صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2146 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

سورہ بقرہ آیت نمبر ۷۶۔۷۷ کی تفسیر ۔ از تفسیر ناموس رسالت

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,465

سوال (Question):

سورہ بقرہ آیت نمبر ۷۶۔۷۷ کی تفسیر ۔ از تفسیر ناموس رسالت

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

یہودیوں کاخفیہ طور پر رسول اللہ ﷺکی گستاخیاں کرنااوررب تعالی کاان کے راز افشاء کرنا

{وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَ اِذَا خَلَا بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ قَالُوْٓا اَتُحَدِّثُوْنَہُمْ بِمَا فَتَحَ اللہُ عَلَیْکُمْ لِیُحَآجُّوْکُمْ بِہٖ عِنْدَ رَبِّکُمْ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ}(۷۶)اَوَلَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ}(۷۷) ترجمہ کنزالایمان:اور جب مسلمانوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب آپس میں اکیلے ہوں تو کہیں وہ علم جو اللہ نے تم پر کھولا مسلمانوں سے بیان کئے دیتے ہو کہ اس سے تمہارے رب کے یہاں تمہیں پر حجت لائیں کیا تمہیں عقل نہیں ۔کیا نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اورجب وہ مسلمانوں سے ملتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان لے آئے ہیں اورجب وہ اکیلے ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ ارے جو علم اللہ تعالی نے تم پر کھولاہے وہ تم مسلمانوں پر بیان کرتے ہو، اس طرح تووہ تمھارے خلاف عنداللہ دلیل قائم کریں گے ، ان باتوں سے ۔ کیاتم اتنابھی نہیں سمجھتے ۔کیاوہ یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالی تووہ بھی جانتاہے جو وہ چھپاتے ہیں اوروہ بھی جانتاہے جو کچھ ظاہرکرتے ہیں۔ جب منافقین اپنے ہم مشرب کفارکے ساتھ ملتے تو وہ ان کو ڈانٹتے تھے اوران کو ملامت کرتے اوران کو دھمکاتے تھے کہ ہم لوگوں نے جو باتیں اہل اسلام سے چھپارکھی ہیں تم وہ سب باتیں جاکر اہل اسلام کو بطورخوشامد بیان کردیتے ہواور اپنی کتابیں اورپیشینگوئیوں کاذکرکرکے اپنے اوپراتمام ِحجت کرتے ہو۔ یہ طریقہ ہر گزدرست نہیں ہے اورہماری ملت اورمذہب کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے ، یہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص خود کو اپنی چھری سے ذبح کرلے ، اب اس کانتیجہ یہ ہوگاکہ جب قیامت کادن ہوگاتویہی لوگ اللہ تعالی کی بارگاہ میں تمھارے خلاف حجت پیش کریں گے اورتم وہاں لاجواب ہوجائو گے ، تم لوگ اتنی بڑی اورصاف بات بھی نہیں سمجھتے ، اپنابھیت کسی پر بھی عیاں نہیں کرناچاہئے۔ اسی لئے اللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم ﷺکو تسلی دی کہ یہودیوں کی بے دینی یہاں تک پہنچی ہوئی ہے کہ وہ ایمان وکفرکو ایک سرسری بات جانتے ہیں ، پس جب مسلمانوں کو ملتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اورجب اپنے کافروں کے پاس جاتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہم توآپ کے ساتھ ہیں اوروہ ان منافقین کو کہتے ہیں کہ وہ مسائل جوہماری کتب میں موجود ہیں جن سے رسول اللہ ﷺکی نبوت کی تصدیق ہوتی ہے وہ ان کے سامنے بیان نہ کروکہ کہیں اللہ تعالی کی بارگاہ میں تمھارے خلاف حجت قائم نہ کریں ۔ اللہ تعالی ان کو جواب دیتاہے کہ یہ لوگ کیسے ان مسائل کو چھپاسکتے ہیں حالانکہ میں ان کے ظاہری وباطنی سب احوال کو جانتاہوں۔

یہودیوں نے نفاق کیوں اختیارکیا؟

قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا یَدْخُلَنَّ عَلَیْنَا قَصَبَۃَ الْمَدِینَۃِ إِلَّا مُؤْمِنٌ فَقَالَ رُؤَسَاؤُہُمْ مِنْ أَہْلِ الْکُفْرِ وَالنِّفَاقِ: اذْہَبُوا فَقُولُوا آمَنَّا، وَاکْفُرُوا إِذَا رَجَعْتُمْ. قَالَ: فَکَانُوا یَأْتُونَ الْمَدِینَۃَ بِالْبَکَرِ وَیَرْجِعُونَ إِلَیْہِمْ بَعْدَ الْعَصْرِ۔ ترجمہ :ابن جریر نے ابن زید رحمہ اللہ تعالی سے روایت کیاہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مدینہ منورہ میں سوائے مومن کے کوئی بھی داخل نہ ہو، تویہودیوں کے سرداروں نے اپنے چھوٹوں کو کہاکہ تم جائواورتم کہناکہ ہم بھی مسلمان ہوگئے ہیں اورجب لوٹ کرآناتو انکارکردینا، وہ صبح کے وقت آتے اورکہتے کہ ہم بھی مومن ہیں اورعصرکے وقت جاتے ہوئے انکارکردیتے تھے۔ (جامع البیان عن تأویل آی القرآن: محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۲:۱۴۹)

یہودیوں کوکس چیز کاخوف لاحق تھا؟

وَأخرج ابْن جریر وَابْن أبی حَاتِم عَن السّدیّ قَالَ: نزلت ہَذِہ الْآیَۃ فِی نَاس من الْیَہُود آمنُوا ثمَّ نافقوا فَکَانُوا یحدثُونَ الْمُؤمنِینَ من الْعَرَب بِمَا عذبُوا بِہِ فَقَالَ بَعضہم لبَعض (أتحدثونہم بِمَا فتح اللہ عَلَیْکُم)من الْعَذَاب لِیَقُولُوا نَحن أحب إِلَی اللہ مِنْکُم وَأکْرم علی اللہ مِنْکُم ترجمہ:امام السدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جوایمان لائے اورپھرمنافقانہ طرز اپنایا،وہ خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے بیان کرتے تھے کہ کن وجوہ کی بناء پر انہیں عذاب دیاگیاتھاپھروہ ایک دوسرے کوکہتے کہ تم عذاب کے متعلق ان کو نہ بتایاکروکیونکہ پھرمسلمان کہیں گے کہ ہم تم یہودیوں سے افضل اورعنداللہ معزز ہیں ۔ (زاد المسیر فی علم التفسیر:جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی (ا:۹۱) ان کی پوشیدہ گستاخیاں بھی اللہ تعالی جانتاہے وَأخرج ابْن جریر عَن أبی الْعَالِیَۃ فِی قَوْلہ (أَو لَا یعلمُونَ أَن اللہ یعلم مَا یسرون) یَعْنِی من کفرہم بِمُحَمد وتکذیبہم بِہِ (وَمَا یعلنون) حِین قَالُوا للْمُؤْمِنین: آمنا۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام ابوالعالیہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے اس فرمان شریف {أَو لَا یعلمُونَ أَن اللہ یعلم مَا یسرون}کامعنی یہ ہے کہ جو وہ رسول اللہ ﷺکاانکارکرتے ہیں اوررسول اللہ ﷺکی تکذیب کرتے ہیں اللہ تعالی اس کوبھی جانتاہے اورجو وہ مسلمانوں سے ملاقات کے وقت یہ کہتے ہیں کہ ’’ہم ایمان لے آئے ہیں‘‘ اللہ تعالی اس کو بھی جانتاہے ۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن ، الرازی ابن أبی حاتم (۱:۱۵۱)

یہودیوں کاراز کب فاش ہوا؟

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالسُّدِّیِّ وَقِیلَ:إِنَّ عَلِیًّا لَمَّا نَازَلَ قُرَیْظَۃَ یَوْمَ خَیْبَرَ سَمِعَ سَبَّ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی فَانْصَرَفَ إِلَیْہِ وَقَالَ:یَا رَسُولَ اللَّہِ، لَا تَبْلُغْ إِلَیْہِمْ، وَعَرَضَ لَہُ، فَقَالَ:أَظُنُّکَ سَمِعْتَ شَتْمِی مِنْہُمْ لَوْ رَأَوْنِی لَکَفُّوا عَنْ ذَلِکَ وَنَہَضَ إِلَیْہِمْ، فَلَمَّا رَأَوْہُ أَمْسَکُوا، فَقَالَ لَہُمْ:(أَنَقَضْتُمُ الْعَہْدَ یَا إِخْوَۃَ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیرِ أَخْزَاکُمُ اللہ وأنزل بکم نقمتہ)فقالوا:مَا کُنْتَ جَاہِلًا یَا مُحَمَّدُ فَلَا تَجْہَلْ عَلَیْنَا، مَنْ حَدَّثَکَ بِہَذَا؟ مَا خَرَجَ ہَذَا الْخَبَرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِنَا! ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس اورالسدی رضی اللہ عنہم فرماتے ہیںکہ حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ خیبرکے غزوہ میں بنوقریظہ کے یہودیوں کے پاس تشریف لے گئے ، توآپ رضی اللہ عنہ نے سناکہ وہ رسول اللہ ﷺکی گستاخیاں کررہے تھے، حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺکی خدمت اقدس میں آئے اورعرض گزارہوئے کہ یارسول اللہ ﷺ! آپ ﷺانہیں تبلیغ نہ فرمائیں ، آپ ﷺنے اپناچہرہ مبارکہ پھیرلیا، اے علی ! میراگمان ہے کہ وہ میری شان میں گستاخیاں کررہے ہیں ، مولاعلی رضی اللہ عنہ نے اثبات میں جواب دیا، پھررسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے علی ! جب وہ مجھے دیکھیں گے تو اپنی بکواس سے رک جائیں گے ، آپ ﷺیہودیوں کے پاس تشریف لے گئے، جیسے ہی انہوںنے رسول اللہ ﷺکو دیکھافوراً خاموش ہوگئے ۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے بندروں اورخنزیروں کی اولاد ! تم نے عہدتوڑدیاہے ، اللہ تعالی تم کو ذلیل کرے اورتم پر عذاب نازل فرمائے ، پھران یہودیوں نے کہا: اے محمدﷺ! آپ توایسی باتیں نہیں کرتے تھے ، یہ کیاکیاہے آپ (ﷺ) نے ، جب رسول اللہ ﷺنے ان کے متعلق خبردی تو وہ کہنے لگے کہ آپﷺکوکس نے بتایاہے ، پھرکہنے لگے کہ یہ خبرہماری طرف سے ہی نکلی ہے ۔ یہی معنی امام مجاہد رضی اللہ عنہ نے بیان کئے ہیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۳) رسول اللہ ﷺنے جب ان کویہ فرمایاکہ اے بندروں اورخنزیروں کی اولاد تووہ سمجھ گئے کہ ان کوپتہ چل گیاہے کہ ان کے بڑوں پر عذاب آیاتھااوراللہ تعالی نے ان کے بڑوں کو بندراورخنزیربنایاتھا۔

معارف ومسائل

(۱) اس سے معلوم ہواکہ دنیامیں کفرونفاق کاوہ دورگزرگیاجب لوگ جہالت اوربے علمی کی وجہ سے کفروشرک اورنفاق اورگمراہی میں مبتلاتھے ، موجودہ دور میں جہالت ونادانی کی وجہ سے کفراوربے ایمانی کانام ونشان نہیں ہے ، اب کفروضلالت کی بنیاد صرف اورصرف ہٹ دھرمی اوربغض وعناد اورضدہی پرہے اوریہ بات بھی اظہرمن الشمس ہے کہ سارے کفارومنافقین اپنے کفرونفاق اوراپنے مذہب کے بطلان سے اچھی طرح واقف ہیں، اسی وجہ سے وہ اپنے کفریہ معتقدات کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اورکبھی بھی اپنے کفریہ معتقدات تک دوسرے مذہب والوں کو رسائی تک نہیں ہونے دیتے تاکہ ان کے پیروکار ان سے منتشرنہ ہوجائیں ۔ (۲) جس طرح علماء یہود کے کردار کو ان کاکوئی سادہ لوح بے وقوف شخص مسلمانوں کے سامنے بیان کرے یااپناکوئی خصوصی کفریہ عقیدہ بیان کرے گاتوان کے ذمہ داران اورمذہبی پیشوااسے سختی سے منع کریں گے اوراسے مجرم جانیں گے اوراس کو خوب ملامت کریں گے کہ تم نے یہ کیاکیاکہ اپناہتھیار دشمن کے ہاتھ دے دیا؟ جس سے بآسانی وہ تمھیں شکارکرلے گااوربحث ومباحثہ میں لاجواب کردے گا۔ (۳) آج جتنے بھی باطل فرقے ہیں ان میں کوئی بھی ایسافرقہ نہیں ہے جس کی جڑیں اندرونی طورپر یہودیوں کے ساتھ نہ ملتی ہوں۔ (۴) اس سے معلوم ہواکہ کوئی بھی مومن رسول اللہ ﷺکی گستاخی سن کر برداشت نہیں کرسکتا۔ (۵) آجکل کے جاہل پیرجو خودکو مولاعلی رضی اللہ عنہ کاپیروکارکہتے ہیں اورساتھ ساتھ گستاخوں کی طرف سے کی جانے والی گستاخیاں خاموشی سے اورٹھنڈے دل کے ساتھ سن لیتے ہیں۔ ان کو حیاء کرنی چاہئے یاتوگستاخوں کے خلاف لڑیں یاپھرخود کو مولاعلی رضی اللہ عنہ کاغلام نہ کہیں۔ (۶) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺکی گستاخیاں کرنایہودیوںکا پراناوطیرہ ہے ۔ آج جویہودی رسول اللہ ﷺکی گستاخیاں کرتے ہیں یہ انہیں کی نسل ہے ۔ (۷) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جو شخص رسول اللہ ﷺکی گستاخیاں کرے ان کو خنزیراوربندرکی اولاد کہنابالکل جائز ہے ۔ (۸) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جو شخص رسول اللہ ﷺکی گستاخی کرے اس کے خلاف غصہ کااظہاکرنااوراس سے بدلہ لینامیرے کریم آقاﷺکی سنت ہے ۔ (۹) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ یہودی انتہائی کوڑھ مغز تھے اس امکان کی طرف انکاذہن نہیں جاتاتھاکہ رسول اللہ ﷺکااللہ تعالی کے ساتھ تعلق واقعی ہی کچھ ہے ،یہ کتنی دیر چھپالیں گے بالآخراللہ تعالی ان پر عیاں فرمادے گا۔ یہ ذہن میں رہے کہ یہ مرض صرف اس وقت کے یہودیوں میں ہی نہیں تھابلکہ آجکل کے یہودی اوردین دشمن طبقہ بعینہ انہیں کی طرح کوڑھ مغزہیں کہ ان کاذہن بھی اس طرف نہیں جاتاکہ قرآن کریم انسانی تصنیف کے بجائے اللہ تعالی کی کتاب ہونے کے دعوی میں نہایت ہی سچی کتاب ہے اورمسلمان اللہ تعالی کی کتاب تومانتے ہیں لیکن صرف ثواب آخرت کے لئے اس کی تلاوت کرتے ہیں لیکن دنیوی زندگی کے لئے ایک قانون الہی کی کتاب کے طورپر انہوں نے بھی شایددل سے تسلیم نہیں کیا، یہی وجہ ہے آج من حیث القوم وہ دنیامیں ذلیل ورسواہورہے ہیں ۔ (۱۰) یہودیوں کازبانی اقرارکرنااورپھرایمان نہ لاناان کے لئے قیامت کے دن انتہائی ذلت ورسوائی کاسامان ہوگا، جیسے کوئی شخص زبانی اقرارکرلینے یادستاویز لکھ کردینے کے بعد حاکم کے سامنے انکارکرے توزیادہ رسوائی ہے اوراگرحاکم کومعلوم ہواورگواہ بھی موجود ہوں مگراس شخص نے اقرارنہ کیاتو حاکم کے سامنے انکارکرنے سے رسواتوہوگامگراتنانہیں جتنااقرارکرنے کے بعد ہوگا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh