01
The questionSawaal
اصل سوالجماعت چھوڑ کر میلاد شریف پڑھنا !!
02
The responseAl-Jawab
جماعت چھوڑ کر میلاد شریف پڑھنا !!
بلاشبہ میلاد شریف پڑھنا اور سننا، عین سعادت مندی اور کثیر فیوض و برکات کے حصول کا ذریعہ ہے۔مگر میلاد شریف پڑھنا یا سننا یہ ایک امر مستحب ہے،جس کی وجہ سے کسی فرض و واجب کا ترک قطعاً جائز نہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ قصداً جماعت چھوڑ کر خاص جماعت کے وقت بھی میلاد خوانی میں مصروف رہتے ہیں، حالاں کہ شرعی نقطۂ نظر سے یہ بالکل جائز نہیں۔ جماعت چھوڑ کر خاص جماعت کے وقت میلاد شریف پڑھنا یا سننا، ناجائز و گناہ ہے اور ایسا کرنے والا سخت گنہ گار و مستحقِ عذابِ نار ہے۔ کیوں کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے اور میلاد شریف پڑھنا یا سننا مستحب ہے اور ایک امر مستحب کے سبب واجب کا ترک جائز نہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: [فتاوی فقیہ ملت، کتاب الحظر و الاباحۃ، ج:2، ص:273 ] اللہ رب العزت ہم سب کو مذہبِ حق اہل سنت و جماعت پر ہمیشہ گامزن رکھے اور افراط و تفریط سے بچائے۔ آمین۔ محمد شفاء المصطفی شفا مصباحی 18؍ دسمبر 2022ء۔
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.