Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1961 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.1K Views

کمبل یا بستر وغیرہ کو پاک کرنے کا طریقہ / گدا رضائی پاک کرنے کا طریقہ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کمبل یا بستر وغیرہ کو پاک کرنے کا طریقہ / گدا رضائی پاک کرنے کا طریقہ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کمبل یا بستر وغیرہ کو پاک کرنے کا طریقہ

ابورضا محمد عمران عطاری عفی عنہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے متعلق اگر کوئی کمبل یا بستر وغیرہ ناپاک ہو جائے تو اس کو پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے بحوالہ جواب عنایت فرمائیں؟ الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب اگر کوئ کبمل یا بستر وغیرہ ناپاک ہوجائیں تو اس کو اگر نچوڑا جا سکتا ہے تو نچوڑ کر پاک کیا جائےگا، ورنہ بہتے پانی میں رکھ دیں جب نجاست کے ختم ہونے کا ظن غالب ہو جائے تو پاک ہو جائے گا، یا پھر اس کو دھو کر اتنی دیر سوکھنے کے لئے رکھ دیں جتنی دیر میں اس کا پانی خشک ہو جائے پھر دو بارہ ایساہی کریں پھر تیسری بار اس کو دھو کر سوکھنے کے لئے لٹکا دیں جب اس کا پانی ٹپکنا بند ہو جائے تو وہ پاک ہوجائے گا- (امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ جو کپڑے نچوڑ نے میں آسکیں جیسے ہلکی توشک رضائی وغیرہ وہ یوں ہی دھونے سے پاک ہوجائیں گے ورنہ بہتے دریا میں رکھیں یا اُن پر پانی بہائیں یہاں تک کہ نجاست باقی نہ رہنے پر ظن حاصل ہو یا تین بار دھوئیں اور ہر بار اتنا وقفہ کریں کہ پہلا پانی نکل جائے- (فی الدرالمختار، یطھر محل غیر مرئیۃ بغلبۃ ظن غاسل طھارۃ محلھا بلاعدد بہ یفتی وقدر ذلك لموسوس بغسل وعصر ثلثا فیما ینعصر وتثلیث جفاف ای انقطاع تقاطر فی غیرہ ممایتشرب النجاسۃ وھذا کلہ اذاغسل فی اجانۃ اما لوغسل فی غدیر اوصب علیہ ماء کثیرا وجری علیہ الماء طھر مطلقا بلاشرط عصر وتجفیف وتکرار غمس ھو المختار- (یعنی: درمختار میں ہے نجاست نہ دکھائی دینے والی جگہ دھونے والے کے غالب گمان کے ساتھ کہ اب جگہ پاك ہوگئی کسی خاص تعداد کے بغیر بھی پاك ہوجاتی ہے اور اسی پر فتوٰی ہے اگر وسوسہ کرنے والا ہو تو تین بار دھو کر ہر بار نچوڑے جبکہ وہ ایسی چیز ہو جو نچوڑی جاسکتی ہے اگر نچوڑی نہ جاسکتی ہو تین بار خشك کرلیا جائے(یعنی جو نجاست اس کے اندر جذب ہوئی اس کے قطرے ختم ہوجائیں یہ تمام باتیں اس صورت میں ہیں جب ٹب وغیرہ میں دھوئے اگر بڑے تالاب میں دھوئے یا اس پر بہت سا پانی ڈالے یا اس پر پانی جاری کرے تو نچوڑ نے یا خشك کرنے اور بار بار غوطہ دینے کی شرط کے بغیر مطلقًا پاك ہوجائے گی یہی مختار ہے- (درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی جلد1صفحہ56) (بحوالہ فتاویٰ رضویہ شریف جلد4صفحہ557-رضا فاؤنڈیشن لاہور)

Kutubahu & Verified by:

<h3>کمبل یا بستر وغیرہ کو پاک کرنے کا طریقہ</h3> ابورضا محمد عمران عطاری عفی عنہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے متعلق اگر کوئی کمبل یا بستر وغیرہ ناپاک ہو جائے تو اس کو پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے بحوالہ جواب عنایت فرمائیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب</strong></span> اگر کوئ کبمل یا بستر وغیرہ ناپاک ہوجائیں تو اس کو اگر نچوڑا جا سکتا ہے تو نچوڑ کر پاک کیا جائےگا، ورنہ بہتے پانی میں رکھ دیں جب نجاست کے ختم ہونے کا ظن غالب ہو جائے تو پاک ہو جائے گا، یا پھر اس کو دھو کر اتنی دیر سوکھنے کے لئے رکھ دیں جتنی دیر میں اس کا پانی خشک ہو جائے پھر دو بارہ ایساہی کریں پھر تیسری بار اس کو دھو کر سوکھنے کے لئے لٹکا دیں جب اس کا پانی ٹپکنا بند ہو جائے تو وہ پاک ہوجائے گا- (امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ جو کپڑے نچوڑ نے میں آسکیں جیسے ہلکی توشک رضائی وغیرہ وہ یوں ہی دھونے سے پاک ہوجائیں گے ورنہ بہتے دریا میں رکھیں یا اُن پر پانی بہائیں یہاں تک کہ نجاست باقی نہ رہنے پر ظن حاصل ہو یا تین بار دھوئیں اور ہر بار اتنا وقفہ کریں کہ پہلا پانی نکل جائے- (فی الدرالمختار، یطھر محل غیر مرئیۃ بغلبۃ ظن غاسل طھارۃ محلھا بلاعدد بہ یفتی وقدر ذلك لموسوس بغسل وعصر ثلثا فیما ینعصر وتثلیث جفاف ای انقطاع تقاطر فی غیرہ ممایتشرب النجاسۃ وھذا کلہ اذاغسل فی اجانۃ اما لوغسل فی غدیر اوصب علیہ ماء کثیرا وجری علیہ الماء طھر مطلقا بلاشرط عصر وتجفیف وتکرار غمس ھو المختار- (یعنی: درمختار میں ہے نجاست نہ دکھائی دینے والی جگہ دھونے والے کے غالب گمان کے ساتھ کہ اب جگہ پاك ہوگئی کسی خاص تعداد کے بغیر بھی پاك ہوجاتی ہے اور اسی پر فتوٰی ہے اگر وسوسہ کرنے والا ہو تو تین بار دھو کر ہر بار نچوڑے جبکہ وہ ایسی چیز ہو جو نچوڑی جاسکتی ہے اگر نچوڑی نہ جاسکتی ہو تین بار خشك کرلیا جائے(یعنی جو نجاست اس کے اندر جذب ہوئی اس کے قطرے ختم ہوجائیں یہ تمام باتیں اس صورت میں ہیں جب ٹب وغیرہ میں دھوئے اگر بڑے تالاب میں دھوئے یا اس پر بہت سا پانی ڈالے یا اس پر پانی جاری کرے تو نچوڑ نے یا خشك کرنے اور بار بار غوطہ دینے کی شرط کے بغیر مطلقًا پاك ہوجائے گی یہی مختار ہے- (درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی جلد1صفحہ56) (بحوالہ فتاویٰ رضویہ شریف جلد4صفحہ557-رضا فاؤنڈیشن لاہور)

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...