلاثون حسنۃ و محی عنہ ثلاثون سیئۃ ورفع لہ ثلاثون درجۃ وبعث ﷲ الیہ ملکا من الملائکۃ لیبسط علیہ جناحہ ویحفظہ من کل سوء حتی یستیقظ وھی المجادلۃ تجادل عن صاحبھا فی القبر وھی تبٰرک الذی بیدہ الملک" اھ(الدر المنثورج١٤ص٦٠٥، سورۃ الملک) یعنی میں کتاب اللہ میں ایک ایسی سورت پاتا ہوں جس میں تیس آیتیں ہیں جس نے اسے سونے کے وقت پڑھا اس کے سبب اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس سے تیس برائیاں مٹادی جائی گی اور تیس درجات بلند کردئیے جائیں گے اور اللہ اس کی جانب ایک فرشتہ بھیجے گا تاکہ اس پر اپنے پروں سے سایہ کرے اور اس کو تمام برائیوں سے محفوظ رکھے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے اور وہ مجادلہ ہے جو اپنے پڑھنے والے کی طرف سے قبر میں جھگڑا کرے گی اور وہ تبارک الذی بیدہ الملک ہے یعنی سورۂ ملک. اس کے ما سوا احادیث میں سورۂ ملک پڑھنے کی اور بھی بہت سی فضیلتیں وارد ہیں وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. <strong>کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی ٤/جمادی الأول ١٤٤٤ھ</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...