Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1955
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10.1K Views
مصلی کو لپیٹنا یا موڑنا کیسا؟ / چوسر گیم کھیلنا کیسا؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
مصلی کو لپیٹنا یا موڑنا کیسا؟ / چوسر گیم کھیلنا کیسا؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
مصلی کو لپیٹنا یا موڑنا کیسا؟ / چوسر گیم کھیلنا کیسا؟
١.مصلی کو لپیٹنا یا موڑنا کیسا؟ ٢.چوسر گیم کھیلنا کیسا؟ ٣.جو نماز میں بایاں پیر نکال کر بیٹھتا ہو اور قرأت بھی غلط کرتا ہو اس کی امامت کیسی؟ مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ (١) جس مصلیٰ پر امامت کی جاتی ہے اسے امامت کرنے کے بعد سمیٹ سکتے ہیں یا اس کا کونا موڑ سکتے ہیں یانہیں زید عالم دین کا کہنا ہیکہ اسے نمازکے بعد نہیں سمیٹ سکتے یہ جاٸز نہیں ہے۔ (٢) چوسر گیم کھیلنا کیسا کھیلنے والے کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا نماز ہوگی یانہیں ؟ (٣) جو امام نماز میں بایاں پیر نکال کر بیٹھتا ہو اور قرأت بھی صحیح نہ کرتا ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ؟ المستفتی محمد سلیم مقام بڑہر گھاٹ سدھارتھ نگر یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب (١) صورت مسئولہ میں دونوں باتیں جائز ہیں، ہاں پورا لپیٹ دینا بہتر ہے اور زید کی بات غلط ہے اسے اپنی بات سے رجوع کرنا چاہئے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: “ابن ابی الدنیا نے قیس ابن ابی حازم سے روایت کی:قال ما من فراش یکون مفروشا لاینام علیہ احد الا نام علیہ الشیطان (فرمایا جہاں کوئی بچھونا بچھا ہو جس پر کوئی سوتا نہ ہو اس پر شیطان سوتا ہے۔) ان احادیث سے اس کی (یعنی مصلے کا کونا لپیٹنے کی) اصل نکل سکتی ہے اور پورا لپیٹ دینا بہتر ہے۔اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج٦، ص٢٠٦، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلوٰۃ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: “نماز پڑھنے کے بعد مصلیٰ لپیٹ کر رکھ دیتے ہیں، یہ اچھی بات ہے کہ اس میں زیادہ احتیاط ہے، مگر بعض لوگ جاے نماز کا صرف کونہ الٹ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسا نہ کرنے سے اس پر شیطان نماز پڑھنے لگے گا یہ بے اصل ہے” اھ (بہار شریعت حصہ١٦، ج٣، ص٤٩٩، آداب مسجد و قبلہ، مکتبۃ المدینہ کراچی) فتاوی بحر العلوم میں ہے: “مصلے کا کونہ موڑنا نہ گناہ ہے اور نہ ناجائز”اھ (ج١، ص٣٦٨، امامت کا بیان، شبیر برادرز لاہور پاکستان) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ (٢) چوسر کھیلنا حرام ہے جو اعلانیہ کھیلے فاسق معلن ہے کہ اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی پڑھ لی تو پھیرنی واجب ہے۔ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے: “قوله بالنرد…وهو حرام مسقط للعدالة بالاجماع ” اھ ملخصاً (رد المحتار علی الدر المختار، ج٩، ص٥٦٥، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبرا وغیرہ، مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض) اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: “چوسر بالاجماع حرام وموجب فسق ورد شہادت ہے” اھ (فتاوی رضویہ جدید ، ج٢٤، ص٧٧، کتاب الحظر والاباحۃ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) آپ ہی تحریر فرماتے ہیں: “فاسق کے پیچھے نماز ناقص ومکروہ اگر پڑھ لی تو پھیری جائے اگرچہ مدت گزرچکی ہو و لہذا اسے ہر گز امام نہ کیا جائے ” اھ (فتاوی رضویہ جدید ج٦ ص٣٩٠ ، باب الامامة ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ (٣) نماز میں بایاں پیر نکال کر بیٹھنا بلاعذر ہو تو مکروہ تنزیہی ہے کہ خلاف سنت ہے اور قرأت میں اگر ایسی غلطی کرتا ہو جس سے معنی فاسد ہوجاتا ہو تو نہ اس کی اپنی نماز ہوتی ہے اور نہ اس کے پیچھے کسی اور کی اور فساد معنی نہ ہو تو کچھ حرج نہیں۔ بہار شریعت میں سنن نماز کے بیان میں ہے: “دوسری رکعت کے سجدوں سے فارغ ہونے کے بعد بایاں پاؤں بچھا کر دونوں سرین اس پر رکھ کر بیٹھنا” اھ (حصہ سوم، ص٥٣٠، مکتبۃ المدینہ کراچی) اسی میں “وضو میں مکروہات” کے بیان میں ہے: “ہر سنت کا ترک مکروہ ہے” اھ (بہار شریعت حصہ٢، ص٣٠١، ج١، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) نیز اسی میں “قرأت میں غلطی ہوجانے کا بیان” میں ہے: “اس باب میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر ایسی غلطی ہوئی جس سے معنی بگڑ گئے نماز فاسد ہوگئی ورنہ نہیں” اھ (بہار شریعت حصہ٣، ص٥٥٤، مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
Kutubahu & Verified by:
<h3>مصلی کو لپیٹنا یا موڑنا کیسا؟ / چوسر گیم کھیلنا کیسا؟</h3> ١.مصلی کو لپیٹنا یا موڑنا کیسا؟ ٢.چوسر گیم کھیلنا کیسا؟ ٣.جو نماز میں بایاں پیر نکال کر بیٹھتا ہو اور قرأت بھی غلط کرتا ہو اس کی امامت کیسی؟ مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ (١) جس مصلیٰ پر امامت کی جاتی ہے اسے امامت کرنے کے بعد سمیٹ سکتے ہیں یا اس کا کونا موڑ سکتے ہیں یانہیں زید عالم دین کا کہنا ہیکہ اسے نمازکے بعد نہیں سمیٹ سکتے یہ جاٸز نہیں ہے۔ (٢) چوسر گیم کھیلنا کیسا کھیلنے والے کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا نماز ہوگی یانہیں ؟ (٣) جو امام نماز میں بایاں پیر نکال کر بیٹھتا ہو اور قرأت بھی صحیح نہ کرتا ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ؟ المستفتی محمد سلیم مقام بڑہر گھاٹ سدھارتھ نگر یوپی انڈیا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> (١) صورت مسئولہ میں دونوں باتیں جائز ہیں، ہاں پورا لپیٹ دینا بہتر ہے اور زید کی بات غلط ہے اسے اپنی بات سے رجوع کرنا چاہئے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: "ابن ابی الدنیا نے قیس ابن ابی حازم سے روایت کی:قال ما من فراش یکون مفروشا لاینام علیہ احد الا نام علیہ الشیطان (فرمایا جہاں کوئی بچھونا بچھا ہو جس پر کوئی سوتا نہ ہو اس پر شیطان سوتا ہے۔) ان احادیث سے اس کی (یعنی مصلے کا کونا لپیٹنے کی) اصل نکل سکتی ہے اور پورا لپیٹ دینا بہتر ہے۔اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج٦، ص٢٠٦، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلوٰۃ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: "نماز پڑھنے کے بعد مصلیٰ لپیٹ کر رکھ دیتے ہیں، یہ اچھی بات ہے کہ اس میں زیادہ احتیاط ہے، مگر بعض لوگ جاے نماز کا صرف کونہ الٹ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسا نہ کرنے سے اس پر شیطان نماز پڑھنے لگے گا یہ بے اصل ہے" اھ (بہار شریعت حصہ١٦، ج٣، ص٤٩٩، آداب مسجد و قبلہ، مکتبۃ المدینہ کراچی) فتاوی بحر العلوم میں ہے: "مصلے کا کونہ موڑنا نہ گناہ ہے اور نہ ناجائز"اھ (ج١، ص٣٦٨، امامت کا بیان، شبیر برادرز لاہور پاکستان) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ (٢) چوسر کھیلنا حرام ہے جو اعلانیہ کھیلے فاسق معلن ہے کہ اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی پڑھ لی تو پھیرنی واجب ہے۔ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے: "قوله بالنرد...وهو حرام مسقط للعدالة بالاجماع " اھ ملخصاً (رد المحتار علی الدر المختار، ج٩، ص٥٦٥، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبرا وغیرہ، مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض) اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: "چوسر بالاجماع حرام وموجب فسق ورد شہادت ہے" اھ (فتاوی رضویہ جدید ، ج٢٤، ص٧٧، کتاب الحظر والاباحۃ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) آپ ہی تحریر فرماتے ہیں: "فاسق کے پیچھے نماز ناقص ومکروہ اگر پڑھ لی تو پھیری جائے اگرچہ مدت گزرچکی ہو و لہذا اسے ہر گز امام نہ کیا جائے " اھ (فتاوی رضویہ جدید ج٦ ص٣٩٠ ، باب الامامة ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ (٣) نماز میں بایاں پیر نکال کر بیٹھنا بلاعذر ہو تو مکروہ تنزیہی ہے کہ خلاف سنت ہے اور قرأت میں اگر ایسی غلطی کرتا ہو جس سے معنی فاسد ہوجاتا ہو تو نہ اس کی اپنی نماز ہوتی ہے اور نہ اس کے پیچھے کسی اور کی اور فساد معنی نہ ہو تو کچھ حرج نہیں۔ بہار شریعت میں سنن نماز کے بیان میں ہے: "دوسری رکعت کے سجدوں سے فارغ ہونے کے بعد بایاں پاؤں بچھا کر دونوں سرین اس پر رکھ کر بیٹھنا" اھ (حصہ سوم، ص٥٣٠، مکتبۃ المدینہ کراچی) اسی میں "وضو میں مکروہات" کے بیان میں ہے: "ہر سنت کا ترک مکروہ ہے" اھ (بہار شریعت حصہ٢، ص٣٠١، ج١، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) نیز اسی میں "قرأت میں غلطی ہوجانے کا بیان" میں ہے: "اس باب میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر ایسی غلطی ہوئی جس سے معنی بگڑ گئے نماز فاسد ہوگئی ورنہ نہیں" اھ (بہار شریعت حصہ٣، ص٥٥٤، مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ <strong>کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔</strong> <strong>صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...