Fatwa #2031
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
جب بچے کی ولادت ہو تو اس کے کس کان میں اذان اور کس میں اقامت پڑھنی چاہیے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh
تاریخ: September 18, 2025
0
6,898
سوال (Question):
جب بچے کی ولادت ہو تو اس کے کس کان میں اذان اور کس میں اقامت پڑھنی چاہیے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جب بچے کی ولادت ہو تو اس کے کس کان میں اذان اور کس میں اقامت پڑھنی چاہیے؟
الجـــــوابــــــــــــ” بعون الملک الوھّاب جب بچے کی ولادت ہو تو اس کے داہنے(سیدھے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے یہی طریقہ حدیث شریف سے ثابت ہے، (امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ،اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں، جب بچہ پیدا ہو تو فوراً سیدھے کان میں اذان ،بائیں میں تکبیر کہے کہ خلل شیطان و اُمُّ الصِبْیَان سے بچے- (فتاویٰ رضویہ جلد24صفحہ453-مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور واللہ اعلم عزوجل و ر سولہ اعلم ﷺ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh