01
The questionSawaal
اصل سوالنماز فجر میں امام التحیات میں ہو مقتدی کے لئے سنتیں پڑھنے کا حکم
02
The responseAl-Jawab
نماز فجر میں امام التحیات میں ہو مقتدی کے لئے سنتیں پڑھنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ بندہ وضو کر کے نماز فجر کے لئے ایسے وقت میں آیا کہ امام قعدہ اخیرہ میں ہے، اب سنت پڑھتا ہے تو جماعت جاتی ہے اور جماعت میں ملتا ہے تو سنتیں فوت ہوجائیں گی اس صورت میں سنتیں پڑھے یا قعدہ میں مل جائے، اور قعدہ میں ملنے سے اگر سنتیں رہ جائیں تو کس وقت پڑھیں؟ الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب مذکورہ صورت میں اس نمازی کو چاہیے کہ جماعت میں شامل ہو جائے اور سنتیں بعد میں پڑھ لے کیونکہ نماز فجر میں نمازی کے لئے حکم یہ ہے کہ اگر یہ جانتا ہو کہ سنتیں پڑھ کر جماعت میں شامل ہوجائے گا تو پہلے سنتیں پڑھ لے اور اگر یہ گمان ہو کہ سنتیں پڑھوں گا جماعت نکل جائے گی تو جماعت میں شریک ہو جائے اور سنتیں طلوع آفتاب کے 20منٹ بعد پڑھ لے- (سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں، کہ اس صورت میں بالاتفاق جماعت میں شریک ہوجائے کہ جماعت میں ملنا سنتیں پڑھنے سے اہم وآکد ہے، جب یہ جانے کہ سنتیں پڑھوں گا تو جماعت ہوچکے گی بالاتفاق جماعت میں مل جانے کا حکم ہے اگر چہ ابھی امام رکعت ثانیہ کے شروع میں ہو، قعدہ تو ختم نماز ہے اس میں کیونکہ امید ہو سکتی ہے کہ امام کے سلام سے پہلے یہ سنتیں پڑھ کر جماعت میں مل سکے گا- (سیدی اعلیٰ حضرت مزید تحریر فرماتے ہیں، جبکہ فرض فجر پڑھ چکا تو سنتیں سورج بلند ہونے سے پہلے ہرگز نہ پڑھے، ہمارے ائمہ رحمہم ﷲ تعالٰی عنہم کا اس پر اجماع ہے بلکہ پڑھے تو سورج بلند ہونے کے بعد دوپہر سے پہلے پڑھ لے، نہ اس کے بعد پڑھے نہ اس سے پہلے- (ردالمحتارمیں ہے، اذا فاتت وجدھا فلاتقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع لکراھۃ النفل بعد الصبح، واما بعد طلوع الشمس فکذالك عندھما وقال محمد احب الی ان یقضیھا الی الزوال- جب اکیلی سنن رہ گئی ہوں تو بالاجماع طلوع آفتاب سے پہلے انہیں قضانہ کرے کیونکہ اس وقت نفل نماز مکروہ ہے۔ رہا طلوع آفتاب کے بعد کا تو شیخین کے نزدیک یہی حکم ہے، مگر امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، کہ زوال سے پہلے پہلے ان کا ادا کر لینا مجھے پسند ہے- (ردالمحتار باب ادراک الفریضۃ مطبوعہ سعیدکمپنی کراچی،جلد2،صفحہ57) (بحوالہ فتاویٰ رضویہ جلد7 صفحہ424تا 425-مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.