Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1972 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.4K Views

غیر مسلم کے تہوار میں شرکت کرنا کیسا ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

غیر مسلم کے تہوار میں شرکت کرنا کیسا ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

غیر مسلم کے تہوار میں شرکت کرنا کیسا ؟

کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ غیر مسلموں کے تہواروں میں جاکران کومبارک باددینا اور ان سے مٹھائ وغیرہ لےکر کھانا کیساہے؟ (سائل سفیان عطاری ضلع چنیوٹ) الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب جس طرح مسلمان عیدوں وغیرہ پرخوشیاں مناتے مبارک باد دیتے ہیں اسی طرح غیر مسلموں کے ہاں بھی وہ لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے اور مٹھائ وغیرہ تقسیم کرتے ہیں لاعلمی کی وجہ سے بہت سے مسلمان اُن لوگوں کی خوشیوں میں شامل ہوجاتے اور ان کو مبارکیں دیتے ہیں جوشرعاً درست نہیں ہے، رہا مسئلہ ان سے مٹھائ لینے کا تو اس حوالہ سے(امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فر ماتے ہیں، کہ اس روز نہ لے ہاں اگر دوسرے روز دے تو لے لے نہ یہ سمجھ کر کہ ان خُبَثَاء کے تہوار کی مٹھائی ہے بلکہ مالِ موذی نصیبِ غازی سمجھے) (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت-حصہ-1صفحہ-163-مکتبۃ المدینہ) (اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، ہولی دیوالی ہندوؤں کے شیطانی تہوارہیں جب ایران خلافت فاروقی میں فتح ہوا تو بھاگے ہوئے آتش پرست کچھ ہندوستان میں آئے ان کے یہاں دوعیدیں تھیں، نوروزکہ تحویل حمل ہے اور مہرگان کہ تحویل میزان وہ عیدیں اور ان میں آگ کی پرستش ہندوؤں نے ان سے سیکھیں اور یہ چاند سورج دونوں کو پوجتے ہیں لھٰذا اُن وقتوں میں یہ ترمیم کی کہ میکھ سنکھ رانت کی پورنماشی میں ہولی، اور تلاسنکھ رانت کی اماوس میں دیوالی، یہ سب رسومِ کفّارہیں، مسلمانوں کو ان میں شرکت حرام اور اگر پسند کریں تو صریح کفرہے- (فتاویٰ رضویہ جلد-14-680-رضافاؤنڈیشن-لاہور) (اسی طرح ہولی دیوالی وغیرہ کی مبارکباد دینا بھی جائز نہیں ہے، جیساکہ اہلسنت و جماعت کے عظیم مفتی و فقیہ حضرت مولانامفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں، ان مشرکانہ مذہبی تہواروں پر ہندوؤں کو مبارک باد دینا اشدحرام بلکہ منجرالی الکفرہے جو مسلمان ایسا کر تے ہیں ان پر توبہ تجدید ایمان و نکاح لازم ہے- (فتاویٰ شارح بخاری جلد-2-صفحہ-566-مکتبہ دائرۃ البرکت) (صدرالشریعہ بدرالطریقہ فقیہ اعظم مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی تحریر فرماتے ہیں، ہولی کھیلنا یا اس زمانے میں بدن یا کپڑے پر رکگ ڈالنا یا ڈلوانا اگر اس کو اچھا سمجھتے ہوئے ہو تو کفرہے، اس شخص پر توبہ فرض ہے اور تجدید نکاح لازم- (فتاویٰ امجدیہ جز4صفحہ151) (فتاویٰ بریلی شریف میں ہے) ہولی کھیلنا کھلوانا حرام بدکام بدانجام منجر بکفر ہے اور غمزالعیون میں ہے من استحسن فعلامن الفعال الفار کفرباتفاق المشائخ(یعنی: جس نے کا فروں کے کسی فعل کو اچھا سمجھا باالاتفاق عندالمشائخ کافر ہوگیا لہٰذا جو مسلمان اس میں شریک ہوئے ان پر لازم ہے کہ صدق دل سے توبہ و استغفار کریں اور تجدید ایمان بھی کرلیں اور بیوی والے ہوں تو تجدید نکاح بھی کریں- (فتاویٰ بریلی شریف-صفحہ-346-شبیر برادرز) (اسی طرح قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے یہود و نصایٰ کے ساتھ دوستی و تعلق قائم کرنے سے منع فر ما یاہے- 1⃣آیت) یٰآیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ= تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 51– ترجمہ: اے ایمان والو : یہود اور نصاری کو دوست نہ بناؤ‘ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں ‘ تم میں سے جو انکو دوست بنائے گا وہ ان ہی میں سے (شمار) ہوگا، بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا.. ( اللہ تعالیٰ نے قطعی طور پر مسلمانوں کو کفار کے ساتھ دوستی رکھنے سے منع فرما دیا ہے اور حسب ذیل آیتوں میں بھی اس پر دلیل ہے : 2⃣(آیت) وَلَا تَرْکَنُوْا اِلی الَؔذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَؔکُمُ النَؔار(سورۂ ھود,آیت,113)/تبیان القرآن ترجمہ : ظالم لوگوں سے میل جول نہ رکھو ورنہ تمہیں بھی دوزخ کی آگ پہنچے گی۔ 3⃣(آیت/لاَ یَتَؔخِذِالمُؤمِنُوْنَ الْکٰافِرِیْنَ اَوْلِیآءَ مِنْ دُوْنِ المُؤمِنِیْنَ=(سورۂ آل عمران/آیت/28)تبیان القرآن ترجمہ : ایمان والے مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں۔ 4⃣(آیت)–لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِؔن دُوْنِکُمْ=(سورۂ آل عمران :118–تبیان القرآن ترجمہ : اپنے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ۔ 5⃣(آیت)–یٰآیُؔھَا الَؔذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَتَؔخِذُوْا عَدُوِؔیْ وَعَدُوَؔکُمْ اَوْلِیآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَؔۃِ وَقَدْ کَفَرُوْا بِمَاجآءَ کُمْ مِنَ الْحَقّ=(سورۂ ممتحنہ–آیت–1)تبیان القرآن ترجمہ : اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوستت نہ بناؤ تم انہیں دوستی کے پیغام بھیجتے ہو حالانکہ انہوں نے اس حق کے ساتھ کفر کیا ہے جو تمہارے پاس آچکا ہے–

کفار کے ساتھ دوستی کی ممانعت میں احادیث اور آثار :

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہود اور نصاری کو ابتداء سلام نہ کرو جب تم ان میں سے کسی سے راستہ میں ملو تو اسے تنگ راستے پر چلنے میں مجبور کرو- ۔( صحیح مسلم ‘ السلام ‘ ١٣‘ (٢١٦٧) ٥٥٥٧/سنن ترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٠٨‘ صحیح ابن حبان ٥٠٠‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٧٦٢١‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٤٥٧‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث :‘ ١١١‘ سنن کبری للبیہقی ج ٩‘ ص ٢٠٣) امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مومن کے سوا کسی کو ساتھ نہ بناؤ اور متقی کے علاوہ اور کوئی تمہارا کھانا نہ کھائے۔ ( سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٠٣‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٨٣٢‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١١٣٣٦‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث :‘ ٩٣٨٢) حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہُ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جس شخص نے عجمیوں کے ملک میں نشو و نما پائی ‘ اور ان کے نو روز اور مہرجان کو منایا اور ان کی مشابہت اختیار کی اور اسی طریقہ پر مرگیا تو وہ قیامت کے دن اسی طرح اٹھایا جائے گا۔ (شعب الایمان ج ٧‘ رقم الحدیث : ٩٣٨٧) ان تمام آیات قرآنی اور احادیث مبارکہ اور عباراتِ فتاویٰ جات سے یہ واضح ہوگیا کہ غی مسلموں کے تہواروں میں جانا ان کو مبارکباد دینا جائز نہیں ہے..اللہ کریم ہمیں حق و سچ سمجھ کر اس پر عمل کر نے کی توفیق عطا فرمائے) واللہ اعلم عزوجل و ر سولہ اعلم ﷺ کتبہ:ابورضا محمد عمران عطاری عفی عنہ متخصص فی الفقہ

Kutubahu & Verified by:

<h3>غیر مسلم کے تہوار میں شرکت کرنا کیسا ؟</h3> کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ غیر مسلموں کے تہواروں میں جاکران کومبارک باددینا اور ان سے مٹھائ وغیرہ لےکر کھانا کیساہے؟ (سائل سفیان عطاری ضلع چنیوٹ) <span style="color: #ff0000;"><strong>الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب</strong></span> جس طرح مسلمان عیدوں وغیرہ پرخوشیاں مناتے مبارک باد دیتے ہیں اسی طرح غیر مسلموں کے ہاں بھی وہ لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے اور مٹھائ وغیرہ تقسیم کرتے ہیں لاعلمی کی وجہ سے بہت سے مسلمان اُن لوگوں کی خوشیوں میں شامل ہوجاتے اور ان کو مبارکیں دیتے ہیں جوشرعاً درست نہیں ہے، رہا مسئلہ ان سے مٹھائ لینے کا تو اس حوالہ سے(امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فر ماتے ہیں، کہ اس روز نہ لے ہاں اگر دوسرے روز دے تو لے لے نہ یہ سمجھ کر کہ ان خُبَثَاء کے تہوار کی مٹھائی ہے بلکہ مالِ موذی نصیبِ غازی سمجھے) (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت-حصہ-1صفحہ-163-مکتبۃ المدینہ) (اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، ہولی دیوالی ہندوؤں کے شیطانی تہوارہیں جب ایران خلافت فاروقی میں فتح ہوا تو بھاگے ہوئے آتش پرست کچھ ہندوستان میں آئے ان کے یہاں دوعیدیں تھیں، نوروزکہ تحویل حمل ہے اور مہرگان کہ تحویل میزان وہ عیدیں اور ان میں آگ کی پرستش ہندوؤں نے ان سے سیکھیں اور یہ چاند سورج دونوں کو پوجتے ہیں لھٰذا اُن وقتوں میں یہ ترمیم کی کہ میکھ سنکھ رانت کی پورنماشی میں ہولی، اور تلاسنکھ رانت کی اماوس میں دیوالی، یہ سب رسومِ کفّارہیں، مسلمانوں کو ان میں شرکت حرام اور اگر پسند کریں تو صریح کفرہے- (فتاویٰ رضویہ جلد-14-680-رضافاؤنڈیشن-لاہور) (اسی طرح ہولی دیوالی وغیرہ کی مبارکباد دینا بھی جائز نہیں ہے، جیساکہ اہلسنت و جماعت کے عظیم مفتی و فقیہ حضرت مولانامفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں، ان مشرکانہ مذہبی تہواروں پر ہندوؤں کو مبارک باد دینا اشدحرام بلکہ منجرالی الکفرہے جو مسلمان ایسا کر تے ہیں ان پر توبہ تجدید ایمان و نکاح لازم ہے- (فتاویٰ شارح بخاری جلد-2-صفحہ-566-مکتبہ دائرۃ البرکت) (صدرالشریعہ بدرالطریقہ فقیہ اعظم مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی تحریر فرماتے ہیں، ہولی کھیلنا یا اس زمانے میں بدن یا کپڑے پر رکگ ڈالنا یا ڈلوانا اگر اس کو اچھا سمجھتے ہوئے ہو تو کفرہے، اس شخص پر توبہ فرض ہے اور تجدید نکاح لازم- (فتاویٰ امجدیہ جز4صفحہ151) (فتاویٰ بریلی شریف میں ہے) ہولی کھیلنا کھلوانا حرام بدکام بدانجام منجر بکفر ہے اور غمزالعیون میں ہے من استحسن فعلامن الفعال الفار کفرباتفاق المشائخ(یعنی: جس نے کا فروں کے کسی فعل کو اچھا سمجھا باالاتفاق عندالمشائخ کافر ہوگیا لہٰذا جو مسلمان اس میں شریک ہوئے ان پر لازم ہے کہ صدق دل سے توبہ و استغفار کریں اور تجدید ایمان بھی کرلیں اور بیوی والے ہوں تو تجدید نکاح بھی کریں- (فتاویٰ بریلی شریف-صفحہ-346-شبیر برادرز) (اسی طرح قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے یہود و نصایٰ کے ساتھ دوستی و تعلق قائم کرنے سے منع فر ما یاہے- 1⃣آیت) یٰآیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ= تبیان القرآن - سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 51-- ترجمہ: اے ایمان والو : یہود اور نصاری کو دوست نہ بناؤ‘ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں ‘ تم میں سے جو انکو دوست بنائے گا وہ ان ہی میں سے (شمار) ہوگا، بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا.. ( اللہ تعالیٰ نے قطعی طور پر مسلمانوں کو کفار کے ساتھ دوستی رکھنے سے منع فرما دیا ہے اور حسب ذیل آیتوں میں بھی اس پر دلیل ہے : 2⃣(آیت) وَلَا تَرْکَنُوْا اِلی الَؔذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَؔکُمُ النَؔار(سورۂ ھود,آیت,113)/تبیان القرآن ترجمہ : ظالم لوگوں سے میل جول نہ رکھو ورنہ تمہیں بھی دوزخ کی آگ پہنچے گی۔ 3⃣(آیت/لاَ یَتَؔخِذِالمُؤمِنُوْنَ الْکٰافِرِیْنَ اَوْلِیآءَ مِنْ دُوْنِ المُؤمِنِیْنَ=(سورۂ آل عمران/آیت/28)تبیان القرآن ترجمہ : ایمان والے مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں۔ 4⃣(آیت)--لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِؔن دُوْنِکُمْ=(سورۂ آل عمران :118--تبیان القرآن ترجمہ : اپنے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ۔ 5⃣(آیت)--یٰآیُؔھَا الَؔذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَتَؔخِذُوْا عَدُوِؔیْ وَعَدُوَؔکُمْ اَوْلِیآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَؔۃِ وَقَدْ کَفَرُوْا بِمَاجآءَ کُمْ مِنَ الْحَقّ=(سورۂ ممتحنہ--آیت--1)تبیان القرآن ترجمہ : اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوستت نہ بناؤ تم انہیں دوستی کے پیغام بھیجتے ہو حالانکہ انہوں نے اس حق کے ساتھ کفر کیا ہے جو تمہارے پاس آچکا ہے-- <h3>کفار کے ساتھ دوستی کی ممانعت میں احادیث اور آثار :</h3> امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہود اور نصاری کو ابتداء سلام نہ کرو جب تم ان میں سے کسی سے راستہ میں ملو تو اسے تنگ راستے پر چلنے میں مجبور کرو- ۔( صحیح مسلم ‘ السلام ‘ ١٣‘ (٢١٦٧) ٥٥٥٧/سنن ترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٠٨‘ صحیح ابن حبان ٥٠٠‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٧٦٢١‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٤٥٧‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث :‘ ١١١‘ سنن کبری للبیہقی ج ٩‘ ص ٢٠٣) امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مومن کے سوا کسی کو ساتھ نہ بناؤ اور متقی کے علاوہ اور کوئی تمہارا کھانا نہ کھائے۔ ( سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٠٣‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٨٣٢‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١١٣٣٦‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث :‘ ٩٣٨٢) حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہُ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جس شخص نے عجمیوں کے ملک میں نشو و نما پائی ‘ اور ان کے نو روز اور مہرجان کو منایا اور ان کی مشابہت اختیار کی اور اسی طریقہ پر مرگیا تو وہ قیامت کے دن اسی طرح اٹھایا جائے گا۔ (شعب الایمان ج ٧‘ رقم الحدیث : ٩٣٨٧) ان تمام آیات قرآنی اور احادیث مبارکہ اور عباراتِ فتاویٰ جات سے یہ واضح ہوگیا کہ غی مسلموں کے تہواروں میں جانا ان کو مبارکباد دینا جائز نہیں ہے..اللہ کریم ہمیں حق و سچ سمجھ کر اس پر عمل کر نے کی توفیق عطا فرمائے) واللہ اعلم عزوجل و ر سولہ اعلم ﷺ کتبہ:ابورضا محمد عمران عطاری عفی عنہ متخصص فی الفقہ

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...