Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1987 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.1K Views

ٹخنوں کے نیچے لنگی یا پاجامہ لٹکانا کیسا ہے

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ٹخنوں کے نیچے لنگی یا پاجامہ لٹکانا کیسا ہے

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ٹخنوں کے نیچے لنگی یا پاجامہ لٹکانا کیسا ہے 

سوال یہ ہے کہ ٹخنوں کے نیچے لنگی یا پاجامہ لٹکانا کیسا ہے نیز ایسی صورت میں نماز ھوگی یا نہیں حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔سائل :- عابد رضا نظامی مہراجگنجوی ، بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بتوفیق الملک الوھاب صورت مسؤلہ میں اگر بطور تکبر یا بطور فیشن نیچے ہے تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے ورنہ مکروہ تنزیہی اور یہ بھی تب جب کہ کپڑا پاشنہ یعنی ایڑی کی جانب نیچے ہو لیکن اگر پیچھے ٹخنوں سے اوپر ہو مگر آگے انگلیوں کی طرف نیچے پیر پر ہو تو کوئی کراہت نہیں ۔ فتاوی عالمگیری” میں ہے إسبال الرجل إزارہ أسفل من الکعبین إن لم یکن للخیلاء ففيه کراھة تنزیه کذا فی الغرائب (فتاویٰ عالمگیری ج ٥ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع ص ٤١١/دار الکتب العلمیہ) صدرالشريعہ بدر الطريقہ مفتى محمد امجد على اعظمى عليہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں مرد کو ایسا پاجامہ پہننا جس کے پائنچے کے اگلے حصے پشت قدم پر رہتے ہوں مکروہ ہے کپڑوں میں اسبال یعنی اتنا نیچا کرتا، جبہ، پاجامہ، تہبند، پہننا کہ ٹخنے چھپ جائیں ممنوع ہے یہ کپڑے آدھی پنڈلی سے لے کر ٹخنے تک ہوں یعنی ٹخنے نہ چھپنے پائیں ( بہار شریعت ج ٣ ح ص ٤١٧/مجلس المدینۃ العلمیہ) فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے پائنچہ یا پینٹ سے ٹخنہ چھپا رہے اس کی دو صورتیں ہیں اگر تکبر کی وجہ سے ہو تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی ورنہ تنزیہی (فتاویٰ فقیہ ملت ج ١ ص ١٧٨) (ایسا ہی فتاویٰ رضویہ قدیم ج ٣ ص٤٤٨ میں ہے) شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں۔ ٹخنے سے نیچے اگر پائجامہ یا تہبند تکبراً ہے تو حرام وگناہ ہے اور اس کا مرتکب فاسق معلن ، اس سے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے جس کا دہرانا واجب ہے۔ اور اگر بطور فیشن ہے تو بھی یہی حکم ہے کہ یہ فساق کی وضع ہےاور فساق کی وضع اختیار کرنا حرام۔ اور آج کل ٹخنے سے نیچے پائجامہ رکھنے والے اسی قسم کے ہیں خواہ وہ عالم کہلائیں یا حافظ یا امام۔ اللہ تعالی مسلمانوں کی حفاظت فرمائے ۔اور اگر یہ صورت ہے کہ وہ پائجامہ یا تہبند باندھتا ہے ٹخنوں کے اوپر ، لیکن پھر وہ از خود سرک کر بلا قصد واختیار نیچے ہو جاتا ہے تو معاف ہے (فتاوی جامعہ اشرفیہ، ج٥، ص٧٠١) اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں ازار کا گٹوں سے نیچے رکھنا اگر برائے تکبر ہو حرام ہے اور اس صورت میں نماز مکروہ تحریمی ورنہ صرف مکروہ تنزیہی، اور نماز میں بھی اس کی غایت اولی (فتاوی رضویہ، ج٧، ص٣٨٨، مسئلہ ١٠١٩) نیز فرماتے ہیں۔ بالجملہ اسبال اگر براہ عجب و تکبر ہے حرام ورنہ مکروہ اور خلاف اولٰی، نہ حرام مستحق وعید، اور یہ بھی اسی صورت میں ہے کہ پائچے جانب پاشنہ نیچے ہوں، اور اگر اس طرف کعبین سے بلند ہیں گو پنجہ کی جانب پشت پا پر ہوں ہر گز کچھ مضائقہ نہیں۔ اس طرح کا لٹکانا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بلکہ خود حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ہے (ایضا، ج٢٢، ص١٦٧، مسئلہ ٢٨) واللہ تعالیٰ ورسولہ اعلم باالصواب ، کتبہ:مفتی منظورالقادری

Kutubahu & Verified by:

<h2><span style="font-size: 14pt;">ٹخنوں کے نیچے لنگی یا پاجامہ لٹکانا کیسا ہے </span></h2> <span style="font-size: 14pt;">سوال یہ ہے کہ ٹخنوں کے نیچے لنگی یا پاجامہ لٹکانا کیسا ہے نیز ایسی صورت میں نماز ھوگی یا نہیں حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔</span><span style="font-size: 14pt;">سائل :- عابد رضا نظامی مہراجگنجوی ،</span> <span style="font-size: 14pt;">بسم اللہ الرحمن الرحیم </span> <span style="color: #ff0000;"><strong><span style="font-size: 14pt;">الجواب بتوفیق الملک الوھاب</span></strong></span> <span style="font-size: 14pt;"> صورت مسؤلہ میں اگر بطور تکبر یا بطور فیشن نیچے ہے تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے ورنہ مکروہ تنزیہی اور یہ بھی تب جب کہ کپڑا پاشنہ یعنی ایڑی کی جانب نیچے ہو لیکن اگر پیچھے ٹخنوں سے اوپر ہو مگر آگے انگلیوں کی طرف نیچے پیر پر ہو تو کوئی کراہت نہیں ۔ </span> <span style="font-size: 14pt;">فتاوی عالمگیری'' میں ہے</span> <span style="font-size: 14pt;">إسبال الرجل إزارہ أسفل من الکعبین إن لم یکن للخیلاء ففيه کراھة تنزیه کذا فی الغرائب</span> <span style="font-size: 14pt;">(فتاویٰ عالمگیری ج ٥ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع ص ٤١١/دار الکتب العلمیہ)</span> <span style="font-size: 14pt;">صدرالشريعہ بدر الطريقہ مفتى محمد امجد على اعظمى عليہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں مرد کو ایسا پاجامہ پہننا جس کے پائنچے کے اگلے حصے پشت قدم پر رہتے ہوں مکروہ ہے کپڑوں میں اسبال یعنی اتنا نیچا کرتا، جبہ، پاجامہ، تہبند، پہننا کہ ٹخنے چھپ جائیں ممنوع ہے یہ کپڑے آدھی پنڈلی سے لے کر ٹخنے تک ہوں یعنی ٹخنے نہ چھپنے پائیں</span> <span style="font-size: 14pt;">( بہار شریعت ج ٣ ح ص ٤١٧/مجلس المدینۃ العلمیہ)</span> <span style="font-size: 14pt;">فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے پائنچہ یا پینٹ سے ٹخنہ چھپا رہے اس کی دو صورتیں ہیں اگر تکبر کی وجہ سے ہو تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی ورنہ تنزیہی</span> <span style="font-size: 14pt;">(فتاویٰ فقیہ ملت ج ١ ص ١٧٨)</span> <span style="font-size: 14pt;">(ایسا ہی فتاویٰ رضویہ قدیم ج ٣ ص٤٤٨ میں ہے)</span> <span style="font-size: 14pt;">شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں۔</span> <span style="font-size: 14pt;">ٹخنے سے نیچے اگر پائجامہ یا تہبند تکبراً ہے تو حرام وگناہ ہے اور اس کا مرتکب فاسق معلن ، اس سے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے جس کا دہرانا واجب ہے۔</span> <span style="font-size: 14pt;">اور اگر بطور فیشن ہے تو بھی یہی حکم ہے کہ یہ فساق کی وضع ہےاور فساق کی وضع اختیار کرنا حرام۔ اور آج کل ٹخنے سے نیچے پائجامہ رکھنے والے اسی قسم کے ہیں خواہ وہ عالم کہلائیں یا حافظ یا امام۔ اللہ تعالی مسلمانوں کی حفاظت فرمائے ۔اور اگر یہ صورت ہے کہ وہ پائجامہ یا تہبند باندھتا ہے ٹخنوں کے اوپر ، لیکن پھر وہ از خود سرک کر بلا قصد واختیار نیچے ہو جاتا ہے تو معاف ہے (فتاوی جامعہ اشرفیہ، ج٥، ص٧٠١)</span> <span style="font-size: 14pt;">اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں ازار کا گٹوں سے نیچے رکھنا اگر برائے تکبر ہو حرام ہے اور اس صورت میں نماز مکروہ تحریمی ورنہ صرف مکروہ تنزیہی، اور نماز میں بھی اس کی غایت اولی (فتاوی رضویہ، ج٧، ص٣٨٨، مسئلہ ١٠١٩)</span> <span style="font-size: 14pt;">نیز فرماتے ہیں۔</span> <span style="font-size: 14pt;">بالجملہ اسبال اگر براہ عجب و تکبر ہے حرام ورنہ مکروہ اور خلاف اولٰی، نہ حرام مستحق وعید، اور یہ بھی اسی صورت میں ہے کہ پائچے جانب پاشنہ نیچے ہوں، اور اگر اس طرف کعبین سے بلند ہیں گو پنجہ کی جانب پشت پا پر ہوں ہر گز کچھ مضائقہ نہیں۔ اس طرح کا لٹکانا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بلکہ خود حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ہے</span> <span style="font-size: 14pt;">(ایضا، ج٢٢، ص١٦٧، مسئلہ ٢٨)</span> <span style="font-size: 14pt;">واللہ تعالیٰ ورسولہ اعلم باالصواب ،</span> <strong><span style="font-size: 14pt;">کتبہ:مفتی منظورالقادری</span></strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...