Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1985 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.9K Views

ساس کو شہوت کے ساتھ چھوا یا بوسہ لیا تو کیا بیوی سے نکاح ٹوٹ گیا؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ساس کو شہوت کے ساتھ چھوا یا بوسہ لیا تو کیا بیوی سے نکاح ٹوٹ گیا؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ساس کو شہوت کے ساتھ چھوا یا بوسہ لیا تو کیا بیوی سے نکاح ٹوٹ گیا؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین کہ ساس کو یعنی عورت کی والدہ کو شہوت کے ساتھ چھوا یا بوسہ لیا تو کیا بیوی نکاح سے نکل گئی صاف صاف مسئلہ بیان کرکے عنداللہ ماجور ہوں۔ المستفتی: عبداللہ ساکن بنارس یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب اگر ساس کو چھونے یا بوسہ لینے میں درمیان میں ایسا کپڑا حائل نہ ہو جو مانع حرارت ہو اور اس کے سبب شہوت ہوئی یا شہوت تھی تو اور زیادہ ہوگئی اور اس شہوت کے سبب انزال نہ ہوا تو بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہوگئی اور نکاح فاسد ہوگیا لیکن نکاح سے نہ نکلی شوہر پر واجب ہے کہ عورت سے متارکہ کرے یعنی اسے چھوڑ دے، مثلا کہے میں نے تجھے چھوڑا، اس کے بعد عورت عدت پوری کرکے دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: اس میں شک نہیں کہ اپنی منکوحہ کی ماں کے جسم کوبنظر شہوت کسی جگہ ہاتھ لگانے سے گونکاح زائل نہیں ہوتا مگر عورت ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہوجاتی ہے۔ اور اس شخص پر واجب ہوتا ہے کہ اسے چھوڑ دے لیکن اس قدر ضرور ہے کہ مس بحالت شہوت ہو یعنی ہاتھ لگانے کے وقت ہی معا نعوظ (یعنی عضو تناسل کا قائم ہونا) پیدا ہو یا پہلے سے نعوظ تھا تو ایسی حالت میں زائد ہوجائے ورنہ اگر جس وقت مس کیا نعوظ نہ تھا جب مس ختم ہوچکا اس کے بعد پیداہوا یا نعوظ پہلے سے تھا اور مس کرنے میں کچھ زیادہ نہ ہوا بدستور رہا توحرمت نہ ہوگی…..اسی طرح یہ بھی ضرور ہے کہ مس برہنہ جسم پر ہو یا کسی ایسے باریک کپڑے پرسے کہ عورت کے جسم کی حرارت اس کے ہاتھ کو پہنچنے سے مانع نہ ہو، ” اھ (فتاوی رضویہ جدید ملخصا، ج١١، ص٣٢١و ٣٢٢، کتاب النکاح، باب المحرمات، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) در مختار مع رد المحتار میں ہے: “هذا اذا لم ينزل فلو انزل مع مس او نظر فلا حرمة به يفتي ابن كمال وغيره” اھ (ج٤، ص١٠٩، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات،  مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض) یعنی حرمت تب ثابت ہوگی جب انزال نہ ہوا ہو، اور اگر مس یا نظر کے وقت شہوت سے انزال ہوجائے تو حرمت ثابت نہ ہوگی، اسی پرفتوی ہے۔ ابن کمال وغیرہ کا۔ اسی میں ہے: “وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتي لايحل التزوج بآخر إلا بعد المتاركة و انقضاء العدة” اھ (ج٤، ص١١٤، کتاب النکاح، فصل في المحرمات، مطبوعه دار عالم الكتب الرياض) یعنی حرمت مصاہرت سے نکاح نہیں ختم ہوتا کہ دوسرے سے نکاح کرنا جائز ہوجائے مگر متارکہ کردینے پھر عدت گزر جانے کے بعد۔ اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: ” نکاح زائل نہ ہوا، زید پر لازم ہے کہ عورت سے متارکہ کرے یعنی اسے چھوڑ دے، مثلا کہے میں نے تجھے چھوڑ ا، اس کے بعد عورت عدت کرے اس کے بعد دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے” اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج١١، ص٥٠٩، کتاب النکاح، باب المحرمات، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

Kutubahu & Verified by:

<h2>ساس کو شہوت کے ساتھ چھوا یا بوسہ لیا تو کیا بیوی سے نکاح ٹوٹ گیا؟</h2> مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین کہ ساس کو یعنی عورت کی والدہ کو شہوت کے ساتھ چھوا یا بوسہ لیا تو کیا بیوی نکاح سے نکل گئی صاف صاف مسئلہ بیان کرکے عنداللہ ماجور ہوں۔ المستفتی: عبداللہ ساکن بنارس یوپی انڈیا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> اگر ساس کو چھونے یا بوسہ لینے میں درمیان میں ایسا کپڑا حائل نہ ہو جو مانع حرارت ہو اور اس کے سبب شہوت ہوئی یا شہوت تھی تو اور زیادہ ہوگئی اور اس شہوت کے سبب انزال نہ ہوا تو بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہوگئی اور نکاح فاسد ہوگیا لیکن نکاح سے نہ نکلی شوہر پر واجب ہے کہ عورت سے متارکہ کرے یعنی اسے چھوڑ دے، مثلا کہے میں نے تجھے چھوڑا، اس کے بعد عورت عدت پوری کرکے دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: اس میں شک نہیں کہ اپنی منکوحہ کی ماں کے جسم کوبنظر شہوت کسی جگہ ہاتھ لگانے سے گونکاح زائل نہیں ہوتا مگر عورت ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہوجاتی ہے۔ اور اس شخص پر واجب ہوتا ہے کہ اسے چھوڑ دے لیکن اس قدر ضرور ہے کہ مس بحالت شہوت ہو یعنی ہاتھ لگانے کے وقت ہی معا نعوظ (یعنی عضو تناسل کا قائم ہونا) پیدا ہو یا پہلے سے نعوظ تھا تو ایسی حالت میں زائد ہوجائے ورنہ اگر جس وقت مس کیا نعوظ نہ تھا جب مس ختم ہوچکا اس کے بعد پیداہوا یا نعوظ پہلے سے تھا اور مس کرنے میں کچھ زیادہ نہ ہوا بدستور رہا توحرمت نہ ہوگی.....اسی طرح یہ بھی ضرور ہے کہ مس برہنہ جسم پر ہو یا کسی ایسے باریک کپڑے پرسے کہ عورت کے جسم کی حرارت اس کے ہاتھ کو پہنچنے سے مانع نہ ہو، " اھ (فتاوی رضویہ جدید ملخصا، ج١١، ص٣٢١و ٣٢٢، کتاب النکاح، باب المحرمات، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) در مختار مع رد المحتار میں ہے: "هذا اذا لم ينزل فلو انزل مع مس او نظر فلا حرمة به يفتي ابن كمال وغيره" اھ (ج٤، ص١٠٩، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات،  مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض) یعنی حرمت تب ثابت ہوگی جب انزال نہ ہوا ہو، اور اگر مس یا نظر کے وقت شہوت سے انزال ہوجائے تو حرمت ثابت نہ ہوگی، اسی پرفتوی ہے۔ ابن کمال وغیرہ کا۔ اسی میں ہے: "وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتي لايحل التزوج بآخر إلا بعد المتاركة و انقضاء العدة" اھ (ج٤، ص١١٤، کتاب النکاح، فصل في المحرمات، مطبوعه دار عالم الكتب الرياض) یعنی حرمت مصاہرت سے نکاح نہیں ختم ہوتا کہ دوسرے سے نکاح کرنا جائز ہوجائے مگر متارکہ کردینے پھر عدت گزر جانے کے بعد۔ اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: " نکاح زائل نہ ہوا، زید پر لازم ہے کہ عورت سے متارکہ کرے یعنی اسے چھوڑ دے، مثلا کہے میں نے تجھے چھوڑ ا، اس کے بعد عورت عدت کرے اس کے بعد دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے" اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج١١، ص٥٠٩، کتاب النکاح، باب المحرمات، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ <strong>کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔</strong> <strong>صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...