Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1952 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.7K Views

حضور حافظ ملت کے دینی علمی کارنامے از قلم مفتی صابررضامحب القادری

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

حضور حافظ ملت کے دینی علمی کارنامے از قلم مفتی صابررضامحب القادری

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

حضور حافظ ملت کے دینی علمی کارنامے

(عہد طالب علمی جماعت رابعہ میں لکھا گیا مضمون حذف واضافہ کے ساتھ بارگاہ حافظ ملت علیہ الرحمہ میں پیش ہے) از قلم مفتی صابررضامحب القادری اس خاکدان گیتی پر بہت سی نفوس قدسیہ جلوہ گر ہوئیں جو علم وفضل تقوی و طہارت کے آفتاب ومہتاب بن کر کائنات گیتی پر چھا گئیں اور ان کی تجلیات کی ضیا پاشیوں سے انفس و آفاق میں گم انسانوں کی تقدیریں بدل گئیں، آج ان کی علمی فکری روحانی تاریخی تعمیری تابشوں اور نمایاں کارناموں کی مثال کالعدم ہے، رہتی دنیا تک ان کے کارناموں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا،انہیں نا قابل فراموش انقلابی شخصیات پاک طینت پاکباز بزرگوں میں ایک نام جلالۃ العلم استاذالعلما حافظ ملت مولانا شاہ عبدالعزیز اشرفی امجدی مرادآبادی ثم مبارکپوری متوفیٰ ۱۳۹۴ھ 1446عیسوی کا بھی ہے مرادآباد دیار نعیم (صدرالافاضل علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی)گاوں بھوجپور میں طلوع ہوئے اعلیٰ نصب العین بلند تر عزائم صالح فکر پاکیزہ جذبات کے ساتھ مبارک پور کیا آمد ہوئی کہ دیکھتے دیکھتے مبارک قدوم کی برکت سے مرادئیں بر آئیں مبارک پور اسم بامسمیٰ ہوگیا، حافظ ملت علیہ الرحمہ نے اشرفی میخانہ سے جام وسبو نوش کیا رضوی امجدی درسگاہ سے جہان علم وادب کا سفر کیا اور پھر مبارک پو میں مستقل قیام فرمایا اپنے مرشد برحق شیخ المشائخ پروردہ سہ محبوباں سیدنا علی حسین اشرفی میاں علیہ الرحمہ کے قائم کردہ ادارہ مدرسہ اشرفیہ سے تدریس کا آغاز فرمایا اور پھر ایک جامعہ اسلامک یونیورسٹی کے تصور میں آبلہ پائی کی اور مسلسل جد وجہد کے بعد ایک طویل آراضی فراہم ہوئی تصور کو تصدیق کے پیکر میں ملبوس فرمانے کی غرض سے خلوص اور نیک نیتی سے لگے رہے یہاں تک ایک دن ایسا آیا حضور اشرفی میاں حضور مفتی اعظم ہند دیگر اکابر اہلسنت کے ہاتھوں مجوزہ یونیورسٹی جامعہ اشرفیہ کا سنگ بنیاد رکھا اور مدرسہ اشرفیہ مدرسہ سے جامعہ ہوگیا مدرسہ سے جامعہ کے اس سفر میں حضور حافظ ملت کی قربانیاں جانفشانیان کس درجہ رہی ہیں وہ ارباب علم ودانش صاحبان فکر ونظر پر عیاں ہیں اور اور جامعہ اشرفیہ کی اینٹ پتھر بام و در وہاں سے استفادہ کرنے والے اکابر علما کی ایک بڑی جماعت اس پر شاہد ہیں، جب ہم حضور حافظ ملت کی زندگی پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو تاریخ ہمیں پکار پکار کر کہتی ہے کہ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ خدمت خلق کے لیے وقف تھا ان کی حیات خشیت الٰہی اور اتباع نبوی ﷺ کا پیکر تھی انہوں نے اپنے علمی کارناموں اور روحانیت کے ذریعے لاتعداد لوگوں کو ایمان وعقیدے زندگی فراہم کی ہیں جہاں انہوں نے دین حق کی تبلیغ واشاعت میں وعظ و نصیحت اور مناظرے کیے اور ایک عظیم درسگاہ میں بیٹھ کر افراد سازی فرمائی ہے محدث مناظر متکلم مفسر فقیہ مصنف پیدا کیے ہیں وہیں ان کے نوک قلم سے درجنوں کتابیں منصہ شہود پر آئیں الفاظ و معنی کے جواہرات نمودار ہوئے غور کریں تو اس قدر مصروف زندگی کے باوجود تصنیف تالیف کی دنیا میں بھی آپ کی نظیر بہت کم ملتی ہے، حالانکہ تصنیف وتالیف کا میدان اتنا پرکٹھن ہے جو ذہنی یکسوئی فکری ہم آہنگی کا متقاضی ہوتا ہے گویا کہ اس راہ میں قدم رکھنا سب کے بس کی بات نہیں، خود حضور حافظ ملت فرماتے ہیں تقریر سب سے آسان ہے اس سے مشکل تدریس اور سب سے مشکل تصنیف (حضور حافظ ملت کے اقوال ذریں، علامہ نعمانی صاحب قبلہ) اب دیکھیں حافظ ملت کی زندگی میں تقریر تدریس اور تصنیف یہ عناصرثلاثہ اپنی نمایاں شان وشوکت کے ساتھ جلوہ بار ہیں، تصنیف کے حوالے سے دیکھیں تو انہوں بروقت المصباح الجدید تحریر فرماکر ایوان باطل میں زلزلہ برپا کر دیا اور نام نہاد نقاب پوش شہد دکھائے زہر پلائے کے مترادف کردار رکھنے والے مولویوں کے عقائد باطلہ کی تردید فرماکر ان کے فریب سے قوم کو بچایا وہیں جب مخالفین مبتدعین نے مقامع الحدید نامی کتاب لکھی تو تو اس کے جواب میں آپ نے اپنے شاہکار قلم سے برق بار کتاب العذاب الشديد تحریر فرمائی جس کو پڑھ کر مخالفین میں سکتہ طاری ہوگیا اور ان کے پیشوا مبہوت ہوکر رہ گیے، حافظ ملت کی تحریر کردہ ”ارشاد القران“ معارف حدیث“ فرقہ ناجیہ“ انباء الغیب وغیرہم یہ کتابیں اپنی مثال آپ ہیں، یہ کتابیں جہاں غداران مصطفیٰ ﷺ کے لیے شمشیر براں ہیں وہیں اپنوں کے لیے بے حد مفید وکار آمد ہیں، (ضروری نوٹ) جامعہ اشرفیہ کے فارغین میں وہ حضرات جو آج بدعقیدوں بدمذہبوں کی حمایت میں جھنڈا اٹھائے پھر رہے ہیں ان کو چاہئیے حافظ ملت کی مندرجہ بالا کتب کو اپنے سامنے رکھیں اور کم از کم ان کے مشن ان کی تعلیمات سے اعراض اور انحراف تو نہ کریں ان کی تصانیف میں کوئی ابہام نہیں ہے انہوں نے حق وباطل واضح کرکے رکھ دیا ہے ہاں اگر ان کے مشن سے مخالفت ہی کرنی ہے تو خدارا اپنے ناموں کے ساتھ مصباحی کا لاحقہ لگاکر عوام اہلسنت کو دھوکہ نہ دیں کھل کر اپنی شناخت کے ساتھ میدان میں آئیں تاکہ واضح ہو جائے حافظ ملت اور موجودہ لبرل جدید خیالات کے محققین میں کوئی تناسب نہیں ہے خیر یہ بات ضمناً آگئی، ﷲ تعالیٰ ہمیں خیر پر استقامت دے۔ بات چل رہی تھی حافظ ملت کی تصانیف الحمد للّٰہ آج ان کے فتاویٰ کا مجموعہ فتاویٰ عزیزیہ کی شکل میں موجود ہے جو شائقین عوام وخواص ہردو کے لیے مفید ہے حافظ ملت کا سب سے بڑا کارنامہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور یقیناً اہلسنت وجماعت کے چند ممتاز ترین اداروں میں سے ایک ہے اور یہ پوری جماعت پر احسان ہے کہ انہوں نے ایسا دینی قلعہ تعمیر فرمایا کہ آج وہاں کے فارغین دنیا بھر میں دینی ملی تعمیری کارنامے انجام دے رہے ہیں قارئین! حافظ ملت علیہ الرحمہ کو آپ جس زاویے سے مطالعہ کرینگے وہ ہر زاوئیے سے کامیاب نظر آتے ہیں گویا جدھر چل دیے کارواں بنتا چلا گیا، حافظ ملت تو ہے ہی ہیں سچ تو یہ ہے کہ ان کے سنوارے ہوئے تربیت یافتہ مخلص اور مشاہیر تلامذہ کی حیات اور کارنامے بھی ہمارے لیے نشان راہ ہیں مثلاً علامہ حافط عبدالروف بلیاوی علامہ سید مجتبیٰ اشرف کچھوچھوی علامہ سید حامد اشرف کچھوچھوی مفتی شریف الحق امجدی علامہ ارشد القادری علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی علامہ بدر القادری وغیرھم رحمۃ ﷲ علیہم اجمعین یہ وہ شخصیات ہیں جو پوری زندگی پرچم حق بلند کرنے میں کوشاں رہے اور خدمت خلق کرتے کرتے جاں بحق ہوگیے اور عصر میں دیکھیں تو شیخ الاسلام علامہ سید مدنی میاں صدر العلماء علامہ احمدمصباحی محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ گھوسی علامہ عبدالشکور گیاوی علامہ عبدالمبین نعمانی مفتی نظام الدین رضوی علامہ یٰسین اختر مصباحی علامہ قمرالزماں خان اعظمی وغیرہم (حضورحافظ ملت کے مشن اور اعتقادری نظریاتی مسلک اہلسنت وجماعت جس کی تعبیر مسلک اعلیٰ سے بھی کرتے ہیں) حافظ ملت کے پروردہ مندرجہ تمام علماء ومشائخ پوری قوت و توانائی کے ساتھ اس پر قائم قائل اور عامل ہیں اور مخلوق خدا کو درس دینے میں لگے ہیں عالم کو تابندگی بخش رہے ہیں، ان بزرگوں کے قائم رہتے ہوئے موجودہ دور کے چند نو فارغ جواں سال علماء کا ان کے مسلک اور مشن سے انحراف میں پوری طاقت صرف کرنا قابل غور ہے،نہیں معلوم ہماری مقدس جماعت کو کس کی نظر لگ گئی ﷲ پوری جماعت پر کرم فرمائے خیر حافظ ملت کے منفرد المثال کارناموں سے عالم فیضیاب ہوا اور عالم میں بسنے والے لوگ ہمیشہ فیضیاب ہوتے رہنگے جو جلوے ان کی ظاہری زندگی میں دیکھے جارہے تھے وہ آج بھی دیکھے جارہے ہیں اور ان شاء ﷲ آگے بھی دیکھے جاتے رہینگے، نیازمند صابررضامحب القادری نعیمی غفرلہ
اعزاز کی پوشاک ، تری خاک / جامعہ اشرفیہ مبارک پور
حافظ ملت: خدمات، اثرات اور علمی فتوحات از قلم : مفتی محمد توفیق احسن برکاتی مصباحی

Kutubahu & Verified by:

<h3>حضور حافظ ملت کے دینی علمی کارنامے</h3> (عہد طالب علمی جماعت رابعہ میں لکھا گیا مضمون حذف واضافہ کے ساتھ بارگاہ حافظ ملت علیہ الرحمہ میں پیش ہے) از قلم مفتی صابررضامحب القادری اس خاکدان گیتی پر بہت سی نفوس قدسیہ جلوہ گر ہوئیں جو علم وفضل تقوی و طہارت کے آفتاب ومہتاب بن کر کائنات گیتی پر چھا گئیں اور ان کی تجلیات کی ضیا پاشیوں سے انفس و آفاق میں گم انسانوں کی تقدیریں بدل گئیں، آج ان کی علمی فکری روحانی تاریخی تعمیری تابشوں اور نمایاں کارناموں کی مثال کالعدم ہے، رہتی دنیا تک ان کے کارناموں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا،انہیں نا قابل فراموش انقلابی شخصیات پاک طینت پاکباز بزرگوں میں ایک نام جلالۃ العلم استاذالعلما حافظ ملت مولانا شاہ عبدالعزیز اشرفی امجدی مرادآبادی ثم مبارکپوری متوفیٰ ۱۳۹۴ھ 1446عیسوی کا بھی ہے مرادآباد دیار نعیم (صدرالافاضل علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی)گاوں بھوجپور میں طلوع ہوئے اعلیٰ نصب العین بلند تر عزائم صالح فکر پاکیزہ جذبات کے ساتھ مبارک پور کیا آمد ہوئی کہ دیکھتے دیکھتے مبارک قدوم کی برکت سے مرادئیں بر آئیں مبارک پور اسم بامسمیٰ ہوگیا، حافظ ملت علیہ الرحمہ نے اشرفی میخانہ سے جام وسبو نوش کیا رضوی امجدی درسگاہ سے جہان علم وادب کا سفر کیا اور پھر مبارک پو میں مستقل قیام فرمایا اپنے مرشد برحق شیخ المشائخ پروردہ سہ محبوباں سیدنا علی حسین اشرفی میاں علیہ الرحمہ کے قائم کردہ ادارہ مدرسہ اشرفیہ سے تدریس کا آغاز فرمایا اور پھر ایک جامعہ اسلامک یونیورسٹی کے تصور میں آبلہ پائی کی اور مسلسل جد وجہد کے بعد ایک طویل آراضی فراہم ہوئی تصور کو تصدیق کے پیکر میں ملبوس فرمانے کی غرض سے خلوص اور نیک نیتی سے لگے رہے یہاں تک ایک دن ایسا آیا حضور اشرفی میاں حضور مفتی اعظم ہند دیگر اکابر اہلسنت کے ہاتھوں مجوزہ یونیورسٹی جامعہ اشرفیہ کا سنگ بنیاد رکھا اور مدرسہ اشرفیہ مدرسہ سے جامعہ ہوگیا مدرسہ سے جامعہ کے اس سفر میں حضور حافظ ملت کی قربانیاں جانفشانیان کس درجہ رہی ہیں وہ ارباب علم ودانش صاحبان فکر ونظر پر عیاں ہیں اور اور جامعہ اشرفیہ کی اینٹ پتھر بام و در وہاں سے استفادہ کرنے والے اکابر علما کی ایک بڑی جماعت اس پر شاہد ہیں، جب ہم حضور حافظ ملت کی زندگی پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو تاریخ ہمیں پکار پکار کر کہتی ہے کہ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ خدمت خلق کے لیے وقف تھا ان کی حیات خشیت الٰہی اور اتباع نبوی ﷺ کا پیکر تھی انہوں نے اپنے علمی کارناموں اور روحانیت کے ذریعے لاتعداد لوگوں کو ایمان وعقیدے زندگی فراہم کی ہیں جہاں انہوں نے دین حق کی تبلیغ واشاعت میں وعظ و نصیحت اور مناظرے کیے اور ایک عظیم درسگاہ میں بیٹھ کر افراد سازی فرمائی ہے محدث مناظر متکلم مفسر فقیہ مصنف پیدا کیے ہیں وہیں ان کے نوک قلم سے درجنوں کتابیں منصہ شہود پر آئیں الفاظ و معنی کے جواہرات نمودار ہوئے غور کریں تو اس قدر مصروف زندگی کے باوجود تصنیف تالیف کی دنیا میں بھی آپ کی نظیر بہت کم ملتی ہے، حالانکہ تصنیف وتالیف کا میدان اتنا پرکٹھن ہے جو ذہنی یکسوئی فکری ہم آہنگی کا متقاضی ہوتا ہے گویا کہ اس راہ میں قدم رکھنا سب کے بس کی بات نہیں، خود حضور حافظ ملت فرماتے ہیں تقریر سب سے آسان ہے اس سے مشکل تدریس اور سب سے مشکل تصنیف (حضور حافظ ملت کے اقوال ذریں، علامہ نعمانی صاحب قبلہ) اب دیکھیں حافظ ملت کی زندگی میں تقریر تدریس اور تصنیف یہ عناصرثلاثہ اپنی نمایاں شان وشوکت کے ساتھ جلوہ بار ہیں، تصنیف کے حوالے سے دیکھیں تو انہوں بروقت المصباح الجدید تحریر فرماکر ایوان باطل میں زلزلہ برپا کر دیا اور نام نہاد نقاب پوش شہد دکھائے زہر پلائے کے مترادف کردار رکھنے والے مولویوں کے عقائد باطلہ کی تردید فرماکر ان کے فریب سے قوم کو بچایا وہیں جب مخالفین مبتدعین نے مقامع الحدید نامی کتاب لکھی تو تو اس کے جواب میں آپ نے اپنے شاہکار قلم سے برق بار کتاب العذاب الشديد تحریر فرمائی جس کو پڑھ کر مخالفین میں سکتہ طاری ہوگیا اور ان کے پیشوا مبہوت ہوکر رہ گیے، حافظ ملت کی تحریر کردہ ”ارشاد القران“ معارف حدیث“ فرقہ ناجیہ“ انباء الغیب وغیرہم یہ کتابیں اپنی مثال آپ ہیں، یہ کتابیں جہاں غداران مصطفیٰ ﷺ کے لیے شمشیر براں ہیں وہیں اپنوں کے لیے بے حد مفید وکار آمد ہیں، (ضروری نوٹ) جامعہ اشرفیہ کے فارغین میں وہ حضرات جو آج بدعقیدوں بدمذہبوں کی حمایت میں جھنڈا اٹھائے پھر رہے ہیں ان کو چاہئیے حافظ ملت کی مندرجہ بالا کتب کو اپنے سامنے رکھیں اور کم از کم ان کے مشن ان کی تعلیمات سے اعراض اور انحراف تو نہ کریں ان کی تصانیف میں کوئی ابہام نہیں ہے انہوں نے حق وباطل واضح کرکے رکھ دیا ہے ہاں اگر ان کے مشن سے مخالفت ہی کرنی ہے تو خدارا اپنے ناموں کے ساتھ مصباحی کا لاحقہ لگاکر عوام اہلسنت کو دھوکہ نہ دیں کھل کر اپنی شناخت کے ساتھ میدان میں آئیں تاکہ واضح ہو جائے حافظ ملت اور موجودہ لبرل جدید خیالات کے محققین میں کوئی تناسب نہیں ہے خیر یہ بات ضمناً آگئی، ﷲ تعالیٰ ہمیں خیر پر استقامت دے۔ بات چل رہی تھی حافظ ملت کی تصانیف الحمد للّٰہ آج ان کے فتاویٰ کا مجموعہ فتاویٰ عزیزیہ کی شکل میں موجود ہے جو شائقین عوام وخواص ہردو کے لیے مفید ہے حافظ ملت کا سب سے بڑا کارنامہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور یقیناً اہلسنت وجماعت کے چند ممتاز ترین اداروں میں سے ایک ہے اور یہ پوری جماعت پر احسان ہے کہ انہوں نے ایسا دینی قلعہ تعمیر فرمایا کہ آج وہاں کے فارغین دنیا بھر میں دینی ملی تعمیری کارنامے انجام دے رہے ہیں قارئین! حافظ ملت علیہ الرحمہ کو آپ جس زاویے سے مطالعہ کرینگے وہ ہر زاوئیے سے کامیاب نظر آتے ہیں گویا جدھر چل دیے کارواں بنتا چلا گیا، حافظ ملت تو ہے ہی ہیں سچ تو یہ ہے کہ ان کے سنوارے ہوئے تربیت یافتہ مخلص اور مشاہیر تلامذہ کی حیات اور کارنامے بھی ہمارے لیے نشان راہ ہیں مثلاً علامہ حافط عبدالروف بلیاوی علامہ سید مجتبیٰ اشرف کچھوچھوی علامہ سید حامد اشرف کچھوچھوی مفتی شریف الحق امجدی علامہ ارشد القادری علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی علامہ بدر القادری وغیرھم رحمۃ ﷲ علیہم اجمعین یہ وہ شخصیات ہیں جو پوری زندگی پرچم حق بلند کرنے میں کوشاں رہے اور خدمت خلق کرتے کرتے جاں بحق ہوگیے اور عصر میں دیکھیں تو شیخ الاسلام علامہ سید مدنی میاں صدر العلماء علامہ احمدمصباحی محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ گھوسی علامہ عبدالشکور گیاوی علامہ عبدالمبین نعمانی مفتی نظام الدین رضوی علامہ یٰسین اختر مصباحی علامہ قمرالزماں خان اعظمی وغیرہم (حضورحافظ ملت کے مشن اور اعتقادری نظریاتی مسلک اہلسنت وجماعت جس کی تعبیر مسلک اعلیٰ سے بھی کرتے ہیں) حافظ ملت کے پروردہ مندرجہ تمام علماء ومشائخ پوری قوت و توانائی کے ساتھ اس پر قائم قائل اور عامل ہیں اور مخلوق خدا کو درس دینے میں لگے ہیں عالم کو تابندگی بخش رہے ہیں، ان بزرگوں کے قائم رہتے ہوئے موجودہ دور کے چند نو فارغ جواں سال علماء کا ان کے مسلک اور مشن سے انحراف میں پوری طاقت صرف کرنا قابل غور ہے،نہیں معلوم ہماری مقدس جماعت کو کس کی نظر لگ گئی ﷲ پوری جماعت پر کرم فرمائے خیر حافظ ملت کے منفرد المثال کارناموں سے عالم فیضیاب ہوا اور عالم میں بسنے والے لوگ ہمیشہ فیضیاب ہوتے رہنگے جو جلوے ان کی ظاہری زندگی میں دیکھے جارہے تھے وہ آج بھی دیکھے جارہے ہیں اور ان شاء ﷲ آگے بھی دیکھے جاتے رہینگے، نیازمند <strong>صابررضامحب القادری نعیمی غفرلہ</strong> <h5 class="entry-title"><a href="https://masailworld.com/jamia-ashrafia/" rel="bookmark">اعزاز کی پوشاک ، تری خاک / جامعہ اشرفیہ مبارک پور</a></h5> <h5 class="entry-title"><a href="https://masailworld.com/huzoor-hafiz-e-millat-alaihirrahmah/" rel="bookmark">حافظ ملت: خدمات، اثرات اور علمی فتوحات از قلم : مفتی محمد توفیق احسن برکاتی مصباحی</a></h5>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...