Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

جماعت چھوڑ کر میلاد شریف پڑھنا !!

جماعت چھوڑ کر میلاد شریف پڑھنا !!
Reference 1975 September 18, 2025 12,816 views
اصل سوالجماعت چھوڑ کر میلاد شریف پڑھنا !!

جماعت چھوڑ کر میلاد شریف پڑھنا !!

بلاشبہ میلاد شریف پڑھنا اور سننا، عین سعادت مندی اور کثیر فیوض و برکات کے حصول کا ذریعہ ہے۔مگر میلاد شریف پڑھنا یا سننا یہ ایک امر مستحب ہے،جس کی وجہ سے کسی فرض و واجب کا ترک قطعاً جائز نہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ قصداً جماعت چھوڑ کر خاص جماعت کے وقت بھی میلاد خوانی میں مصروف رہتے ہیں، حالاں کہ شرعی نقطۂ نظر سے یہ بالکل جائز نہیں۔ جماعت چھوڑ کر خاص جماعت کے وقت میلاد شریف پڑھنا یا سننا، ناجائز و گناہ ہے اور ایسا کرنے والا سخت گنہ گار و مستحقِ عذابِ نار ہے۔ کیوں کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے اور میلاد شریف پڑھنا یا سننا مستحب ہے اور ایک امر مستحب کے سبب واجب کا ترک جائز نہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: [فتاوی فقیہ ملت، کتاب الحظر و الاباحۃ، ج:2، ص:273 ] اللہ رب العزت ہم سب کو مذہبِ حق اہل سنت و جماعت پر ہمیشہ گامزن رکھے اور افراط و تفریط سے بچائے۔ آمین۔ محمد شفاء المصطفی شفا مصباحی 18؍ دسمبر 2022ء۔

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.