Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1984 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.8K Views

اپنی یا گھر کی حفاظت کے لئے کتا پالنا کیسا؟ | کتا پالنا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

اپنی یا گھر کی حفاظت کے لئے کتا پالنا کیسا؟ | کتا پالنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اپنی یا گھر کی حفاظت کے لئے کتا پالنا کیسا؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ اپنی یا گھر کی حفاظت کے لئے کتا پالنا کیسا ہے ؟ المستفتی: محمد کاشف علی پاکستان۔ الجواب  بعون الملک الوھاب حفاظت کی سچی حاجت ہو کہ اس کے بعیر حفاظت نہ ہوسکے تو جائز ہے ورنہ نہیں۔ اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: “وہ کتا جوگلے یا کھیتی یا گھر کی حفاظت کے لئے پالاجائے اور حفاظت کی سچی حاجت ہو، ورنہ اگرمکان میں کچھ نہیں کہ چورلیں یامکان محفوظ جگہ ہے کہ چور کااندیشہ نہیں، غرض جہاں یہ اپنے دل سے خوب جانتاہو کہ حفاظت کابہانہ ہے اصل میں کتے کاشوق ہے وہاں جائزنہیں، آخرآس پاس کے گھروالے بھی اپنی حفاظت ضروری سمجھتے ہیں اگربے کتے کے حفاظت نہ ہوتی تووہ بھی پالتے، خلاصہ یہ کہ اﷲتعالٰی کے حکم میں حیلہ نہ نکالے کہ وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔” اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج٢٤، ص٦٥٩، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ : مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

Kutubahu & Verified by:

<h2><span style="font-size: 14pt;">اپنی یا گھر کی حفاظت کے لئے کتا پالنا کیسا؟</span></h2> <span style="font-size: 14pt;">مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔</span> <span style="font-size: 14pt;">اپنی یا گھر کی حفاظت کے لئے کتا پالنا کیسا ہے ؟</span> <span style="font-size: 14pt;">المستفتی: محمد کاشف علی پاکستان۔</span> <span style="color: #ff0000;"><strong><span style="font-size: 14pt;">الجواب  بعون الملک الوھاب</span></strong></span> <span style="font-size: 14pt;"> حفاظت کی سچی حاجت ہو کہ اس کے بعیر حفاظت نہ ہوسکے تو جائز ہے ورنہ نہیں۔</span> <span style="font-size: 14pt;">اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: "وہ کتا جوگلے یا کھیتی یا گھر کی حفاظت کے لئے پالاجائے اور حفاظت کی سچی حاجت ہو، ورنہ اگرمکان میں کچھ نہیں کہ چورلیں یامکان محفوظ جگہ ہے کہ چور کااندیشہ نہیں، غرض جہاں یہ اپنے دل سے خوب جانتاہو کہ حفاظت کابہانہ ہے اصل میں کتے کاشوق ہے وہاں جائزنہیں، آخرآس پاس کے گھروالے بھی اپنی حفاظت ضروری سمجھتے ہیں اگربے کتے کے حفاظت نہ ہوتی تووہ بھی پالتے، خلاصہ یہ کہ اﷲتعالٰی کے حکم میں حیلہ نہ نکالے کہ وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔" اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج٢٤، ص٦٥٩، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔</span> <strong><span style="font-size: 14pt;">کتبہ : مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔</span></strong> <strong><span style="font-size: 14pt;">صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</span></strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...