Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1969
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
12K Views
سجدے کی حالت میں پاؤں کی انگلیوں کے پیٹ زمین سے لگانا مردوں کےساتھ خاص ہے، عورتیں نہیں لگائیں گی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
سجدے کی حالت میں پاؤں کی انگلیوں کے پیٹ زمین سے لگانا مردوں کےساتھ خاص ہے، عورتیں نہیں لگائیں گی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
سجدے کی حالت میں پاؤں کی انگلیوں کے پیٹ زمین سے لگانا مردوں کےساتھ خاص ہے، عورتیں نہیں لگائیں گی
مرد حالت سجدہ میں انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگائے گا اور عورت بھی ایسے ہی سجدہ کرے گی یا اس کے سجدے میں کچھ فرق ہے؟؟جواب عنایت فرمائیں سائل ریاض احمد امجدی الجواب بعون الملک الوھاب مرد و عورت کی نماز میں کئی مسائل جداگانہ ہیں ۔ علامہ سید ابوالسعود علیہ الرحمہ نے امام فخرالدین زیلعی علیہ الرحمہ کے حوالے سے دس گنائیں ” والحاصل ان المرأة تخالف الرجل فی مسائل عشرة کما فی الزیلعی ” (ضوءالمصباح شرح نورالایضاح، ص205، مخطوطہ مکتبہ جامعۃالریاض ) علامہ علاءالدین حصکفی علیہ الرحمۃ نے پچیس شمار کئے ” وحررنا فی الخزائن انھا تخالف الرجل فی خمسۃوعشرین ” {الدرالمختار ص69، دارالکتب العلمیۃ} علامہ ابراھیم بن مصطفے حلبی علیہ الرحمہ نے اس طرح شمار فرمایا ” خمسة وعشر ين ذكر فی البحر منها ثلاثة عشر ترفع يديها الى منكبيها وتضع يمينها على شمالهاتحت ثديها ولا تجافي بطنها عن فخديها وتضع يديها علی فخذيها تبلغ اصابعها ركبتيها ولا تفتح ابطيها في السجود وتجلس متوركة في التشهد ولا تفرج) اصابعها في الركوع ولاتؤم الرجال وتكرہ جما عتهن و يقوم الامام وسطهن ولا تنصب اصابع القدمين ولایستحب فی حقها الاسفار بالفجر ولايستحب في حقها الجهر بالقرآة في الصلاة الجهریۃ ” {تحفۃ الاخیار شرح الدرالمختار ص122, مخطوطہ جامعۃالملک سعود} علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ نے معراج الدرایہ کے حوالے سے چھبیس کا ذکر فرمایا ” وحاصل ماذکرہ ان المخالفۃ فی ست وعشرین ” {ردالمحتار ج1ص504, دارالکتب العلمیۃ} انہی احکام مخالف میں سے سجدے میں پاؤں کی انگلیوں کے پیٹ زمین سے لگانے کا مسئلہ بھی ہے، کہ مرد لگائےگا اور عورت نہیں لگائےگی علامہ سید ابوالسعود علیہ الرحمہ فرماتےہیں ” وظاھر قولہ فی البحر لا تنصب اصابع القدمین انہ لا یفترض فی حقھا وضع الاصابع ” {فتح اللّٰہ المعین، ج1 ص193, مطبوعہ مصر} علامہ سید احمد طحطاوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ” ولا تنصب أصابع القدمين وظاهر : أنه لا يفترض في حقها وضع بعض الأصابع، فافتراضه خاص بالرجال ” {حاشیۃالطحطاوی علی الدر، ج2 ص190, دارالکت العلمیۃ} کہ عورت سجدے میں اپنے پاؤں نصب نہیں کرےگی، اس کا ظاہری مطلب یہی ہےکہ اس کے حق میں کچھ انگلیوں کے باطن کا زمین پر رکھنا فرض نہیں ہے، اس کی فرضیت مردوں کے ساتھ خاص ہے بلکہ عورتیں اس طرح جھک کر سجدہ کریں کہ بازو کروٹوں سے ملے ہوئے ہوں، پیٹ ران سے اور پنڈلیاں زمین سے، اور دونوں پاؤں پیچھے نکال دے امام ابوالبرکات نسفی علیہ الرحمہ فرماتےہیں ” و تنخفض المرأة فی سجودھا، و تلزق، بطنھا بفخذھا لان ذالک استر لھا، فیکون اولی بحالھا ” {الکافی شرح الوافی، ص54, مخطوطہ} واللہ تعالی اعلم باالصواب کتبــــہ:محمد شکیل اختر قادری برکاتی , شیخ الحدیث بمدرسةالبنات مسلک اعلی حضرت صدر صوفہ ھبلی کرناٹک
Kutubahu & Verified by:
<h3>سجدے کی حالت میں پاؤں کی انگلیوں کے پیٹ زمین سے لگانا مردوں کےساتھ خاص ہے، عورتیں نہیں لگائیں گی</h3> مرد حالت سجدہ میں انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگائے گا اور عورت بھی ایسے ہی سجدہ کرے گی یا اس کے سجدے میں کچھ فرق ہے؟؟جواب عنایت فرمائیں سائل ریاض احمد امجدی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong> </span> مرد و عورت کی نماز میں کئی مسائل جداگانہ ہیں ۔ علامہ سید ابوالسعود علیہ الرحمہ نے امام فخرالدین زیلعی علیہ الرحمہ کے حوالے سے دس گنائیں " والحاصل ان المرأة تخالف الرجل فی مسائل عشرة کما فی الزیلعی " (ضوءالمصباح شرح نورالایضاح، ص205، مخطوطہ مکتبہ جامعۃالریاض ) علامہ علاءالدین حصکفی علیہ الرحمۃ نے پچیس شمار کئے " وحررنا فی الخزائن انھا تخالف الرجل فی خمسۃوعشرین " {الدرالمختار ص69، دارالکتب العلمیۃ} علامہ ابراھیم بن مصطفے حلبی علیہ الرحمہ نے اس طرح شمار فرمایا " خمسة وعشر ين ذكر فی البحر منها ثلاثة عشر ترفع يديها الى منكبيها وتضع يمينها على شمالهاتحت ثديها ولا تجافي بطنها عن فخديها وتضع يديها علی فخذيها تبلغ اصابعها ركبتيها ولا تفتح ابطيها في السجود وتجلس متوركة في التشهد ولا تفرج) اصابعها في الركوع ولاتؤم الرجال وتكرہ جما عتهن و يقوم الامام وسطهن ولا تنصب اصابع القدمين ولایستحب فی حقها الاسفار بالفجر ولايستحب في حقها الجهر بالقرآة في الصلاة الجهریۃ " {تحفۃ الاخیار شرح الدرالمختار ص122, مخطوطہ جامعۃالملک سعود} علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ نے معراج الدرایہ کے حوالے سے چھبیس کا ذکر فرمایا " وحاصل ماذکرہ ان المخالفۃ فی ست وعشرین " {ردالمحتار ج1ص504, دارالکتب العلمیۃ} انہی احکام مخالف میں سے سجدے میں پاؤں کی انگلیوں کے پیٹ زمین سے لگانے کا مسئلہ بھی ہے، کہ مرد لگائےگا اور عورت نہیں لگائےگی علامہ سید ابوالسعود علیہ الرحمہ فرماتےہیں " وظاھر قولہ فی البحر لا تنصب اصابع القدمین انہ لا یفترض فی حقھا وضع الاصابع " {فتح اللّٰہ المعین، ج1 ص193, مطبوعہ مصر} علامہ سید احمد طحطاوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں " ولا تنصب أصابع القدمين وظاهر : أنه لا يفترض في حقها وضع بعض الأصابع، فافتراضه خاص بالرجال " {حاشیۃالطحطاوی علی الدر، ج2 ص190, دارالکت العلمیۃ} کہ عورت سجدے میں اپنے پاؤں نصب نہیں کرےگی، اس کا ظاہری مطلب یہی ہےکہ اس کے حق میں کچھ انگلیوں کے باطن کا زمین پر رکھنا فرض نہیں ہے، اس کی فرضیت مردوں کے ساتھ خاص ہے بلکہ عورتیں اس طرح جھک کر سجدہ کریں کہ بازو کروٹوں سے ملے ہوئے ہوں، پیٹ ران سے اور پنڈلیاں زمین سے، اور دونوں پاؤں پیچھے نکال دے امام ابوالبرکات نسفی علیہ الرحمہ فرماتےہیں " و تنخفض المرأة فی سجودھا، و تلزق، بطنھا بفخذھا لان ذالک استر لھا، فیکون اولی بحالھا " {الکافی شرح الوافی، ص54, مخطوطہ} واللہ تعالی اعلم باالصواب کتبــــہ:محمد شکیل اختر قادری برکاتی , شیخ الحدیث بمدرسةالبنات مسلک اعلی حضرت صدر صوفہ ھبلی کرناٹک
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...