Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1923 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.3K Views

زمین باپ کو دیدی اس نے دوسرے کو دی تو لینے والے کے پیچھے نماز؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

زمین باپ کو دیدی اس نے دوسرے کو دی تو لینے والے کے پیچھے نماز؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

زمین باپ کو دیدی اس نے دوسرے کو دی تو لینے والے کے پیچھے نماز؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حامد اور محمود دونوں بھائی ہیں حامد نے زمین خریدی اور اپنے والد اکرام کے نام پر رجسٹری کروا دیا کچھ دن گزرنے کے بعد اکرام صاحب نے محمود کے دونوں لڑکوں کے نام پر کردیا بغیر حامد کو بتائے اس پر حامد اپنے والد سے کافی ناراض ہے محمود کا لڑکا عالم دین ہے  تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ جواب عنایت فرمائیں۔ سائل:عبد الرؤف امین پورہ جھوریہ  ضلع بلرام پور یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملك الوهاب صورت مسئولہ میں اگر حامد نے اپنے والد اکرام کو ہبہ کرکے قبضہ کرادیا ہو پھر انہوں نے محمود کے بیٹوں کے نام کردیا ہو تو اس میں کچھ حرج نہیں کہ بعد ہبہ قبضہ کرادیا تو اکرام صاحب اس زمین کے مالک ہوگئے اب وہ جس کو چاہیں دیں حامد کا اس میں کچھ دخل نہیں اور جب اکرام صاحب کا دینا اور محمود کے لڑکوں کا لینا شرعاً جائز ٹھہرا تو بدیں سبب محمود کے عالم بیٹے کی امامت میں بھی کچھ حرج نہیں۔ در مختار میں ہے : ’’ و تتم الھبۃ بالقبض الکامل ‘‘ اھ (کتاب الھبۃ ، ص٥٦١، مطبوعہ دار الكتب العلميه بيروت لبنان) یعنی:پورے طورپر قبضہ کرنے سے ہبہ مکمل ہوجاتا ہے۔ صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ” ہبہ تمام ہونے کے لئے قبضہ کی بھی ضرورت ہے بغیر اس کے ہبہ تمام نہیں ہوتا” اھ (بہار شریعت، ج٣، ح١٤، ص٧١، ہبہ کابیان، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

Kutubahu & Verified by:

<h3>زمین باپ کو دیدی اس نے دوسرے کو دی تو لینے والے کے پیچھے نماز؟</h3> مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حامد اور محمود دونوں بھائی ہیں حامد نے زمین خریدی اور اپنے والد اکرام کے نام پر رجسٹری کروا دیا کچھ دن گزرنے کے بعد اکرام صاحب نے محمود کے دونوں لڑکوں کے نام پر کردیا بغیر حامد کو بتائے اس پر حامد اپنے والد سے کافی ناراض ہے محمود کا لڑکا عالم دین ہے  تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ جواب عنایت فرمائیں۔ سائل:عبد الرؤف امین پورہ جھوریہ  ضلع بلرام پور یوپی انڈیا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملك الوهاب</strong></span> صورت مسئولہ میں اگر حامد نے اپنے والد اکرام کو ہبہ کرکے قبضہ کرادیا ہو پھر انہوں نے محمود کے بیٹوں کے نام کردیا ہو تو اس میں کچھ حرج نہیں کہ بعد ہبہ قبضہ کرادیا تو اکرام صاحب اس زمین کے مالک ہوگئے اب وہ جس کو چاہیں دیں حامد کا اس میں کچھ دخل نہیں اور جب اکرام صاحب کا دینا اور محمود کے لڑکوں کا لینا شرعاً جائز ٹھہرا تو بدیں سبب محمود کے عالم بیٹے کی امامت میں بھی کچھ حرج نہیں۔ در مختار میں ہے : ’’ و تتم الھبۃ بالقبض الکامل ‘‘ اھ (کتاب الھبۃ ، ص٥٦١، مطبوعہ دار الكتب العلميه بيروت لبنان) یعنی:پورے طورپر قبضہ کرنے سے ہبہ مکمل ہوجاتا ہے۔ صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: " ہبہ تمام ہونے کے لئے قبضہ کی بھی ضرورت ہے بغیر اس کے ہبہ تمام نہیں ہوتا" اھ (بہار شریعت، ج٣، ح١٤، ص٧١، ہبہ کابیان، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ <strong>کتبہ محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ </strong><strong>صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...