Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1940
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.4K Views
مبارکپور کی ایثار پیشہ مسلمانوں سے نہ تو اشرفیہ کو الگ کیا جا سکتا ہے نہ حافظ ملت کو
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
مبارکپور کی ایثار پیشہ مسلمانوں سے نہ تو اشرفیہ کو الگ کیا جا سکتا ہے نہ حافظ ملت کو
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
مبارکپور کی ایثار پیشہ مسلمانوں سے نہ تو اشرفیہ کو الگ کیا جا سکتا ہے نہ حافظ ملت کو
الجامعۃ الاشرفیہ کی عمارت کا نقشہ بن چکا تھا- درس گاہ کے کمروں کے مصارف کا اندازہ فی کمرہ 6000 روپے لگایا گیا تھا- حافظ ملت نے چند اہل خیر سے رابطہ کیا- میں نے یہ بات خاص طور پر نوٹ کی کہ درس گاہ کے کمروں کے لیے زر تعاون کی اپیل کرتے وقت حافظ ملت کی زبان میں ایسی تاثیر اور آنکھوں میں ایسی چمک ہوتی کہ کوئی معذوری ظاہر نہیں کر پاتا- ویسے تو پوری جماعت ہی انکی عیال تھی- انہیں خوب پتہ تھا کہ 6000 روپے تعاون کے لیے کس کو متوجہ کیا جائے- ان دنوں چھ ہزار روپے بہت تھے- کچھ عقیدت مندوں نے اڑا دیا کہ جو جامعہ کو کمرہ دے گا جنت میں اس کو محل ملے گا لیکن یہ بے پر کی خبر نہیں تھی- آخرت میں اس کار خیر کی جزا سے کس کو انکار ہو سکتا ہے؟ یہ تو خدا و رسول کی خوشنودی کا سودا تھا- کہتے ہیں کہ دن بھلے آئیں گے تو گھر پوچھتے چلے آئیں گے- معطی حضرات نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ بہت کم دنوں میں ان کے کاروبار میں ایسی برکت ہوئی کہ بعض اہل خیر نے ایک ایک کمرہ اور دینے کا اعلان کر دیا، جن کے کتبے آج بھی معطی کے اہل خاندان کے کسی فرد کے نام سے جامعہ کی درس گاہوں پر دیکھے جاسکتے ہیں- موضع نوادہ میں حافظ ملت میرے بہنوئی حاجی منظور احمد صاحب کے یہاں تشریف لے گئے- آپ کی آمد کی خبر پہلے سے تھی۔ میں پہلے سے حاضر تھا- دو پہر کا کھانا کھایا گیا، دال سبزی اور معروف گوشت کے علاوہ مچھلی اور دودھ بھی دسترخوان پر تھے، دودھ کو مچھلی نہ کھانے والوں کو پینے کی نیت سے رکھا گیا تھا، حافظ ملت نے مچھلی بھی کھائی اور دودھ بھی پیا، یہ دیکھ کر لوگ حیرت زدہ تھے، آپس میں خوب سرگوشیاں ہوئیں کیونکہ ہمارے مبارک پور میں یہ مشہور تھا کہ مچھلی اور دودھ ایک ساتھ کھانے سے سفید داغ کی بیماری پیدا ہوتی ہے- میں بعض کتابوں میں بھی پڑھا تھا لیکن حافظ ملت کے عمل سے ظاہر ہوا کہ یہ صحیح نہیں ہے- جب میں نے طبی کتب سے اس کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اگر مچھلی اور دودھ کا مزاج یا ان میں سے کسی ایک کا مزاج فاسد ہو گیا ہو تو برص اگر دونوں صحیح المزاج ہوں تو ان کو ایک ساتھ کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے- کھانے سے فارغ ہونے کے بعد حافظ ملت نے اپنی آمد کا سبب بتایا تو حاجی منظور احمد صاحب نے فوراً 6000 کی پیش کش منظور کرلی، حضرت نے دعائے خیر فرمائی- چند روز کے بعد حاجی منظور احمد صاحب نے مجھ سے کہا کہ میری والدہ مرحومہ کاٹین کا ایک بکس برسوں سے کھولا نہیں گیا تھا، کل جب میں نے کھولا تو اس میں چاندی کے ڈھیر سے سکوں کے کئ ہار ملے– 6000 روپیہ سے زیادہ کے تو وہ سکے ہی ہیں، فالحمدللہ حافظ ملت تک کے تاریخی سفر پر چاہے جتنا زور قلم صرف کر لیں مبارک پور کی ایثار پیشہ مسلمانوں سے نہ تو اشرفیہ کو الگ کیا جاسکتا ہے نہ حافظ ملت کو- جس طرح ایک کٹورا پانی میں چٹکی بھر رنگ ڈالنے سے سارا پانی رنگین ہو جاتا ہے ہے- اب رنگ پانی سے الگ ہے نہ پانی رنگ سے، بالکل یہی تلازمہ مبارک پور کے اہل خیر اور حافظ ملت کی عنایات کے درمیان یا مبارک پور کے جانثاروں اور اشرفیہ کے مابین ہے- رحمتہ اللہ علیہم اجمعین (مقالات شرر مصباحی حصہ دوم تزکار) پیش کش: محمد حارث نوید مصطفائی مبارک پوریقرآن کی توہین کرنے والے کا حکم از حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ
کیا نبیﷺ کا علم بدلنا ممکن ہے؟ از حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ
Kutubahu & Verified by:
<h3>مبارکپور کی ایثار پیشہ مسلمانوں سے نہ تو اشرفیہ کو الگ کیا جا سکتا ہے نہ حافظ ملت کو</h3> الجامعۃ الاشرفیہ کی عمارت کا نقشہ بن چکا تھا- درس گاہ کے کمروں کے مصارف کا اندازہ فی کمرہ 6000 روپے لگایا گیا تھا- حافظ ملت نے چند اہل خیر سے رابطہ کیا- میں نے یہ بات خاص طور پر نوٹ کی کہ درس گاہ کے کمروں کے لیے زر تعاون کی اپیل کرتے وقت حافظ ملت کی زبان میں ایسی تاثیر اور آنکھوں میں ایسی چمک ہوتی کہ کوئی معذوری ظاہر نہیں کر پاتا- ویسے تو پوری جماعت ہی انکی عیال تھی- انہیں خوب پتہ تھا کہ 6000 روپے تعاون کے لیے کس کو متوجہ کیا جائے- ان دنوں چھ ہزار روپے بہت تھے- کچھ عقیدت مندوں نے اڑا دیا کہ جو جامعہ کو کمرہ دے گا جنت میں اس کو محل ملے گا لیکن یہ بے پر کی خبر نہیں تھی- آخرت میں اس کار خیر کی جزا سے کس کو انکار ہو سکتا ہے؟ یہ تو خدا و رسول کی خوشنودی کا سودا تھا- کہتے ہیں کہ دن بھلے آئیں گے تو گھر پوچھتے چلے آئیں گے- معطی حضرات نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ بہت کم دنوں میں ان کے کاروبار میں ایسی برکت ہوئی کہ بعض اہل خیر نے ایک ایک کمرہ اور دینے کا اعلان کر دیا، جن کے کتبے آج بھی معطی کے اہل خاندان کے کسی فرد کے نام سے جامعہ کی درس گاہوں پر دیکھے جاسکتے ہیں- موضع نوادہ میں حافظ ملت میرے بہنوئی حاجی منظور احمد صاحب کے یہاں تشریف لے گئے- آپ کی آمد کی خبر پہلے سے تھی۔ میں پہلے سے حاضر تھا- دو پہر کا کھانا کھایا گیا، دال سبزی اور معروف گوشت کے علاوہ مچھلی اور دودھ بھی دسترخوان پر تھے، دودھ کو مچھلی نہ کھانے والوں کو پینے کی نیت سے رکھا گیا تھا، حافظ ملت نے مچھلی بھی کھائی اور دودھ بھی پیا، یہ دیکھ کر لوگ حیرت زدہ تھے، آپس میں خوب سرگوشیاں ہوئیں کیونکہ ہمارے مبارک پور میں یہ مشہور تھا کہ مچھلی اور دودھ ایک ساتھ کھانے سے سفید داغ کی بیماری پیدا ہوتی ہے- میں بعض کتابوں میں بھی پڑھا تھا لیکن حافظ ملت کے عمل سے ظاہر ہوا کہ یہ صحیح نہیں ہے- جب میں نے طبی کتب سے اس کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اگر مچھلی اور دودھ کا مزاج یا ان میں سے کسی ایک کا مزاج فاسد ہو گیا ہو تو برص اگر دونوں صحیح المزاج ہوں تو ان کو ایک ساتھ کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے- کھانے سے فارغ ہونے کے بعد حافظ ملت نے اپنی آمد کا سبب بتایا تو حاجی منظور احمد صاحب نے فوراً 6000 کی پیش کش منظور کرلی، حضرت نے دعائے خیر فرمائی- چند روز کے بعد حاجی منظور احمد صاحب نے مجھ سے کہا کہ میری والدہ مرحومہ کاٹین کا ایک بکس برسوں سے کھولا نہیں گیا تھا، کل جب میں نے کھولا تو اس میں چاندی کے ڈھیر سے سکوں کے کئ ہار ملے-- 6000 روپیہ سے زیادہ کے تو وہ سکے ہی ہیں، فالحمدللہ حافظ ملت تک کے تاریخی سفر پر چاہے جتنا زور قلم صرف کر لیں مبارک پور کی ایثار پیشہ مسلمانوں سے نہ تو اشرفیہ کو الگ کیا جاسکتا ہے نہ حافظ ملت کو- جس طرح ایک کٹورا پانی میں چٹکی بھر رنگ ڈالنے سے سارا پانی رنگین ہو جاتا ہے ہے- اب رنگ پانی سے الگ ہے نہ پانی رنگ سے، بالکل یہی تلازمہ مبارک پور کے اہل خیر اور حافظ ملت کی عنایات کے درمیان یا مبارک پور کے جانثاروں اور اشرفیہ کے مابین ہے- رحمتہ اللہ علیہم اجمعین <strong>(مقالات شرر مصباحی حصہ دوم تزکار)</strong> <strong>پیش کش: محمد حارث نوید مصطفائی مبارک پوری</strong> <h5 class="entry-title"><a href="https://masailworld.com/quran-ki-taheen-karne-ka-hukm/" rel="bookmark">قرآن کی توہین کرنے والے کا حکم از حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ</a></h5> <h5 class="entry-title"><a href="https://masailworld.com/kya-huzoor-ka-ilm-badalna-mumkin-hai/" rel="bookmark">کیا نبیﷺ کا علم بدلنا ممکن ہے؟ از حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ</a></h5>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...