Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1950 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.5K Views

سورت کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

سورت کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

سورت کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا؟

سوال سورۂ فاتحہ اور سورہ اخلاص وغیرہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا کیسا؟ الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب صورت مسئولہ میں مقتدی کے لئے تو حکم یہ ہے کہ جب وہ شروع سے امام کے ساتھ نماز میں شامل ہو تو ثناء پڑھنے کے بعد ہر رکعت میں خاموش ہی کھڑا رہے گا، ہاں اگر تنہا نماز ادا کر رہا ہے تو ہر رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا سنت ہے، اور سورہ فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے سے قبل بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے یہ اس وقت ہے کہ جب کوئی سورت شروع سے پڑھے اگر سورت کے درمیان سے پڑھے تو مستحب نہیں، اور یہ حکم امام اور منفرد کے لئے ہے مقتدی کے لئے بسم اللّٰہ پڑھنے کاحکم نہیں.. امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، سورۂ فاتحہ کی ابتدا میں تسمیہ(بسم اللّٰہ پڑھنا سنت ہے، اور اس کے بعد اگر کوئی سورت اول سے پڑھے تو اس پر بسم اللہ کہنا مستحب ہے، اور کچھ آیتیں کہیں سے پڑھے تو اس پر کہنا(یعنی سبم اللہ پڑھنا مستحب نہیں، اور قیام کے سوا رکوع و سجود و قعود کسی جگہ بسم اللہ پڑھنا جائز نہیں- (فتاویٰ رضویہ جلد6 صفحہ349 رضا فاؤنڈیشن لاہور) نوٹ مطالعہ فرما کرشیئر ضرور کریں.. اللہ تعالٰی عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ

Kutubahu & Verified by:

<h3>سورت کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا؟</h3> سوال سورۂ فاتحہ اور سورہ اخلاص وغیرہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا کیسا؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب</strong></span> صورت مسئولہ میں مقتدی کے لئے تو حکم یہ ہے کہ جب وہ شروع سے امام کے ساتھ نماز میں شامل ہو تو ثناء پڑھنے کے بعد ہر رکعت میں خاموش ہی کھڑا رہے گا، ہاں اگر تنہا نماز ادا کر رہا ہے تو ہر رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا سنت ہے، اور سورہ فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے سے قبل بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے یہ اس وقت ہے کہ جب کوئی سورت شروع سے پڑھے اگر سورت کے درمیان سے پڑھے تو مستحب نہیں، اور یہ حکم امام اور منفرد کے لئے ہے مقتدی کے لئے بسم اللّٰہ پڑھنے کاحکم نہیں.. امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، سورۂ فاتحہ کی ابتدا میں تسمیہ(بسم اللّٰہ پڑھنا سنت ہے، اور اس کے بعد اگر کوئی سورت اول سے پڑھے تو اس پر بسم اللہ کہنا مستحب ہے، اور کچھ آیتیں کہیں سے پڑھے تو اس پر کہنا(یعنی سبم اللہ پڑھنا مستحب نہیں، اور قیام کے سوا رکوع و سجود و قعود کسی جگہ بسم اللہ پڑھنا جائز نہیں- (فتاویٰ رضویہ جلد6 صفحہ349 رضا فاؤنڈیشن لاہور) نوٹ مطالعہ فرما کرشیئر ضرور کریں.. اللہ تعالٰی عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...