Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1957 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.4K Views

حافظ ملت علم و حقائق کی قندیل از: محمد ساجد اختر مبارک پور

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

حافظ ملت علم و حقائق کی قندیل از: محمد ساجد اختر مبارک پور

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

Hafiz e Millat Ilm O Haqaiq Ki Qindeel

از: محمد ساجد اختر مبارک پور یہ کون اٹھا ہند شمالی کی زمین سے علم اور حقائق کی سنبھالے ہوئے قندیل فرش گیتی پر وقفے وقفے سے ہمت اور حوصلہ نہ ہارنے والا مرد مومن پیدا ہوتا ہے، جس کا دل عشق مصطفے سے مزین اور سینہ باری تعالٰی کے نور سے روشن ہوتا ہے، وہ اپنے علم و عمل سے قرب و جوار کا نقشہ بدل دیتا ہے،اس کی صحبت باعث رحمت ہوتی ہے، وہ اپنے فیض یافتگان کے اندر مقصد اصلی کی تڑپ پیدا کرتا ہے اور بے حس دلوں کو سوز یقیں فراہم کرتا ہے ،وہ موت سے بے خوف ہوتا ہے ایسا لگتا ہے کہ اس کی زندگی موت کی دست رس سے باہر ہے وہ طبیعت پر شریعت کو ترجیح دیتا ہے اور زہد و تقوی کے ایسے مقام پر فائز ہوتا ہے کہ سنن و فرائض تو کجا تہجدو اشراق بھی قضا نہیں ہونے دیتا، وہ اپنے عزم پیہم اور یقین محکم سے زوال پذیر قوم کو ارتقائی منازل کی طرف ایسے رواں دواں کرتا ہے جیسے اس کے ہاتھ میں جادوئی چھڑی ہو، اس کا سینہ لا تخف کا مدینہ ہو تا ہے، جو صرف خالق سے ڈرتا ہے اور مخلوق خدا سے نڈر ہوتا ہے ،وہ دنیا میں رہتا تو ہے مگر دنیا کو دل میں نہیں رکھتا بلکہ اپنی مٹھی میں رکھ کر آب و گل کی قید و بند سے آزاد ہوتا ہے اور براہ راست خالق کائنات سے تصور باندھتا ہے۔حضرت صدرالشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی گھوسوی علیہ الرحمہ کی درس گاہ کا تراشا ہوا ایک ہیرا چمکتا ہے اور اپنی روشنی سے ملک و بیرون ملک کے اطراف و اکناف کو منورو تاباں کر دیتا ہے،جسے دنیا استادالعلماء جلالۃ العلم حافظ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مرادابادی کے نام سے جانتی ہے۔ حضرت دین وسنیت کے عظیم جوہر تھے عوام انھیں ”حافظ صاحب“ کے نام سے موسوم کرتےہیں مگر اہل علم آپ کو حافظ ملت، قائد ملت ، معمار قوم، شیخ الحدیث،فقیہ بے بدل،شہریارعلم وحکمت، مطلع فکر و نظر، پیکرِاخلاص،بادشاہ عجز و انکسار جیسے موقر القاب و اوصاف سے یاد کرتے ہیں۔

ابتدائی تعلیم

ابتدائی تعلیم قصبہ بھوج پور کے ایک اسکول میں ہوئی اس کے بعد جامعہ نعیمیہ مرادآبادمیں داخلہ لیا اورتین سال تک تعلیم حاصل کی، مگر اب علم کی تشنگی شدت اختیار کرچکی تھی جسے بجھانے کے لیے کسی چشمہ علم کی تلاش تھی نگاہ کسی مشفق اور متبحر استاد کی متلاشی تھی بالآخر نظر انتخاب صدرالشریعہ بدرالطریقہ صاحب بہار شریعت علامہ شاہ محمد امجد علی اعظمی جاکر مرکوز ہوگئی اور ان ہی کی سرپرستی میں تمام علوم و فنون کی تکمیل کی۔ فراغت کے بعد بحکم صدرالشریعہ رحمة اللہ علیہ مبارک پور تشریف لائےاور طالبان علوم نبویہ کو سیراب کرتے رہے، دیکھتے ہی دیکھتے اکناف عالم میں علمی جلالت کا ڈنکا بجنے لگا، انداز تدریس عام علما سے بالکل مختلف تھا اپنے تو اپنے غیر بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، دور دور سے علم کے متلاشی حضرت کے حلقہ درس میں شامل ہوکر علم کی تشنگی بجھانے لگے۔ حضور حافظ ملت علم در سینہ کے مظہر کامل تھے اس وصف کا جلوہ ان کی تقریر،تحریر،تدریس اور مناظرہ کے میدانوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ حافظ ملت کی تدریس کا ابتدائی دور وہ تھا جب درس نظامی کی اہم کتابوں کی شروحات کی فراوانی نہیں تھی بس ایک سرسری مطالعہ سے درس نظامی کی اہم کتابوں کا پڑھانا حافظ ملت کا علم در سینہ تھا جو صدرالشریعہ رحمة اللہ علیہ سے حاصل کیا اسے سینہ میں محفوظ کرلیا۔(ملخص از:معارف حافظ ملت ص 23) آپ اتنے زبردست معلم تھے کہ علمی باریکیوں کو بہت ہی کم وقت میں اپنے تلامذہ میں منتقل فرمادیا کرتے تھے۔ حضرت حافظ ملت علیہ الرحمہ کو قلم کی قوت بھی حاصل تھی تصنیف کی زبردست صلاحیت کے مالک تھے ارشاد القران، معارف حدیث اور العذاب الشدید وغیرہ اس کے بین ثبوت ہیں، لیکن ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ بات آئے کہ حضرت نے اپنی تصنیفی یادگاریں کیوں نہیں چھوڑیں تو اس کا جواب خود حضرت کی زبانی سنیے،فرماتے ہیں بفضلہ تعالی تصنیفی صلاحیت مجھے ضرور ملی اور قلم کی قوت بھی۔ (حافظ ملت افکار اور کارنامے ص 16 از:مولانا عبدالغفار مصباحی اعظمی) ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ فن منطق کی بہت ہی ادق اور اہم ترین کتاب قاضی مبارک کا درس آپ کے یہاں ہورہا تھا حسب معمول تعلیم دی، پھر کتاب بند کردی ایک صاحب نے اپنے ساتھی سے اشارہ میں کہا کہ مطالعہ ختم ہوگیا ہے حضرت نے محسوس فرمالیا ،کتاب کھول دی، عبارت پڑھنے کا حکم دیا پھر اسی عظمت و احتشام اور شان و شوکت سے درس دیا اب طلبہ نے کتاب بند کرنا چاہا، فرمایا اور پڑھومگر اب وہ بے چارے حیرت زدہ بیٹھے ہیں پھر حضرت نے فرمایا عبدالعزیز کو قاضی پڑھانے کے لیے مطالعہ کی ضرورت نہیں، بفضلہ تعالی ایک نشست میں پوری قاضی پڑھا سکتا ہوں۔(حافظ ملت افکار اور کارنامےص 55 مولانا شمس الہدی مصباحی) گویا کہ حافظ ملت صوفی باصفا حضرت امام غزالی رحمة اللہ علیہ کے ارشاد ”المنطق معیار العلم“ کی عملی تعبیر تھے جس کا اثر آج بھی ان کے تلامذہ میں موجود ہے۔ معقولات و منقولات میں آپ کو نہ صرف دستگاہ کامل حاصل تھی بلکہ دقیق سے دقیق مسئلہ طلبہ کے ذہن میں اتار دیتے تھے، اس لیے حضرت کے تلامذہ میں ان کی علمی جلالت آج بھی نظر آتی ہے، چناں چہ 1380ھ میں علامہ قاضی شمس الدین جونپوری علیہ الرحمہ دارالعلوم اشرفیہ کے سالانہ امتحان میں ممتحن کی حیثیت سے تشریف لائے انھوں نے قاضی مبارک کا امتحان لیا تو رزلٹ بک پر یہ تحریر لکھی کہ ایسے طالب علم مجھے پچیس سال بعد ملے حضور حافظ ملت نے تحریر دیکھی توقاضی صاحب سے فرمایا حضرت میں نے پچیس ہی سال بعد قاضی پڑھائی بھی ہے۔(حافظ ملت نمبر ص38) شمس العلماعلامہ نظام الدین الہ بادی لکھتے ہیں کہ حافظ ملت یوں تو علوم مروجہ کی تمام کتابوں پر قابو یافتہ ہیں مگر فن تفسیر اور حدیث میں ان کو کاملیت حاصل ہے۔(حافظ ملت نمبر ص 38) شارح بخاری رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں ک سورہ نور کی آیت کریمہ ”اللہ نور السموات والارض“ کا سبق تھا آیت کریمہ کے ظاہر مفہوم پر بادی النظر میں بہت سے اعتراضات پڑتے ہیں مولوی عثمان کے نقاد ذہن نے اس پر سولہ شبہات تیار کیے ان کا بیان ہے کہ میں نے اس رات سواے جلالین کے کسی اور کتاب کا مطالعہ نہیں کیا ان شبہات کو اچھی طرح ذہن میں بٹھایا ان کے جو جوابات ان کی سمجھ میں آئے ان پر بھی غور کیا جب سبق پڑھنے بیٹھے تو اس دن عبارت نہیں پڑھی جتنی دیر عبارت خوانی اور ترجمہ ہوتا رہا اتنی دیر وہ انھیں شبہات پر غور کرتے رہے۔ ترجمے کے بعد حافظ ملت نے تقریر کی تو دم بخود ہوکر سنتے رہے پینتالیس منٹ تک حافظ ملت تقریر کرتے رہے یہ ہمہ تن گوش مہر بر لب سنتے رہے جب تقریر پوری ہوگئی تو حا فظ ملت نے مولوی عثمان سے پوچھا کیا بات ہے عثمان! بالکل خاموش ہو، آج کچھ نہیں بولے؟ انھوں نے عرض کیا: آج تو سولہ شبہات تھے اور ان سب کو پیش کرنے کی پوری تیاری کرکے آیا تھا مگر حضور نے ایسی تقریر کی کہ وہ سب شبہات کافور ہوگئے میں کیا پوچھتا۔(حافط ملت نمبر ص 165) ”الذین یومنون بالغیب“ کی تفسیر میں یومنون کی تفسیر یصدقون سے کرکے بتایا کہ صحیح یہی ہے کہ ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے۔(ملفوظات حافظ ملت ص 28 مرتب:اختر حسین فیضی مصباحی) تدریس کا یہ اندازحضرت کے عالم ہی نہیں بلکہ ولی کامل ہونے کی دلیل ہے،حضور حافظ ملت کو فن تفسیر میں مہارت حاصل تھی جبھی تو ایک موقعے پر فرماتے ہیں کہ قرآن کی کوئی بھی آیت ہو میں اس سے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف بیان کرسکتا ہوں۔ دوران درس ایسے ایسے نکات پیش کرتے کہ ایمان تازہ ہوجاتاان کا ایک خاص وصف یہ تھا کہ درس تفسیر کے دوران جہاں علماےمفسرین سے بتقاضاے بشری لغزش ہوئی ہے وہاں تنبیہ بھی فرماتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ تلامذہ کو اس فن میں پختگی آجاتی تھی۔ علم حدیث میں بھی آپ درجۂ کمال حاصل تھا ،اخیر عمر تک اشرفیہ کے شیخ الحدیث رہے،بخاری شریف مکمل ختم کراتے تھے ،ماہنامہ”پاسبان“جو الہ باد سے علامہ مشتاق احمد نظامی صاحب کی ادارت میں نکلتا تھا،اس کا ایک کالم تھا ”معارف حدیث“یہ کالم حضرت حافظ ملت علیہ الرحمہ کے لیے خاص تھا،حضرت اس میں مسلسل لکھتے تھے ،الگ سے ”معارف حدیث“کے نام سے کتابی شکل میں بھی مطبوع ہے۔ بحرالعلوم مفتی عبدالمنان علیہ الرحمہ سابق شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ فرماتے ہیں کہ ان کو پہچاننے والوں نے پہچانا اور بہتوں نے نہیں پہچانا میں تو یہی کہوں گا کہ حافظ ملت کو اگر آپ نے صرف ایک عالم جانا ہے، تو میں نے ان کو ایک عارف باللہ اور ولی کامل جانا ہے آپ نے اگر ان کو ایک محدث جانا ہے تو میں نے ان کو سندالمحدثین جاناہے۔(حافظ ملت:از مولانا محمد احمدمصباحی مبارک پوری ص 80) مبارک پور کے غیر اہل سنت کو حافظ ملت کا علمی فروغ اور مدرسہ کی ترقی یک چشم نہ بھائی چناں چہ انھوں نے جلسے اور تقریروں کے انداز میں تخریب کاری شروع کی جس کے نتیجہ میں ایک خاصہ علمی پیکار چھڑ گیا ان شر پسندوں سے مسلمانوں کے ایمان کی پونجی بچانے کے لئے حافظ ملت کو سوا چار ماہ متواتر مقابلہ کرنا پڑا اس مذہبی کشمکش میں آپ کا علمی جوہر سورج کی طرح اجاگر ہوگیا اور اہل مبارک پور نے جان لیا کہ رحمت الہی نے حافظ ملت کی شکل میں ہمیں سچا رہنما اور مخلص قائد عطا فرمایا ہے۔ (اشرفیہ کا ماضی اور حال ص۶۔۷۔۸) حافظ ملت کا نظریہ تعلیم یہ تھا کہ ہمارے بچے دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم کی طرف بھی توجہ دیں تاکہ ہمارے افراد صرف مسجد و مکتب یا مدرسے تک محدود نہ رہیں بلکہ خدمت دیں ہمہ گیر پیمانے پر انجام دیں۔ فرماتے ہیں کہ میری تمنّا اور خواہش یہ ہے کہ یہاں (دارالعلوم اشرفیہ) علوم اسلامیہ اور فنون متداولہ کی تعلیم تو ہوگی ہی؛ لیکن یہاں کے فارغ التحصیل علما فضلا عربی زبان و ادب نیز انگلش زبان و ادب میں اتنے اونچے مقام پر فائز ہوجائیں یا اتنی اعلی صلاحیت کے مالک ہوجائیں کہ دینا کے کونے کونے میں دعوت و تبلیغ اور نشر علوم کے فرائض سے سبکدوش ہونے میں کوئی دقت محسوس نہ کریں۔(ملفوظات حافظ ملت ص 53 از اختر حسین فیضی مصباحی)

علم کی اہمیت و افادیت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں

علم کی اہمیت کا مسئلہ ایسا متفق علیہ ہے کہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں جاہل سے جاہل بھی علم کو بڑی اہم اور عظیم دولت سمجھتا ہے دنیا کا علم بھی عزت و اقتدار کا ضامن ہے چہ جاے کہ علم دین یہ وہ دولت عظمی اور عظمت کبری ہے جو انسان کو اشرف المخلوقات اور ممتاز کائنات بناتی ہے مگر علم پر عامل ہونا شرط ہے۔(ملفوظات حافظ ملت ص ۵۴،۵۵) مختصر کہ آپ کو علوم عقلیہ و نقلیہ میں رسوخ حاصل تھاحدیث،علوم حدیث،فقہ،اصول فقہ،تفسیر،اصول تفسیر،عقائد، کلام،اسماءالرجال،سیرت،تاریخ،لغت،ادب،معانی،بدیع،صرف و نحو،ہیئت،فلسفہ،منطق اورمناظرہ جیسے علوم میں مہارت حاصل تھی حافظ ملت جیسی شخصیت شازو نادر ہی فرش گیتی پر نظر آتی ہے، آپ زہدو تقوی عبادت و ریاضت ایثارو قربانی اور خصائص عالیہ کے سبب مقام ولایت پر فائز ہیں حافظ ملت اس باکمال اور انمول ہیرے کا نام ہے جس کے لیے اقبال نے کیا خوب کہا ہے: ہزاروں ں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

Kutubahu & Verified by:

<h3 style="text-align: center;">Hafiz e Millat Ilm O Haqaiq Ki Qindeel</h3> از: محمد ساجد اختر مبارک پور یہ کون اٹھا ہند شمالی کی زمین سے علم اور حقائق کی سنبھالے ہوئے قندیل فرش گیتی پر وقفے وقفے سے ہمت اور حوصلہ نہ ہارنے والا مرد مومن پیدا ہوتا ہے، جس کا دل عشق مصطفے سے مزین اور سینہ باری تعالٰی کے نور سے روشن ہوتا ہے، وہ اپنے علم و عمل سے قرب و جوار کا نقشہ بدل دیتا ہے،اس کی صحبت باعث رحمت ہوتی ہے، وہ اپنے فیض یافتگان کے اندر مقصد اصلی کی تڑپ پیدا کرتا ہے اور بے حس دلوں کو سوز یقیں فراہم کرتا ہے ،وہ موت سے بے خوف ہوتا ہے ایسا لگتا ہے کہ اس کی زندگی موت کی دست رس سے باہر ہے وہ طبیعت پر شریعت کو ترجیح دیتا ہے اور زہد و تقوی کے ایسے مقام پر فائز ہوتا ہے کہ سنن و فرائض تو کجا تہجدو اشراق بھی قضا نہیں ہونے دیتا، وہ اپنے عزم پیہم اور یقین محکم سے زوال پذیر قوم کو ارتقائی منازل کی طرف ایسے رواں دواں کرتا ہے جیسے اس کے ہاتھ میں جادوئی چھڑی ہو، اس کا سینہ لا تخف کا مدینہ ہو تا ہے، جو صرف خالق سے ڈرتا ہے اور مخلوق خدا سے نڈر ہوتا ہے ،وہ دنیا میں رہتا تو ہے مگر دنیا کو دل میں نہیں رکھتا بلکہ اپنی مٹھی میں رکھ کر آب و گل کی قید و بند سے آزاد ہوتا ہے اور براہ راست خالق کائنات سے تصور باندھتا ہے۔حضرت صدرالشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی گھوسوی علیہ الرحمہ کی درس گاہ کا تراشا ہوا ایک ہیرا چمکتا ہے اور اپنی روشنی سے ملک و بیرون ملک کے اطراف و اکناف کو منورو تاباں کر دیتا ہے،جسے دنیا استادالعلماء جلالۃ العلم حافظ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مرادابادی کے نام سے جانتی ہے۔ حضرت دین وسنیت کے عظیم جوہر تھے عوام انھیں ”حافظ صاحب“ کے نام سے موسوم کرتےہیں مگر اہل علم آپ کو حافظ ملت، قائد ملت ، معمار قوم، شیخ الحدیث،فقیہ بے بدل،شہریارعلم وحکمت، مطلع فکر و نظر، پیکرِاخلاص،بادشاہ عجز و انکسار جیسے موقر القاب و اوصاف سے یاد کرتے ہیں۔ <h4>ابتدائی تعلیم</h4> ابتدائی تعلیم قصبہ بھوج پور کے ایک اسکول میں ہوئی اس کے بعد جامعہ نعیمیہ مرادآبادمیں داخلہ لیا اورتین سال تک تعلیم حاصل کی، مگر اب علم کی تشنگی شدت اختیار کرچکی تھی جسے بجھانے کے لیے کسی چشمہ علم کی تلاش تھی نگاہ کسی مشفق اور متبحر استاد کی متلاشی تھی بالآخر نظر انتخاب صدرالشریعہ بدرالطریقہ صاحب بہار شریعت علامہ شاہ محمد امجد علی اعظمی جاکر مرکوز ہوگئی اور ان ہی کی سرپرستی میں تمام علوم و فنون کی تکمیل کی۔ فراغت کے بعد بحکم صدرالشریعہ رحمة اللہ علیہ مبارک پور تشریف لائےاور طالبان علوم نبویہ کو سیراب کرتے رہے، دیکھتے ہی دیکھتے اکناف عالم میں علمی جلالت کا ڈنکا بجنے لگا، انداز تدریس عام علما سے بالکل مختلف تھا اپنے تو اپنے غیر بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، دور دور سے علم کے متلاشی حضرت کے حلقہ درس میں شامل ہوکر علم کی تشنگی بجھانے لگے۔ حضور حافظ ملت علم در سینہ کے مظہر کامل تھے اس وصف کا جلوہ ان کی تقریر،تحریر،تدریس اور مناظرہ کے میدانوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ حافظ ملت کی تدریس کا ابتدائی دور وہ تھا جب درس نظامی کی اہم کتابوں کی شروحات کی فراوانی نہیں تھی بس ایک سرسری مطالعہ سے درس نظامی کی اہم کتابوں کا پڑھانا حافظ ملت کا علم در سینہ تھا جو صدرالشریعہ رحمة اللہ علیہ سے حاصل کیا اسے سینہ میں محفوظ کرلیا۔(ملخص از:معارف حافظ ملت ص 23) آپ اتنے زبردست معلم تھے کہ علمی باریکیوں کو بہت ہی کم وقت میں اپنے تلامذہ میں منتقل فرمادیا کرتے تھے۔ حضرت حافظ ملت علیہ الرحمہ کو قلم کی قوت بھی حاصل تھی تصنیف کی زبردست صلاحیت کے مالک تھے ارشاد القران، معارف حدیث اور العذاب الشدید وغیرہ اس کے بین ثبوت ہیں، لیکن ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ بات آئے کہ حضرت نے اپنی تصنیفی یادگاریں کیوں نہیں چھوڑیں تو اس کا جواب خود حضرت کی زبانی سنیے،فرماتے ہیں بفضلہ تعالی تصنیفی صلاحیت مجھے ضرور ملی اور قلم کی قوت بھی۔ (حافظ ملت افکار اور کارنامے ص 16 از:مولانا عبدالغفار مصباحی اعظمی) ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ فن منطق کی بہت ہی ادق اور اہم ترین کتاب قاضی مبارک کا درس آپ کے یہاں ہورہا تھا حسب معمول تعلیم دی، پھر کتاب بند کردی ایک صاحب نے اپنے ساتھی سے اشارہ میں کہا کہ مطالعہ ختم ہوگیا ہے حضرت نے محسوس فرمالیا ،کتاب کھول دی، عبارت پڑھنے کا حکم دیا پھر اسی عظمت و احتشام اور شان و شوکت سے درس دیا اب طلبہ نے کتاب بند کرنا چاہا، فرمایا اور پڑھومگر اب وہ بے چارے حیرت زدہ بیٹھے ہیں پھر حضرت نے فرمایا عبدالعزیز کو قاضی پڑھانے کے لیے مطالعہ کی ضرورت نہیں، بفضلہ تعالی ایک نشست میں پوری قاضی پڑھا سکتا ہوں۔(حافظ ملت افکار اور کارنامےص 55 مولانا شمس الہدی مصباحی) گویا کہ حافظ ملت صوفی باصفا حضرت امام غزالی رحمة اللہ علیہ کے ارشاد ”المنطق معیار العلم“ کی عملی تعبیر تھے جس کا اثر آج بھی ان کے تلامذہ میں موجود ہے۔ معقولات و منقولات میں آپ کو نہ صرف دستگاہ کامل حاصل تھی بلکہ دقیق سے دقیق مسئلہ طلبہ کے ذہن میں اتار دیتے تھے، اس لیے حضرت کے تلامذہ میں ان کی علمی جلالت آج بھی نظر آتی ہے، چناں چہ 1380ھ میں علامہ قاضی شمس الدین جونپوری علیہ الرحمہ دارالعلوم اشرفیہ کے سالانہ امتحان میں ممتحن کی حیثیت سے تشریف لائے انھوں نے قاضی مبارک کا امتحان لیا تو رزلٹ بک پر یہ تحریر لکھی کہ ایسے طالب علم مجھے پچیس سال بعد ملے حضور حافظ ملت نے تحریر دیکھی توقاضی صاحب سے فرمایا حضرت میں نے پچیس ہی سال بعد قاضی پڑھائی بھی ہے۔(حافظ ملت نمبر ص38) شمس العلماعلامہ نظام الدین الہ بادی لکھتے ہیں کہ حافظ ملت یوں تو علوم مروجہ کی تمام کتابوں پر قابو یافتہ ہیں مگر فن تفسیر اور حدیث میں ان کو کاملیت حاصل ہے۔(حافظ ملت نمبر ص 38) شارح بخاری رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں ک سورہ نور کی آیت کریمہ ”اللہ نور السموات والارض“ کا سبق تھا آیت کریمہ کے ظاہر مفہوم پر بادی النظر میں بہت سے اعتراضات پڑتے ہیں مولوی عثمان کے نقاد ذہن نے اس پر سولہ شبہات تیار کیے ان کا بیان ہے کہ میں نے اس رات سواے جلالین کے کسی اور کتاب کا مطالعہ نہیں کیا ان شبہات کو اچھی طرح ذہن میں بٹھایا ان کے جو جوابات ان کی سمجھ میں آئے ان پر بھی غور کیا جب سبق پڑھنے بیٹھے تو اس دن عبارت نہیں پڑھی جتنی دیر عبارت خوانی اور ترجمہ ہوتا رہا اتنی دیر وہ انھیں شبہات پر غور کرتے رہے۔ ترجمے کے بعد حافظ ملت نے تقریر کی تو دم بخود ہوکر سنتے رہے پینتالیس منٹ تک حافظ ملت تقریر کرتے رہے یہ ہمہ تن گوش مہر بر لب سنتے رہے جب تقریر پوری ہوگئی تو حا فظ ملت نے مولوی عثمان سے پوچھا کیا بات ہے عثمان! بالکل خاموش ہو، آج کچھ نہیں بولے؟ انھوں نے عرض کیا: آج تو سولہ شبہات تھے اور ان سب کو پیش کرنے کی پوری تیاری کرکے آیا تھا مگر حضور نے ایسی تقریر کی کہ وہ سب شبہات کافور ہوگئے میں کیا پوچھتا۔(حافط ملت نمبر ص 165) ”الذین یومنون بالغیب“ کی تفسیر میں یومنون کی تفسیر یصدقون سے کرکے بتایا کہ صحیح یہی ہے کہ ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے۔(ملفوظات حافظ ملت ص 28 مرتب:اختر حسین فیضی مصباحی) تدریس کا یہ اندازحضرت کے عالم ہی نہیں بلکہ ولی کامل ہونے کی دلیل ہے،حضور حافظ ملت کو فن تفسیر میں مہارت حاصل تھی جبھی تو ایک موقعے پر فرماتے ہیں کہ قرآن کی کوئی بھی آیت ہو میں اس سے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف بیان کرسکتا ہوں۔ دوران درس ایسے ایسے نکات پیش کرتے کہ ایمان تازہ ہوجاتاان کا ایک خاص وصف یہ تھا کہ درس تفسیر کے دوران جہاں علماےمفسرین سے بتقاضاے بشری لغزش ہوئی ہے وہاں تنبیہ بھی فرماتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ تلامذہ کو اس فن میں پختگی آجاتی تھی۔ علم حدیث میں بھی آپ درجۂ کمال حاصل تھا ،اخیر عمر تک اشرفیہ کے شیخ الحدیث رہے،بخاری شریف مکمل ختم کراتے تھے ،ماہنامہ”پاسبان“جو الہ باد سے علامہ مشتاق احمد نظامی صاحب کی ادارت میں نکلتا تھا،اس کا ایک کالم تھا ”معارف حدیث“یہ کالم حضرت حافظ ملت علیہ الرحمہ کے لیے خاص تھا،حضرت اس میں مسلسل لکھتے تھے ،الگ سے ”معارف حدیث“کے نام سے کتابی شکل میں بھی مطبوع ہے۔ بحرالعلوم مفتی عبدالمنان علیہ الرحمہ سابق شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ فرماتے ہیں کہ ان کو پہچاننے والوں نے پہچانا اور بہتوں نے نہیں پہچانا میں تو یہی کہوں گا کہ حافظ ملت کو اگر آپ نے صرف ایک عالم جانا ہے، تو میں نے ان کو ایک عارف باللہ اور ولی کامل جانا ہے آپ نے اگر ان کو ایک محدث جانا ہے تو میں نے ان کو سندالمحدثین جاناہے۔(حافظ ملت:از مولانا محمد احمدمصباحی مبارک پوری ص 80) مبارک پور کے غیر اہل سنت کو حافظ ملت کا علمی فروغ اور مدرسہ کی ترقی یک چشم نہ بھائی چناں چہ انھوں نے جلسے اور تقریروں کے انداز میں تخریب کاری شروع کی جس کے نتیجہ میں ایک خاصہ علمی پیکار چھڑ گیا ان شر پسندوں سے مسلمانوں کے ایمان کی پونجی بچانے کے لئے حافظ ملت کو سوا چار ماہ متواتر مقابلہ کرنا پڑا اس مذہبی کشمکش میں آپ کا علمی جوہر سورج کی طرح اجاگر ہوگیا اور اہل مبارک پور نے جان لیا کہ رحمت الہی نے حافظ ملت کی شکل میں ہمیں سچا رہنما اور مخلص قائد عطا فرمایا ہے۔ (اشرفیہ کا ماضی اور حال ص۶۔۷۔۸) حافظ ملت کا نظریہ تعلیم یہ تھا کہ ہمارے بچے دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم کی طرف بھی توجہ دیں تاکہ ہمارے افراد صرف مسجد و مکتب یا مدرسے تک محدود نہ رہیں بلکہ خدمت دیں ہمہ گیر پیمانے پر انجام دیں۔ فرماتے ہیں کہ میری تمنّا اور خواہش یہ ہے کہ یہاں (دارالعلوم اشرفیہ) علوم اسلامیہ اور فنون متداولہ کی تعلیم تو ہوگی ہی؛ لیکن یہاں کے فارغ التحصیل علما فضلا عربی زبان و ادب نیز انگلش زبان و ادب میں اتنے اونچے مقام پر فائز ہوجائیں یا اتنی اعلی صلاحیت کے مالک ہوجائیں کہ دینا کے کونے کونے میں دعوت و تبلیغ اور نشر علوم کے فرائض سے سبکدوش ہونے میں کوئی دقت محسوس نہ کریں۔(ملفوظات حافظ ملت ص 53 از اختر حسین فیضی مصباحی) <h3>علم کی اہمیت و افادیت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں</h3> علم کی اہمیت کا مسئلہ ایسا متفق علیہ ہے کہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں جاہل سے جاہل بھی علم کو بڑی اہم اور عظیم دولت سمجھتا ہے دنیا کا علم بھی عزت و اقتدار کا ضامن ہے چہ جاے کہ علم دین یہ وہ دولت عظمی اور عظمت کبری ہے جو انسان کو اشرف المخلوقات اور ممتاز کائنات بناتی ہے مگر علم پر عامل ہونا شرط ہے۔(ملفوظات حافظ ملت ص ۵۴،۵۵) مختصر کہ آپ کو علوم عقلیہ و نقلیہ میں رسوخ حاصل تھاحدیث،علوم حدیث،فقہ،اصول فقہ،تفسیر،اصول تفسیر،عقائد، کلام،اسماءالرجال،سیرت،تاریخ،لغت،ادب،معانی،بدیع،صرف و نحو،ہیئت،فلسفہ،منطق اورمناظرہ جیسے علوم میں مہارت حاصل تھی حافظ ملت جیسی شخصیت شازو نادر ہی فرش گیتی پر نظر آتی ہے، آپ زہدو تقوی عبادت و ریاضت ایثارو قربانی اور خصائص عالیہ کے سبب مقام ولایت پر فائز ہیں حافظ ملت اس باکمال اور انمول ہیرے کا نام ہے جس کے لیے اقبال نے کیا خوب کہا ہے: ہزاروں ں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...