صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2083 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

دکان کے سامان پر زکاۃ واجب ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,045

سوال (Question):

دکان کے سامان پر زکاۃ واجب ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

دکان کے سامان پر زکاۃ واجب ہے؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ دکان میں فروخت کرنے کا جو سامان موجود ہے کیا اس پر بھی زکوۃ ہے نيز زید نے قرض لیکر دکان کا سامان خریدا کیا اس پر زکوٰۃ ہے؟ المستفتی عادل رضا قادری آنولہ بریلی شریف یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں دکان کے سامان پر زکاۃ واجب ہے جبکہ قرض نکالنے پر اس کی قیمت نصاب کو پہنچتی ہو اور اس پر سال گزر چکا ہو۔ اعلی حضرت رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں: ” مالِ تجارت جب تک خود یا دوسرے مالِ زکوٰۃ سے مل کر قدرِ نصاب اور حاجتِ اصلیہ مثل دین وغیرہ سے فاضل رہے گا ہر سال اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی” اھ (فتاوی رضویہ مترجم, ج١٠, ص١٥٩, کتاب الزکاۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) بہار شریعت میں ہے: ” نصاب کا مالک ہے مگر اس پر دین ہے کہ ادا کرنے کے بعد نصاب نہیں رہتی تو زکاۃ واجب نہیں ” اھ (حصہ٥, ص٨٧٨, زکاۃ کا بیان , مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔٢٠ رمضان المبارک ١٤٤٣ھ مطابق ٢٢اپریل ٢٠٢٢ھ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh