Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1962
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
11.2K Views
حیض ختم ہوتے ہی بیوی سے مباشرت کرنا
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
حیض ختم ہوتے ہی بیوی سے مباشرت کرنا
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
حیض ختم ہوتے ہی بیوی سے مباشرت کرنا
سوال :اگر عورت کو عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے ہی حیض ختم ہوجائے تو کیا اس سے ہمبستری کرنا جائز ہے؟ الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب مذکورہ صورت میں اگر تو حیض پورے دس دن پر ختم ہوا تھا تو حیض ختم ہوتے ہی صحبت کرنا جائز ہے اگرچہ ابھی غسل نہ کیا ہو، لیکن مستحب یہی ہوگا کہ غسل کر نے کے بعد ہی صحبت کی جائے، اور اگر عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے ہی حیض ختم ہوا تو عورت غسل کرکے نماز شروع کردے، لیکن اس سے صحبت کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہوگا جب تک عادت کے دن پورے نہ ہوجائیں- سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں، کہ جو حیض اپنی پوری مدت(یعنی: دس دن کامل سے کم میں ختم ہوجائے اس میں دو صورتیں ہیں یا تو عورت کی عادت سے بھی کم میں ختم ہوا یعنی اس سے پہلے مہینے میں جتنے دنوں آیا تھا اتنے دن بھی ابھی نہ گزرے اور خون بند ہوگیا جب تو اس سے صحبت ابھی جائز نہیں، اگرچہ نہالے اور اگر عادت سے کم نہیں مثلاً پہلے مہینے سات دن آیا تھا اب بھی سات یا آٹھ روز آکر ختم ہوا یا یہ پہلا ہی حیض ہے جو اس عورت کو آیا اور دس دن سے کم میں ختم ہوا تو اس سے صحبت جائز ہونے کے لئے دو باتوں سے ایک بات ضرور ہے یا تو عورت نہالے اور اگر بوجہ مرض یا پانی نہ ہونے کے تیمم کرنا ہو تو تیمم کرکے نماز بھی پڑھ لے، خالی تیمم کافی نہیں یا طہارت نہ کرے تو اتنا ہو کہ اس پر کوئی نمازِ فرض، فرض ہوجائے(یعنی: نمازِ پنجگانہ سے کسی نماز کا وقت گزرجائے جس میں کم سے کم اس نے اتنا وقت پایا ہو جس میں نہاکر سر سے پاؤں تک ایک چادر اوڑھ کر تکبیر تحریمہ کہہ سکتی تھی، اس صورت میں بے طہارت بھی اس سے صحبت جائز ہوجائے گی، ورنہ نہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد4، صفحہ 352- رضا فاؤنڈیشن لاہور)
Kutubahu & Verified by:
<h3>حیض ختم ہوتے ہی بیوی سے مباشرت کرنا</h3> سوال :اگر عورت کو عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے ہی حیض ختم ہوجائے تو کیا اس سے ہمبستری کرنا جائز ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب</strong></span> مذکورہ صورت میں اگر تو حیض پورے دس دن پر ختم ہوا تھا تو حیض ختم ہوتے ہی صحبت کرنا جائز ہے اگرچہ ابھی غسل نہ کیا ہو، لیکن مستحب یہی ہوگا کہ غسل کر نے کے بعد ہی صحبت کی جائے، اور اگر عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے ہی حیض ختم ہوا تو عورت غسل کرکے نماز شروع کردے، لیکن اس سے صحبت کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہوگا جب تک عادت کے دن پورے نہ ہوجائیں- سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں، کہ جو حیض اپنی پوری مدت(یعنی: دس دن کامل سے کم میں ختم ہوجائے اس میں دو صورتیں ہیں یا تو عورت کی عادت سے بھی کم میں ختم ہوا یعنی اس سے پہلے مہینے میں جتنے دنوں آیا تھا اتنے دن بھی ابھی نہ گزرے اور خون بند ہوگیا جب تو اس سے صحبت ابھی جائز نہیں، اگرچہ نہالے اور اگر عادت سے کم نہیں مثلاً پہلے مہینے سات دن آیا تھا اب بھی سات یا آٹھ روز آکر ختم ہوا یا یہ پہلا ہی حیض ہے جو اس عورت کو آیا اور دس دن سے کم میں ختم ہوا تو اس سے صحبت جائز ہونے کے لئے دو باتوں سے ایک بات ضرور ہے یا تو عورت نہالے اور اگر بوجہ مرض یا پانی نہ ہونے کے تیمم کرنا ہو تو تیمم کرکے نماز بھی پڑھ لے، خالی تیمم کافی نہیں یا طہارت نہ کرے تو اتنا ہو کہ اس پر کوئی نمازِ فرض، فرض ہوجائے(یعنی: نمازِ پنجگانہ سے کسی نماز کا وقت گزرجائے جس میں کم سے کم اس نے اتنا وقت پایا ہو جس میں نہاکر سر سے پاؤں تک ایک چادر اوڑھ کر تکبیر تحریمہ کہہ سکتی تھی، اس صورت میں بے طہارت بھی اس سے صحبت جائز ہوجائے گی، ورنہ نہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد4، صفحہ 352- رضا فاؤنڈیشن لاہور)
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...