جھوٹی قسم کھانے (یمینِ غموس) کا کفارہ اور گناہ
سوال (Question):
اگر کسی نے جان بوجھ کر کسی پچھلے واقعے پر جھوٹی قسم کھائی تو کیا کفارہ ہے؟
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کسی ماضی کے واقعے پر جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانا یمین غموس کہلاتا ہے جو بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔ اس کا کوئی مالی کفارہ نہیں اس پر سچے دل سے توبہ اور استغفار کرنا فرض ہے۔ واللہ اعلم۔