Fatwa #2065
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
مسجد کا مکان بینک کو کرایہ پر دینا کیسا ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,031
سوال (Question):
مسجد کا مکان بینک کو کرایہ پر دینا کیسا ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مسجد کا مکان بینک کو کرایہ پر دینا کیسا ؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں مسجد کے باہر مسجد کی کچھ دکانیں ہیں جو مسجد میں آمدنی کا ذریعہ ہیں تو کیا ان دکانوں کے اوپر کے حصے میں مسجد کی آمدنی کے لئے بینک بنانے کے لئے جگہ کرایہ پر دیا جاسکتا ہے ایسا کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں مدلل جواب عنایت فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں۔ المستفتی: معین اشرفی میرانی کڈیا جمعہ مسجد کٹھلال بڑودہ گجرات انڈیا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب اگر مکان موقوف کا کسی طرح کا کوئی نقصان نہ ابھی ہو نہ بعد میں مظنون بظن غالب تو بینک کھولنے کے لئے کرایہ پر دینا جائز ہے کہ بینک کھولنا گناہ نہیں اور بینک جو بھی حرام کاروبار کرے اس کا وبال اسی کے سر ہے دوسرے پر نہیں قرآن مجید میں ہے: وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی (سورۃالزمر:٧) ترجمہ: اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی(کنزالایمان) فتاوی عالمگیری میں ہے: ” اذا استاجر الذمي من المسلم دارا ليسكنها فلا باس بذلك وان شرب فيها الخمر و عبد فيها الصليب او ادخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم” اھ (ج٤، ص٤٥٠، کتاب الاجارۃ، الباب السادس عشر فی مسائل الشیوع فی الاجارۃ۔۔۔، مطبوعہ دار صادر بیروت) یعنی جب ذمی نے مسلمان سے رہائش کے لئے مکان کرایہ پر لیا تو کوئی حرج نہیں اگر چہ وہ مکان میں شراب نوشی کرے یاصلیب کی پوجا کرے یا اس میں خنزیر لائے، اس کا بوجھ مسلمان پرنہ ہوگا کیونکہ اس نے اس ارادہ سے کرایہ پر نہیں دیا اس نے تو رہائش کےلئے دیا ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال ہوا “مسلمان اپنا مکان شراب بیچنے کے لئے اور شراب نوشی کے لئے کرایہ سے دے تو درست ہے یا نہیں؟ اور اس کی ایسی کمائی کا کھانا دوسرے مسلمان کے لئے درست ہے یانہیں؟” جواباً تحریر فرمایا: “مسلمان مکان کرایہ پر دے اس کی غرض کرایہ سے ہے، اور اعمال نیات پر ہیں، یہ نیت کیوں کرے کہ اس لئے دیتاہے کہ اس میں شراب نوشی و شراب فروشی ہو، ایسی حالت میں کرایہ اس کے لئے حلال اور اس کے یہاں کھانا کھانے میں حرج نہیں، ہاں جو اس حرام نیت کو شامل کرلے وہ اب خود ہی گنہگار بنتاہے” اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج١٩، ص٥٠١، کتاب الاجارۃ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ ٨شعبان المعظم ٤٤٤١ھ مطابق ١مارچ ٣٢٠٢ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9